مکاشفہ
(ایسآئی ص. ۲۶۳-۲۶۴ پ. ۱-۶؛ ص. ۲۶۸-۲۶۹ پ. ۲۸-۳۴)
مکاشفہ کی تمہید
۱. (ا) جہاں تک مکاشفہ میں درج رویتوں کا تعلق ہے تو خدا کے خادم کس بات سے متفق ہیں؟ (ب) مکاشفہ کی کتاب کا بائبل کے آخر پر ہونا کیوں بالکل موزوں ہے؟
۱ کیا مکاشفہ کی کتاب میں درج رویتوں کا مقصد خوفزدہ کرنا ہے؟ بیشک نہیں۔ پیشینگوئی کی تکمیل شریروں کے لئے تو خوف کا باعث بن سکتی ہے مگر خدا کے وفادار خادم یقیناً اِس کتاب کی الہامی تمہید اور اِس کے آخر میں درج فرشتے کے بیان سے متفق ہوں گے: ”اِس نبوّت کی کتاب کا پڑھنے والا اور اُس کے سننے والے اور جو کچھ اِس میں لکھا ہے اُس پر عمل کرنے والے مبارک ہیں۔“ ”مبارک ہے وہ جو اِس کتاب کی نبوّت کی باتوں پر عمل کرتا ہے۔“ (مکا ۱:۳؛ ۲۲:۷) اگرچہ یہ کتاب یوحنا کی دیگر چار الہامی کتابوں سے پہلے لکھی گئی توبھی اس کا بائبل کی ۶۶ الہامی کتابوں کے آخر میں رکھا جانا بالکل موزوں ہے۔ دراصل مکاشفہ کی کتاب ہی قاری کو مستقبل کے واقعات سے رُوشناس کراتی ہے۔ اِس میں درج رویتیں انسانوں کے لئے خدا کے مقصد کو بیان کرتی ہیں۔ اِس کے علاوہ، یہ بائبل کے اہم موضوع کو اُجاگر کرتی ہے کہ موعودہ نسل یعنی یسوع مسیح کی بادشاہی کے ذریعے خدا اپنے نام کی تقدیس کرائے گا اور اپنی حاکمیت کو سربلند کرے گا۔
۲. یوحنا رسول کو مکاشفہ کیسے دیا گیا، اور اِس کتاب کا نام انتہائی موزوں کیوں ہے؟
۲ کتاب کی پہلی آیت کے مطابق، یہ ’یسوع مسیح کا مکاشفہ ہے جو اُسے خدا کی طرف سے ملا اور اُس نے اپنے فرشتہ کو بھیج کر اُس کی معرفت اُنہیں اپنے بندہ یوحنا پر ظاہر کِیا۔‘ لہٰذا یوحنا رسول اِس کتاب کا محض لکھنے والا ہی تھا۔ مکاشفہ کی کتاب کی تمام باتیں خدا نے اُس پر نازل کی تھیں۔ (مکا ۱:۱) کیونکہ اِس کتاب میں خدا نے مستقبل کے لئے اپنے شاندار مقاصد کو اپنے بندے یوحنا پر ظاہر کِیا ہے اِس لئے اِس کتاب کا یونانی نام اپوکلپس انتہائی موزوں ہے کیونکہ اِس کا مطلب بےنقاب کرنا یا منکشف کرنا ہے۔
۳. (ا) مکاشفہ کی کتاب کے مطابق مصنف یوحنا کون تھا؟ (ب) قدیم تاریخدان اِس بات کی حمایت کیسے کرتے ہیں؟
۳ مکاشفہ کی کتاب کے پہلے باب میں مصنف کے طور پر جس یوحنا کا ذکر کِیا گیا ہے وہ کون ہے؟ یہ کتاب بیان کرتی ہے کہ یوحنا یسوع مسیح کا بندہ یا خادم اور ایک مسیحی بھائی تھا جو یسوع کی خاطر مصیبت اُٹھانے میں شریک تھا۔ نیز یہ کہ وہ پتمُس کے ٹاپو یا جزیرے پر قید تھا۔ جن الفاظ کے ساتھ اِس کتاب میں اُس کا تعارف کرایا گیا ہے اُس سے صاف ظاہر ہے کہ کتاب کے ابتدائی قاری مصنف سے اچھی طرح واقف تھے اور اُنہیں اُس کی مزید شناخت کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ یقیناً یوحنا رسول ہی تھا۔ انتہائی قدیم تاریخدان اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ دوسری صدی عیسوی کے ابتدائی دور کے ایک لکھنے والے پاپائس کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ مکاشفہ کی کتاب کو رسولوں کی تحریر سمجھتا تھا۔ دوسری صدی کا رہنے والا جسٹن مارٹر ”ڈائیلاگ ود ٹرائیفو، اے جو“ (LXXXI) میں کہتا ہے: ”ہمارے ساتھ یسوع مسیح کا ایک رسول ہوا کرتا تھا جس کا نام یوحنا تھا اور جس نے مکاشفہ حاصل کرنے کے بعد پیشینگوئی کی تھی۔“a دوسری اور تیسری صدی کے اسکندریہ سے تعلق رکھنے والے کلیمنٹ اور طرطلیان اور ایرینیس بھی اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یوحنا رسول ایک مصنف تھا۔ تیسری صدی کا مشہور بائبل عالم آریگن بیان کرتا ہے: ”مَیں یوحنا کی بات کر رہا ہوں جو یسوع کے آخری کھانے کے وقت اُس کے سینے کی طرف جھک کر بیٹھا ہوا تھا، اُس نے یوحنا کی انجیل . . . اور اپوکلپس یعنی مکاشفہ کی کتاب بھی لکھی تھی۔“b
۴. (ا) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یوحنا کی دیگر تحریروں کے مقابلے میں مکاشفہ کا مختلف طرزِتحریر کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے؟ (ب) کیا چیز مکاشفہ کی کتاب کو الہامی صحائف کا مستند حصہ ثابت کرتی ہے؟
۴ اگرچہ یوحنا رسول کی دیگر تحریریں محبت پر بہت زور دیتی ہیں توبھی اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ مکاشفہ جیسی مؤثر اور پُرجوش کتاب نہیں لکھ سکتا تھا۔ یوحنا اور اُس کا بھائی یعقوب اِسقدر غصے والے تھے کہ جب سامریہ کے ایک گاؤں کے لوگوں نے یسوع مسیح کے لئے عزت نہ دکھائی تو وہ دونوں کہنے لگے کہ ہم خدا سے کہتے ہیں کہ آسمان سے آگ نازل کرکے اِس شہر کو بھسم کر دے۔ اِسی وجہ سے انجیل میں اُنہیں ”بُوانرِؔگسِ یعنی گرج کے بیٹے“ کہا گیا ہے۔ (مر ۳:۱۷؛ لو ۹:۵۴) لہٰذا مکاشفہ کی کتاب میں طرزِتحریر میں تبدیلی کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ یوحنا نے خدا کی طرف سے دی جانے والی رویتوں میں جوکچھ دیکھا وہ اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ دیگر بائبل پیشینگوئیوں کے ساتھ اِس کتاب کی ہمآہنگی اِس بات کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ یہ کتاب خدا کے الہامی کلام کا مستند حصہ ہے۔
۵. یوحنا رسول نے کب اور کن حالات کے تحت مکاشفہ کی کتاب لکھی تھی؟
۵ ابتدائی شہادتوں کے مطابق یوحنا رسول نے مکاشفہ کی کتاب یروشلیم کی بربادی کے تقریباً ۲۶ سال بعد سن ۹۶ عیسوی کے لگبھگ لکھی تھی۔ یہ شاہِدومطیان کی سلطنت کے آخری دور کی بات ہے۔ اِس کی تصدیق کرتے ہوئے، ایرینیس اپنی کتاب ”اگینسٹ ہیریسیز“ (V, xxx) میں مکاشفہ کی کتاب کے بارے میں بیان کرتا ہے: ”یہ ہمارے ہی زمانے میں دومطیان کی سلطنت کے آخری دور میں لکھی گئی تھی۔“c یوسیبیس اور جیروم دونوں اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ دومطیان رومی سپہسالار ططس کا بھائی تھا جس نے یروشلیم کو برباد کرتے وقت رومی فوجوں کی قیادت کی تھی۔ ططس کی وفات کے بعد اُسے بادشاہ بنا دیا گیا اور یہ مکاشفہ کی کتاب کے لکھے جانے سے ۱۵سال پہلے کا واقعہ ہے۔ اُس نے تقاضا کِیا کہ اُس کی پرستش کی جائے اور اپنے آپ کو ”ہمارا خداوند اور خدا“ کا لقب دے دیا۔d جھوٹے معبودوں کی پرستش کرنے والے لوگوں کے لئے بادشاہ کی پرستش کرنا کوئی عجیب بات نہیں تھی مگر ابتدائی مسیحیوں کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا۔ اِس لئے اُنہوں نے ایمان کے سلسلے میں مصالحت کرنے سے انکار کر دیا۔ لہٰذا، دومطیان کی حکومت کے آخری دور میں (۸۱-۹۶ عیسوی) میں مسیحیوں کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دومطیان نے ہی یوحنا رسول کو پتمُس کے جزیرے میں قید کِیا تھا۔ سن ۹۶ عیسوی میں جب دومطیان کو قتل کر دیا گیا تو اُس کی جگہ نروا بادشاہ بن گیا جو کسی حد تک بردبار تھا لہٰذا اُس نے یوحنا کو رِہا کر دیا۔ جب یوحنا پتمُس کے جزیرے پر قید تھا تو اُسی دوران اُسے مکاشفہ کی کتاب میں درج رویتیں دکھائی گئیں۔
۶. ہمیں مکاشفہ کی کتاب کو کیسے دیکھنا چاہئے، اور اِسے کیسے تقسیم کِیا جا سکتا ہے؟
۶ ہمیں اِس بات کی قدر کرنی چاہئے کہ یوحنا رسول نے جوکچھ دیکھا اور جسے کلیسیاؤں کے نام لکھنے کا حکم اُسے دیا گیا وہ محض غیرضروری رویتیں نہیں تھیں۔ مکاشفہ کی کتاب خدا کے بادشاہتی مقاصد کو بیان کرنے والی رویتوں کے ذریعے شروع سے لیکر آخر تک بڑے تسلسل کے ساتھ مستقبل میں رُونما ہو نے والے واقعات کی منظرکشی کرتی ہے۔ پس ہمیں مکاشفہ کی کتاب کو مختلف رویتوں پر مشتمل ایک مکمل کتاب کے طور پر دیکھنا چاہئے جو یوحنا رسول کے زمانے سے لیکر مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دیتی ہے۔ تمہیدی کلمات کے بعد (مکا ۱:۱-۹) کتاب کو ۱۶ رویتوں میں تقسیم خیال کِیا جا سکتا ہے: (۱) ۱:۱۰–۳:۲۲؛ (۲) ۴:۱–۵:۱۴؛ (۳) ۶:۱-۱۷؛ (۴) ۷:۱-۱۷؛ (۵) ۸:۱–۹:۲۱؛ (۶) ۱۰:۱–۱۱:۱۹؛ (۷) ۱۲:۱-۱۷؛ (۸) ۱۳:۱-۱۸؛ (۹) ۱۴:۱-۲۰ (۱۰) ۱۵:۱–۱۶:۲۱؛ (۱۱) ۱۷:۱-۱۸؛ (۱۲) ۱۸:۱–۱۹:۱۰؛ (۱۳) ۱۹:۱۱-۲۱؛ (۱۴) ۲۰:۱-۱۰؛ (۱۵) ۲۰:۱۱–۲۱:۸؛ (۱۶) ۲۱:۹–۲۲:۵۔ اِن رویتوں کا اختتام بہت ہی تحریک دینے والا ہے جس میں یہوواہ خدا، یسوع مسیح، فرشتہ اور یوحنا رسول سب کے سب رابطے کے اِس ذریعے کے طور پر آخری بار ہمکلام ہیں۔—مکا ۲۲:۶-۲۱۔
کیوں فائدہمند
۲۸. کن مثالوں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مکاشفہ کی کتاب بائبل کے شروع میں درج ریکارڈ کا اختتام کرتی ہے؟
۲۸ مکاشفہ کی کتاب بائبل کی ۶۶ الہامی کتابوں کا کیا ہی شاندار اختتام ہے! اِس میں سے نہ تو کچھ نکالا گیا ہے اور نہ ہی کوئی بات ادھوری چھوڑی گئی ہے۔ اب ہم واضح طور پر اِس دُنیا کے آغاز کیساتھساتھ اِس کے شاندار اختتام کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ بائبل کا آخری حصہ اُس ریکارڈ کو انجام تک پہنچاتا ہے جو اِس کے پہلے حصے میں شروع ہوا تھا۔ جیسے پیدایش ۱:۱ میں خدا نے آسمان اور زمین کی تخلیق کا ذکر کِیا اُسی طرح مکاشفہ ۲۱:۱-۴ نئے آسمان اور نئی زمین کا ذکر کرتی ہیں۔ اِس کے علاوہ، یہاں اُن شاندار برکات کے بارے میں بھی بیان کِیا گیا ہے جن کی پیشینگوئی یسعیاہ ۶۵:۱۷، ۱۸؛ ۶۶:۲۲ اور ۲-پطرس ۳:۱۳ میں کی گئی ہے۔ جس طرح پہلے انسان آدم کو بتایا گیا تھا کہ اگر وہ نافرمانی کرے گا تو مرے گا اُسی طرح خدا فرمانبردار انسانوں سے وعدہ کرتا ہے کہ ”اِس کے بعد نہ موت رہے گی۔“ (پید ۲:۱۷؛ مکا ۲۱:۴) جب سانپ پہلی بار انسان کو دھوکا دینے والے کے طور پر نمودار ہوا تو خدا نے اُس کے سر کو کچلنے کی پیشینگوئی کی تھی۔ مکاشفہ کی کتاب بیان کرتی ہے کہ شیطان اِبلیس جوکہ پُرانا سانپ ہے اُسے انجامکار کیسے ہلاک کِیا جائے گا۔ (پید ۳:۱-۵، ۱۵؛ مکا ۲۰:۱۰) نافرمان انسان کو عدن سے نکال دیا گیا اور حیات کے درخت سے دُور کر دیا گیا تھا۔ جبکہ مکاشفہ کی کتاب کے مطابق فرمانبردار انسانوں کے لئے زندگی کے علامتی درخت لگائے گئے جن سے ”قوموں کو شفا ہوتی تھی۔“ (پید ۳:۲۲-۲۴؛ مکا ۲۲:۲) جس طرح باغِعدن کو سیراب کرنے کے لئے وہاں سے ایک دریا نکلتا تھا اُسی طرح مکاشفہ کی کتاب میں ایک علامتی دریا یعنی آبِحیات کے دریا کے بارے میں بیان کِیا گیا ہے جو خدا کے تخت سے نکلتا ہے۔ یہ حزقیایل نبی کی رویا کے عین مطابق ہے اور یہ یسوع مسیح کے اُن الفاظ کی بھی یاد دلاتا ہے جہاں وہ اُس پانی کا ذکر کرتا ہے جو وہ لوگوں کو دے گا اور وہ ”ایک چشمہ بن جائے گا جو ہمیشہ کی زندگی کے لئے جاری رہے گا۔“ (پید ۲:۱۰؛ مکا ۲۲:۱، ۲؛ حز ۴۷:۱-۱۲؛ یوح ۴:۱۳، ۱۴) ہم جانتے ہیں کہ پہلے آدمی اور عورت کو خدا کی حضوری سے نکال دیا گیا تھا۔ لیکن اِس کے برعکس خدا کے وفادار بندے اُس کے چہرہ کو دیکھیں گے۔ (پید ۳:۲۴؛ مکا ۲۲:۴) واقعی مکاشفہ کی اِن شاندار رویتوں پر غور کرنا کتنا فائدہمند ہے!
۲۹. (ا) مکاشفہ کی کتاب بابل کے بارے میں کی جانے والی پیشینگوئیوں کے آپس میں تعلق کو کیسے بیان کرتی ہے؟ (ب) دانیایل اور مکاشفہ کی کتابوں میں درج بادشاہت اور حیوانوں کی بابت رویتوں میں کونسی غورطلب مماثلت پائی جاتی ہے؟
۲۹ اِس بات پر بھی غور کریں کہ مکاشفہ کی کتاب بدکار بابل کے بارے میں کی جانے والی پیشینگوئیوں کے آپس میں تعلق کو کیسے بیان کرتی ہے۔ یسعیاہ نبی کو رویا میں بہت پہلے ہی بابل کے زوال کے بارے میں دکھا دیا گیا تھا اور اُس نے یہ اعلان بھی کِیا: ”بابلؔ گِر پڑا گِر پڑا۔“ (یسع ۲۱:۹) یرمیاہ نبی نے بھی بابل کے خلاف نبوت کی تھی۔ (یرم ۵۱:۶-۱۲) مگر مکاشفہ کی کتاب علامتی بابل کو یوں بیان کرتی ہے: ”بڑا شہر بابلؔ۔ کسبیوں اور زمین کی مکروہات کی ماں۔“ بابل کو بھی ختم کِیا جانا چاہئے اور یوحنا رسول اِس بات کو رویا میں دیکھتا ہے اور کہتا ہے: ”گِر پڑا۔ بڑا شہر بابلؔ گِر پڑا۔“ (مکا ۱۷:۵؛ ۱۸:۲) کیا آپ کو دانیایل کی وہ رویا یاد ہے جس میں اُسے ایک بادشاہت دکھائی جاتی ہے جسے خدا قائم کرتا ہے اور جو تمام حکومتوں کو ختم کر دیتی اور ”ابد تک“ قائم رہتی ہے۔ غور کریں اِسے مکاشفہ کی کتاب میں ایک آسمانی اعلان کے ساتھ کیسے جوڑا جاتا ہے: ”دُنیا کی بادشاہی ہمارے خداوند اور اُس کے مسیح کی ہو گئی اور وہ ابدالآباد بادشاہی کرے گا۔“ (دان ۲:۴۴؛ مکا ۱۱:۱۵) علاوہازیں، جیسے دانیایل کی رویا میں بیان کِیا گیا کہ ’ایک شخص آدمزاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور اُسے سلطنت اور حشمت اور مملکت دی گئی جو کہ جاتی نہ رہے گی۔‘ پس مکاشفہ کی کتاب بیان کرتی ہے کہ یہ یسوع مسیح ہی ہے جو ”دُنیا کے بادشاہوں پر حاکم“ ہے اور جو ”بادلوں کے ساتھ آنے والا ہے اور ہر ایک آنکھ اُسے دیکھے گی۔“ (دان ۷:۱۳، ۱۴؛ مکا ۱:۵، ۷) اِس کے علاوہ دانیایل کی رویا میں بیانکردہ حیوانوں اور مکاشفہ میں بیان کئے جانے والے حیوانوں کے درمیان جو مماثلت پائی جاتی ہے اُس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ (دان ۷:۱-۸؛ مکا ۱۳:۱-۳؛ ۱۷:۱۲) واقعی مکاشفہ کی کتاب میں ایسی بےشمار معلومات درج ہیں جن کا مطالعہ ہمارے ایمان کو مضبوط کر سکتا ہے۔
۳۰. (ا) مکاشفہ کی کتاب بادشاہی کے ذریعے یہوواہ کے نام کی تقدیس کا کونسا مکمل جائزہ پیش کرتی ہے؟ (ب) پاکیزگی کے سلسلے میں کس بات پر زور دیا گیا ہے، اور یہ کن کو متاثر کرتی ہے؟
۳۰ مکاشفہ کی کتاب میں خدا کی بادشاہت کے سلسلے میں دی جانے والی رویا مختلف زاویوں سے بادشاہی کو نمایاں کرتی ہے! یہ بڑے واضح انداز میں بیان کرتی ہے کہ بادشاہت کے بارے میں قدیم زمانے کے نبیوں، یسوع مسیح اور اُس کے شاگردوں نے کیا کہا تھا۔ اِس کتاب میں ہم بادشاہت کے ذریعے یہوواہ خدا کے نام کی مکمل تقدیس ہوتے دیکھتے ہیں: ”قدوس۔ قدوس۔ قدوس۔ [یہوواہ] خدا قادرِمطلق“ وہی تمامتر ”تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے۔“ بِلاشُبہ وہی ہے جو مسیح کے ذریعے ”اپنی بڑی قدرت کو ہاتھ میں لیکر بادشاہی“ کرتا ہے۔ اِس شاہانہ یبٹے کو جو ”بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند“ ہے کسقدر جوشوخروش کے ساتھ قوموں کو مارتے اور ”قادرِمطلق خدا کے سخت غضب کی مے کے حوض میں انگور“ روندتے دکھایا گیا ہے! جوںجوں یہوواہ خدا کی بڑائی کرنا اپنے عروج کو پہنچتا ہے، اِس بات پر بہت زیادہ زور دیا جا رہا ہے کہ خدا کی بادشاہت کے مقاصد میں شریک ہر چیز اور شخص کو پاک ہونا چاہئے۔ برّہ یسوع مسیح کو جو ”داؔؤد کی کُنجی رکھتاہے“ اور آسمان پر موجود فرشتگان کو قدوس کہا گیا ہے۔ پہلی قیامت میں شریک ہونے والوں کو ”مبارک اور مُقدس“ کہا گیا ہے۔ علاوہازیں، اِس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ”کوئی ناپاک چیز یا کوئی شخص جو گھنونے کام کرتا“ ہے ہرگز ”شہرِمُقدس“ یروشلیم میں داخل نہ ہوگا۔ اِس طرح جو لوگ ”ہمارے خدا کے لئے ایک بادشاہی اور کاہن“ ہونے کے لئے بّرہ کے خون سے خرید لئے گئے ہیں اُنہیں یہوواہ کے حضور اپنی پاکیزگی برقرار رکھنے کی تحریک ملتی ہے۔ ”بڑی بھیڑ“ کو بھی خدا کی خدمت کرتے رہنے کے لئے ”اپنے جامے برّہ کے خون سے دھو کر سفید“ کرنے کی ضرورت ہے۔—مکا ۴:۸، ۱۱؛ ۱۱:۱۷؛ ۱۹:۱۵، ۱۶؛ ۳:۷؛ ۱۴:۱۰؛ ۲۰:۶؛ ۲۱:۲، ۱۰، ۲۷؛ ۲۲:۱۹؛ ۵:۹، ۱۰؛ ۷:۹، ۱۴، ۱۵۔
۳۱. بادشاہی کے کن پہلوؤں پر صرف مکاشفہ کی کتاب ہی ہماری توجہ دلاتی ہے؟
۳۱ مکاشفہ کی کتاب ہماری توجہ چند ایسے اہم پہلوؤں پر دلاتی ہے جن سے خدا کی پُرجلال اور مقدس بادشاہت کی بابت رویا ہمارے ذہنوں میں بالکل واضح ہو جاتی ہے۔ اِس کتاب میں بادشاہی کے وارثوں کے بارے میں مکمل رویا پیش کی گئی ہے جو صیون کے پہاڑ پر برّہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایک نیا گیت گا رہے ہیں جسے اُن کے سوا اَور کوئی نہیں گا سکتا۔ صرف مکاشفہ کی کتاب ہی ہمیں اُن لوگوں کی تعداد کے بارے میں بتاتی ہے جنہیں بادشاہی کرنے کے لئے زمین سے خریدا گیا ہے۔ یہ تعداد میں ۰۰۰، ۴۴، ۱ ہیں جن پر روحانی اسرائیل کے علامتی بارہ قبیلوں میں سے مہر کی گئی ہے۔ مکاشفہ کی کتاب ہی بیان کرتی ہے کہ یہ کاہن اور بادشاہ جو یسوع مسیح کے ساتھ پہلی قیامت میں شریک ہوتے ہیں وہ ”ہزار برس تک“ اُس کے ساتھ بادشاہی کریں گے۔ صرف مکاشفہ کی کتاب ہی ہمیں ”شہرِمُقدس نئے یرؔوشلیم“ کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ ہمیں اِس شہر کے جلال اور چمک سے واقف کراتی ہے جس میں یہوواہ خدا اور برّہ اِس کا مقدِس ہیں، اِس کے بارہ دروازے اور بارہ بنیادیں ہیں۔ جو بادشاہ یہاں ابدالآباد بادشاہی کریں گے اُن پر یہوواہ خدا روشنی چمکائے گا۔—مکا ۱۴:۱، ۳؛ ۷:۴-۸؛ ۲۰:۶؛ ۲۱:۲، ۱۰-۱۴، ۲۲؛ ۲۲:۵۔
۳۲. (ا) ”نئے آسمان“ اور ”شہرِمقدس نئے یروشلیم“ کی بابت رویا کیسے بادشاہتی نسل کے بارے میں کی جانے والی پیشینگوئیوں کا خلاصہ پیش کرتی ہے؟ (ب) بادشاہی زمین پر آباد انسانوں کے لئے کن برکات کی یقیندہانی کراتی ہے؟
۳۲ واقعی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”نئے آسمان“ اور ”شہرِمقدِس نئے یرؔوشلیم“ کے بارے میں دی جانے والی اِس رویا میں قدیم زمانے سے لیکر پاک صحائف میں بادشاہتی نسل کی بابت جو بھی پیشینگوئیاں کی گئی ہیں اُن کا خلاصہ پیش کِیا گیا ہے۔ ابرہام اُس نسل کا منتظر تھا جس کے وسیلے سے ’زمین کے سب قبیلے برکت پائیں گے۔‘ نیز وہ اُس ”پایدار شہر کا اُمیدوار تھا جس کا معمار اور بنانے والا خدا ہے۔“ مکاشفہ کی کتاب میں جا کر رویا میں اُس شہر ”نئے آسمان“ یعنی ایک نئی حکومت، خدا کی بادشاہی کی شناخت کرائی جاتی ہے جو نئے یروشلیم (مسیح کی دُلہن) اور دُلہے سے ملکر تشکیل پاتا ہے۔ وہ راستی کے ساتھ ساری زمین پر حکومت کریں گے۔ یہوواہ خدا وفادار انسانوں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ ”اُس کے لوگ“ بن سکتے اور زمین پر باغِ عدن میں بغاوت سے پہلے جیسی خوشحال زندگی بسر کر سکتے ہیں جس میں گناہ اور موت کا نامونشان نہ ہوگا۔ اِس بات کو یقینی ثابت کرنے کے لئے مکاشفہ کی کتاب دو بار یہ کہتی ہے کہ خدا ”اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔“—پید ۱۲:۳؛ ۲۲:۱۵-۱۸؛ عبر ۱۱:۱۰؛ مکا ۷:۱۷؛ ۲۱:۱-۴۔
۳۳. (ا) خدا کے مقاصد کی تکمیل کے سلسلے میں مکاشفہ کی کتاب میں کونسی رویا درج ہے؟ (ب) ہر ایک صحیفہ کیسے ’خدا کے الہام سے اور فائدہمند‘ ثابت ہوا ہے؟ (ج) اِس وقت خدا کے کلام کو پڑھنا اور اُس پر عمل کرنا کیوں ضروری ہے؟
۳۳ پاک کلام کا اختتام کیا ہی شاندار طریقے سے کِیا گیا ہے! کتنی شاندار ہیں یہ باتیں ”جن کا جلد ہونا ضرور ہے“! (مکاشفہ ۱:۱) اِس کتاب میں ”[یہوواہ] جو نبیوں کی روحوں کا خدا ہے“ کے پاک نام کی تقدیس کی گئی ہے۔ (۲۲:۶) نبوّتی تحریریں جنہیں لکھنے میں سولہ صدیاں لگیں اِس کتاب میں اُن کی تکمیل ہوتی دکھائی گئی ہے اور ہزاروں سال تک وفاداری سے خدا کی خدمت کرنے والے لوگوں کو اَجر دیا جاتا ہے! ”وہی پُرانا سانپ“ یعنی شیطان اور اُس کے ساتھی ہلاک ہو چکے ہیں اور تمام شرارت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ (۱۲:۹) خدا کی بادشاہی نے ”نئے آسمان“ کے طور پر حکومت شروع کر دی ہے۔ جیسے کہ بائبل کی پہلی کتاب کے پہلے باب میں بیان کِیا گیا ہے، اُس کی مطابقت میں بحالشُدہ زمین یہوواہ خدا کے مقصد کے مطابق آباد اور معمور ہے اور انسان کبھی ختم نہ ہونے والی برکات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ (پید ۱:۲۸) پاک کلام کی بابت یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ”ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہمند بھی ہے۔“ پاککلام کے ذریعے یہوواہ خدا نے آج تک ایماندار اور ہر لحاظ سے نیک کام کرنے کے لئے تیار لوگوں کی راہنمائی کی ہے۔ پس آپ کے پاس جو وقت ہے اُسے پاک کلام کا مطالعہ کرنے کے لئے استعمال کریں تاکہ آپ اپنے ایمان کو مضبوط کر سکیں۔ خدا کے وفادار خادموں کی بات مانیں تاکہ آپ خدا کی برکات حاصل کر سکیں۔ اُن کی نقل کرتے ہوئے راستی کی راہ پر چلتے رہیں تاکہ آپ ہمیشہ کی زندگی حاصل کر سکیں۔ ایسا کرنے سے آپ بھی پورے یقین کے ساتھ مکاشفہ کی کتاب کے اختتامی الفاظ کہنے کے قابل ہوں گے: ”آمین۔ اَے خداوند یسوؔع آ۔“—۲-تیم ۳:۱۶؛ مکا ۲۲:۲۰۔
۳۴. اِس وقت ہم کیوں اور کیسے بےپناہ خوشی حاصل کر سکتے ہیں؟
۳۴ ہم یہ کہتے ہوئے کہ ”دُنیا کی بادشاہی ہمارے خداوند اور اُس کے مسیح کی ہو گئی“ بائبل میں بیانکردہ نسل کی حمد کرکے بےپناہ خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اِس سے ’قادرِمطلق خدا‘ کے بےنظیر نام یہوواہ کی لازوال تقدیس ہوتی ہے!—مکا ۱۱:۱۵، ۱۷۔
[فٹنوٹ]
a دی اینٹی-نیقینی فادرز، جِلد ۱، صفحہ ۲۴۰۔
b یوسیبیس کی تحریرکردہ، دی ایکلیزی ایسٹیکل ہسٹری، از VI، XXV، ۹، ۱۰۔
c دی اینٹی-نیقینی فادرز، جِلد ۱، صفحہ ۵۵۹-۵۶۰۔
d دی لائیوز آف دی سیزرز (ڈومٹین، XIII، ۲)۔