دو دمڑیاں
خدا کی بادشاہت کی حمایت کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم عطیات دیں۔ لیکن اگر ہماری اِتنی آمدنی نہیں کہ ہم زیادہ عطیات دے سکیں تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
ایک دفعہ یسوع مسیح نے ایک غریب بیوہ کو ہیکل کے خزانے میں ”دو دمڑیاں“ ڈالتے دیکھا۔ اِن سکوں کی قدر بہت کم تھی۔ لیکن یہوواہ خدا سے محبت کی وجہ سے اِس بیوہ نے ”اپنی ناداری کی حالت میں جو کچھ اِس کا تھا یعنی اپنی ساری روزی ڈال دی۔“ (مر ۱۲:۴۱-۴۴) یسوع مسیح نے اِس بیوہ کے عطیے کا ذکر کِیا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کی نظر میں اُس بیوہ کے عطیے کی بہت قدر تھی۔ اُس بیوہ کی طرح پہلی صدی کے مسیحی بھی عطیات دینے کو ایک شرف خیال کرتے تھے۔ وہ یہ نہیں سوچتے تھے کہ عطیات دینا صرف امیر مسیحیوں کی ذمہداری ہے۔ پولس رسول نے مکدنیہ کے مسیحیوں کی مثال دی جنہوں نے ”سخت غریبی“ کے باوجود ”مقدور کے موافق بلکہ مقدور سے بھی زیادہ اپنی خوشی سے دیا۔“—۲-کر ۸:۱-۴۔
لہٰذا اگر ہماری اِتنی گنجائش نہیں ہے کہ ہم زیادہ عطیہ ڈال سکیں تو بھی ہمیں اُس بیوہ کی طرح کچھ نہ کچھ ضرور ڈالنا چاہئے۔ یاد رکھیں کہ قطرہقطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔ اگر ہم دل سے عطیات دیتے ہیں تو ہمارا مہربان آسمانی باپ خوش ہوگا کیونکہ ”خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“—۲-کر ۹:۷۔