”حکمت اپنے کاموں سے راست ثابت“ ہوتی ہے
۱. بعض لوگ ہمارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
۱ بعض اوقات ہو سکتا ہے کہ مُنادی میں ملنے والے لوگ اچھا ردِعمل نہ دکھائیں۔ اِس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اُنہیں کسی نے یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں غلط معلومات دی ہیں یا شاید وہ ہماری بات کو نہیں سمجھتے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کی سوچ میڈیا کی افواہوں سے متاثر ہو۔ بعض جگہوں پر تو ہمیں ”خطرناک فرقہ“ کہا جاتا ہے۔ تاہم، ایسی باتوں کا سامنا کرتے وقت ہمارا ردِعمل کیا ہونا چاہئے؟
۲. مخالفت کا سامنا کرنے کے باوجود ہم کیسے بےحوصلہ ہونے سے بچ سکتے ہیں؟
۲ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں: پہلی صدی میں نہ صرف یسوع مسیح کو بلکہ یہوواہ خدا کے دیگر خادموں کو بھی اکثر غلط سمجھا جاتا تھا اور اُن کی مخالفت کی جاتی تھی۔ (اعما ۲۸:۲۲) لیکن اِس مخالفت کے باوجود وہ یہوواہ کی خدمت کرنے سے کبھی نہیں شرماتے تھے۔ یسوع مسیح نے کہا تھا کہ ”حکمت اپنے کاموں سے راست ثابت“ ہوتی ہے۔ (متی ۱۱:۱۸، ۱۹) یسوع مسیح خوشی سے اپنے باپ کی مرضی پوری کرتا رہا۔ اُسے یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن سچائی سے محبت رکھنے والے لوگ خوشخبری کی اہمیت کو ضرور سمجھیں گے۔ پس، یہ یاد رکھنا کہ خدا کے اپنے بیٹے نے لوگوں کی مخالفت کا سامنا کِیا ہمیں بےحوصلہ نہیں ہونے دے گا۔
۳. ہمیں لوگوں کی منفی باتوں اور مخالفت سے پریشان کیوں نہیں ہونا چاہئے؟
۳ یسوع مسیح نے بیان کِیا کہ جیسے دُنیا نے اُس سے عداوت رکھی اُسی طرح اُس کے پیروکاروں سے بھی عداوت رکھی جائے گی۔ (یوح ۱۵:۱۸-۲۰) اِس لئے ہمیں لوگوں کی منفی باتوں اور مخالفت سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ سچ تو یہ ہے کہ جوںجوں خاتمہ نزدیک آ رہا ہے شیطان کا قہر بڑھتا جا رہا ہے۔ اِس لئے ہم لوگوں کی طرف سے ایسی باتوں کی زیادہ توقع رکھ سکتے ہیں۔ (مکا ۱۲:۱۲) لیکن ہم خوش ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کی دُنیا بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔
۴. اگر کوئی شخص ہمارے پیغام کے لئے اچھا ردِعمل نہیں دکھاتا تو بھی ہمیں اُس کے ساتھ کیسے بات کرنی چاہئے؟
۴ ہمیشہ نرمی سے جواب دیں: ہمیں اُس وقت بھی لوگوں کو نرمی سے جواب دینا چاہئے جب وہ ہمارے پیغام کے لئے اچھا ردِعمل نہیں دکھاتے۔ (امثا ۱۵:۱؛ کل ۴:۵، ۶) اگر مناسب ہو تو اُس شخص کو سمجھائیں کہ اُسے یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں غلط معلومات دی گئی ہیں۔ یا پھر ہم اُس سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ گواہوں کے بارے میں ایسا کیوں سوچتا ہے۔ اُس شخص کے ساتھ ہمارا نرمی سے بات کرنا اُسے یہ پوچھنے کے لئے ابھارے گا کہ لوگ یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں غلط نظریات کیوں رکھتے ہیں۔ نیز، جب اگلی دفعہ کوئی گواہ اُس کے پاس جائے گا تو وہ پیغام کو سننے کے لئے تیار ہوگا۔ لیکن اگر ایک شخص ہمارا پیغام سن کر غصے میں آ جاتا ہے تو بہتر ہوگا کہ ہم نرمی سے بات کو ختم کرکے وہاں سے چلے جائیں۔ ہم یہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ خواہ لوگ ہمارے کام کو اچھا سمجھیں یا نہ سمجھیں یہوواہ خدا ہماری خدمت کی بہت قدر کرتا ہے۔—یسع ۵۲:۷۔