کیا آپ سادہ زندگی گزارتے ہیں؟
۱. یسوع کی اِس بات کا کیا مطلب تھا کہ ”تیری آنکھ دُرست ہو“؟
۱ یہ سچ ہے کہ ہم جن چیزوں اور کاموں پر توجہ دیتے ہیں وہ ہمارے دل اور دماغ پر اثر ڈالتے ہیں۔ اِس سلسلے میں یسوع مسیح کے یہ الفاظ بالکل موزوں ہے کہ ”اگر تیری آنکھ دُرست ہو تو تیرا سارا بدن روشن ہوگا۔“ (متی ۶:۲۲) یسوع کی اِس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں سادہ زندگی گزارنی چاہئے۔ ہمیں خدا کی مرضی کے مطابق چلنے پر توجہ دینی چاہئے۔ ہمیں دُنیا کے مالودولت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے خدا کی خدمت کو پہلا درجہ دینا چاہئے۔ ہمیں ایسے کاموں سے گریز کرنا چاہئے جو مُنادی کے کام میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
۲. (ا) کونسی چیزیں خدا کی خدمت سے ہماری توجہ ہٹا سکتی ہیں؟ (ب) ہم اِس خطرے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
۲ اپنا جائزہ لیں: ٹیوی اور اخباروں میں طرحطرح کی چیزوں کے اشتہار دیکھ کر ہمارے اندر ایسی چیزیں حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔ یاپھر دوسرے لوگوں کی چیزیں دیکھ کر ہم بھی اُن جیسی چیزیں حاصل کرنا چاہیں گے۔ لیکن کوئی بھی کام کرنے یا کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ اِس میں کتنا وقت، پیسہ اور توانائی صرف ہوگی۔ ہمیں ”لاگت کا حساب“ لگاتے ہوئے خود سے پوچھنا چاہئے کہ ’کیا اِس سے میرے لئے یہوواہ کی خدمت کرنا آسان ہوگا یا مشکل؟‘ (لو ۱۴:۲۸؛ فل ۱: ۹-۱۱) نیز، ہمیں اِس بات پر بھی غور کرتے رہنا چاہئے کہ ہم مُنادی کے کام میں بھرپور حصہ لینے کے لئے اپنی زندگی کو اَور زیادہ سادہ کیسے بنا سکتے ہیں۔—۲-کر ۱۳:۵؛ افس ۵:۱۰۔
۳. ہم ایک بہن کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟
۳ ایک بہن نے باقاعدہ پائنیر خدمت شروع کی۔ اگرچہ وہ چند گھنٹے کام کرکے بھی اپنی ضروریات پوری کر سکتی تھی مگر اُس نے اپنی نوکری جاری رکھنے کا فیصلہ کِیا۔ بالآخر وہ اِس نتیجے پر پہنچی: ”کوئی بھی دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا۔ میرے لئے ضروری تھا کہ مَیں اپنی زندگی کو سادہ بناؤں۔ مَیں سمجھ گئی کہ چیزیں تو پُرانی ہو جاتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن کے لئے ہماری قدر بھی کم ہو جاتی ہے۔ اگر مَیں طرحطرح کی آسائشیں حاصل کرنے کی کوشش کروں گی تو بہت زیادہ تھک جاؤں گی۔“ لہٰذا اُس نے اپنی زندگی کو سادہ بنایا اور اپنی نوکری بدل دی تاکہ وہ پائنیر خدمت جاری رکھ سکے۔
۴. آجکل سادہ زندگی گزارنا کیوں ضروری ہے؟
۴ آجکل سادہ زندگی گزارنا اَور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں۔ ہر روز ہم اِس دُنیا کے خاتمے اور خدا کی نئی دُنیا کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ (۱-کر ۷:۲۹، ۳۱) اپنا پورا دھیان مُنادی کے کام پر لگانے سے ہم اپنی اور اپنے سننے والوں کی نجات کا باعث ہو سکتے ہیں۔—۱-تیم ۴:۱۶۔