تعلیم دیـنے میں مہارت حاصل کرنے کے لئے تین مشورے
۱. ہمیں تعلیم دینے کے کام میں مہارت کیوں حاصل کرنی چاہئے؟
۱ سب یہوواہ کے گواہ اُستاد ہیں۔ چاہے ہم لوگوں سے پہلی بار ملیں، اُن سے دوبارہ ملاقات کریں یا پھر اُن کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کریں، ہم اُنہیں تعلیم دیتے ہیں۔ یہ تعلیم بہت ہی خاص ہے کیونکہ ہم لوگوں کو ”پاک نوشتوں سے واقف“ کراتے ہیں تاکہ وہ ”نجات حاصل کرنے کے لئے دانائی“ حاصل کر سکیں۔ (۲-تیم ۳:۱۵) یہ بڑے اعزاز کی بات ہے۔ آئیں، تین مشوروں پر غور کریں جن پر عمل کرکے ہم تعلیم دینے کا کام زیادہ مہارت سے کر سکتے ہیں۔
۲. سادہ انداز میں تعلیم دینے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۲ سادہ انداز میں سکھائیں: شاید ہم ایک موضوع سے اچھی طرح واقف ہوں اور اِس لئے ہمیں اِسے سمجھنا آسان لگے۔ لیکن یاد رکھیں کہ جو شخص اِس موضوع کے بارے میں نہیں جانتا، اُس کے لئے اِسے سمجھنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ اِس لئے جب آپ دوسروں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں تو اُنہیں غیرضروری تفصیلات نہ بتائیں بلکہ اُن کی توجہ اہم نکات پر دِلائیں۔ اگر ایک شخص بہت بولتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اچھا اُستاد ہو۔ (امثا۱۰:۱۹) صرف اہم صحیفوں کو پڑھیں۔ ہر آیت کو پڑھنے کے بعد اُس حصے پر غور کریں جس کا موضوع کے ساتھ تعلق ہے۔ یسوع مسیح کی مثال پر غور کریں۔ اُنہوں نے متی ۵ سے ۷ باب میں پہاڑی وعظ پیش کِیا۔ اِس وعظ میں اُنہوں نے بہت سی گہری سچائیاں سادہ لفظوں میں بتائیں تاکہ لوگ اِنہیں آسانی سے سمجھ سکیں۔
۳. (الف) ہمیں لوگوں کو تعلیم دیتے وقت تمثیلوں اور تصویروں کا استعمال کیوں کرنا چاہئے؟ (ب) ہم کس طرح کی تمثیلیں استعمال کر سکتے ہیں؟
۳ تمثیلوں اور تصویروں کے ذریعے سکھائیں: تمثیلیں اور تصویریں لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، اُن کے احساسات پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور اِس طرح لوگ اُن باتوں کو زیادہ عرصے تک یاد رکھتے ہیں جو وہ سیکھتے ہیں۔ یہ نہ سوچیں کہ ”مجھے تو کہانی سنانی نہیں آتی تو مَیں تمثیلیں کیسے دوں گا؟“ یسوع مسیح نے لوگوں کو چھوٹیچھوٹی اور آسان تمثیلیں بتائی تھیں۔ (متی ۷:۳-۵؛ ۱۸:۲-۴) آپ سادہ سی تصویریں بنا کر بھی لوگوں کو سکھا سکتے ہیں۔ پہلے سے تیاری کریں تاکہ آپ ایسی تمثیلیں اور تصویریں استعمال کر سکیں جو لوگوں کے لئے مفید ہوں گی۔
۴. ہم مؤثر طریقے سے سوالوں کا استعمال کیسے کر سکتے ہیں؟
۴ سوالوں کا استعمال کریں: جب آپ لوگوں سے سوال پوچھتے ہیں تو اُنہیں سوچنے کے لئے وقت دیں۔ خود جواب نہ دیں کیونکہ اِس طرح آپ یہ نہیں جان پائیں گے کہ وہ کن باتوں کو سمجھ گئے ہیں اور کن کو نہیں۔ اگر وہ غلط جواب دیں تو فوراً اُن کی درستی نہ کریں بلکہ اُن سے کچھ اَور سوال پوچھیں تاکہ وہ صحیح جواب پر پہنچ سکیں۔ (متی ۱۷:۲۴-۲۷) بِلاشُبہ ہم سب کو اُستادوں کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اِس لئے بائبل میں ہمیں ہدایت دی گئی ہے: ”اپنی اور اپنی تعلیم کی خبرداری کر۔“ اِس سے ہم نہ صرف ’اپنی بلکہ اپنے سننے والوں کی بھی نجات کا باعث ہوں گے۔‘—۱-تیم ۴:۱۶۔