فلیمون
(ایسآئی ص. ۲۴۱-۲۴۲ پ. ۱-۴؛ ص. ۲۴۲-۲۴۳ پ. ۷-۱۰)
فلیمون کی تمہید
۱. فلیمون کے خط کی بعض خصوصیات کیا ہیں؟
۱ موقع کی مناسبت سے لکھا گیا پولس رسول کا یہ پُرمحبت خط آجکل کے مسیحیوں کیلئے بڑی دلچسپی کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف ’غیرقوموں کے رسول‘ کی تحریروں میں سب سے مختصر خط ہے بلکہ یہ بائبل میں یوحنا کے دوسرے اور تیسرے خط کے بعد سب سے چھوٹا بھی ہے۔ یہ خط کسی کلیسیا یا ذمہدار نگہبان کی بجائے ایک دولتمند شخص فلیمون کے نام پولس کا واحد ”ذاتی“ خط ہے۔ فلیمون ایشیائےکوچک کے مرکز کُلسّے کے شہر فروگیہ کا رہنے والا تھا اور پولس نے اُس کیساتھ کسی خاص مسئلے پر باتچیت کرنے کیلئے اُسے یہ خط لکھا تھا۔—روم ۱۱:۱۳۔
۲. فلیمون کا خط کس پسمنظر اور مقصد کے تحت لکھا گیا تھا؟
۲ خط کا مقصد واضح طور پر بیان کِیا گیا ہے: روم میں اپنی پہلی قید (۵۹-۶۱ عیسوی) کے دوران پولس کو خدا کی بادشاہت کی منادی کرنے کیلئے آزادی حاصل تھی۔ پولس کی منادی کیلئے جوابیعمل دکھانے والوں میں اس کے دوست فلیمون کے گھر سے بھاگنے والا غلام اُنیسمس بھی شامل تھا۔ نتیجتاً، اُنیسمس مسیحی بن گیا اور پولس نے اُسکی رضامندی سے اُسے فلیمون کے پاس واپس بھیجنے کا فیصلہ کِیا۔ اسی دوران پولس نے افسس اور کُلسّے کی کلیسیاؤں کو خطوط لکھے۔ اِن دونوں خطوط میں اُس نے مسیحی غلاموں اور اُنکے مالکوں کو ایک دوسرے کیساتھ مناسب برتاؤکرنے کی بابت عمدہ مشورت دی۔ (افس ۶:۵-۹؛ کل ۳:۲۲-۴:۱) تاہم، پولس نے فلیمون کے نام بھی ایک خط تحریر کِیا جس میں اُس نے ذاتی طور پر اُنیسمس کی سفارش کی۔ یہ خط پولس نے خود تحریر کِیا تھا جو اُس کے سلسلے میں ایک غیرمعمولی بات تھی۔ (فلیمون۱۹) پولس کی اِس ذاتی دلچسپی نے اُسکی سفارش کو اَور بھی مؤثر بنا دیا۔
۳. فلیمون کے نام خط غالباً کب تحریر کِیا گیا تھا، اور اسے کیسے بھیجا گیا تھا؟
۳ یہ خط غالباً ۶۰، ۶۱ عیسوی میں لکھا گیا تھا کیونکہ پولس نے روم میں اتنی دیر منادی کی تھی کہ وہ لوگوں کو نومُرید بنا سکے۔ اِسکے علاوہ، ۲۲آیت میں اُسکی رہائی کی اُمید کے اظہار سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ یہ خط اُسکے قید کئے جانے کے کچھ دیر بعد لکھا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ فلیمون کے نام خط کو افسس اور کُلسّے کی کلیسیاؤں کے نام خطوط کیساتھ تخکس اور انیسمس کے ہاتھ بھیجا گیا تھا۔—افس ۶:۲۱، ۲۲ ؛ کل ۴:۷-۹۔
۴. فلیمون کے خط کے مستند ہونے اور اسکے لکھنے والے کی تصدیق کس بات سے ہوتی ہے؟
۴ پہلی آیت میں پولس کا بنام ذکر آتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلیمون کے نام خط کا لکھنے والا پولس ہے۔ آریگن اور طرطلیان نے بھی اس بات کو تسلیم کِیا ہے۔a یہ بات بھی فلیمون کے خط کے مستند ہونے کا ثبوت ہے کہ پولس کے دیگر خطوط کی طرح دوسری صدی عیسوی کے میوریٹوریئن فریگمنٹ میں اِسکا نام بھی درج ہے۔
کیوں فائدہمند
۷. اُنیسمس کے سلسلے میں پولس نے بطور رسول اپنے بلاوے کی قدر کیسے کی؟
۷ جیساکہ اس خط سے ظاہر ہوتا ہے، پولس غلامی جیسی روایات سمیت نظام کو بدلنے کی کوشش میں ”سماجی اصلاح“ کی تشہیر نہیں کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ اُس نے کبھی اپنی مرضی سے مسیحی غلاموں کو آزاد نہیں کرایا بلکہ اُس نے تو اُنیسمس کو بھی واپس اپنے مالک فلیمون کے پاس بھیجا حالانکہ روم سے کُلسّے تک کا سفر ۹۰۰ میل (۱۴۰۰ کلومیٹر) تھا۔ یوں پولس نے رسول کے طور پر اپنے بلاوے کی قدر کرتے ہوئے ”خدا کی بادشاہی کی منادی . . . اور خداوند یسوؔع مسیح کی باتیں“ سکھانے کی الہٰی تفویض کیلئے خود کو وقف کر دیا۔—اعما ۲۸:۳۱؛ فلیمون ۸، ۹۔
۸. فلیمون کا خط مسیحی اُصولوں کے کونسے عملی اطلاق کو واضح کرتا ہے؟
۸ فلیمون کا خط اِس لحاظ سے فائدہمند ہے کہ یہ پہلی صدی کے مسیحیوں کے درمیان موجود محبت اور اتحاد کو نمایاں کرتا ہے۔ اس میں ہم سیکھتے ہیں کہ ابتدائی مسیحی ایک دوسرے کو ”بہن“ اور ”بھائی“ کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ (فلیمون ۲، ۲۰) اسکے علاوہ، یہ آجکل کے مسیحیوں کیلئے بھائیوں کے درمیان مسیحی اُصولوں کے عملی اطلاق کو واضح کرتا ہے۔ اِس خط میں ہم پولس رسول کے حوالے سے یہ دیکھتے ہیں کہ وہ برادرانہ محبت، سماجی تعلقات اور دوسروں کی چیزوں کیلئے احترام دکھانے نیز، موقعشناسی اور فروتنی کے سلسلے میں عمدہ مثال قائم کرتا ہے۔ اگرچہ پولس مسیحی کلیسیا میں ایک بااختیار نگہبان تھا تو بھی اُس نے فلیمون پر اُنیسمس کو معاف کرنے کیلئے دباؤ نہیں ڈالا بلکہ مسیحی محبت اور ذاتی دوستی کی بِنا پر فروتنی کیساتھ اُس سے درخواست کی۔ جس طرح پولس رسول نے موقعشناسی سے فلیمون سے رابطہ کِیا اِس سے آجکل کے نگہبان بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
۹. پولس کی درخواست قبول کرنے سے فلیمون نے آجکل کے مسیحیوں کیلئے کونسی عمدہ مثال قائم کی؟
۹ صاف ظاہر ہے کہ پولس کو یہ توقع تھی کہ فلیمون اُسکی درخواست کو قبول کریگا۔ فلیمون نے واقعی ایسا کِیا۔ یوں اُس نے متی ۶:۱۴ میں یسوع کے اور افسیوں ۴:۳۲ میں پولس کے بیان کا عملی اطلاق کِیا۔ اسی طرح آجکل کے مسیحیوں سے ایک خطاکار بھائی کیساتھ مہربانی اور رحم سے پیش آنے کی توقع کی جاتی ہے۔ اگر فلیمون اپنے غلام کو معاف کر سکتا تھا جس کیساتھ وہ کسی بھی طرح کا سلوک کرنے کا قانونی حق رکھتا تھا توپھر آجکل مسیحیوں کیلئے اپنے خطاکار بھائی کو معاف کرنا اِتنا مشکل نہیں ہونا چاہئے۔
۱۰. یہوواہ کی روح کی کارفرمائی فلیمون کے خط سے کیسے ظاہر ہوتی ہے؟
۱۰ یہوواہ کی روح کی کارفرمائی فلیمون کے نام خط میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ پولس نے جس شاندار طریقے سے ایک نہایت نازک مسئلے کو نپٹایا اُس سے یہ بات بالکل عیاں ہے۔ یہ بات پولس کی ہمدردی، محبت اور ایک ساتھی مسیحی پر بھروسہ کرنے سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یہوواہ کی رُوح کی کارفرمائی اس حقیقت سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ دیگر صحائف کی طرح فلیمون کا خط مسیحی اُصولوں کی تعلیم دیتا، مسیحی اتحاد کو فروغ دیتا اور خدا کی بادشاہت پر اُمید رکھنے اور اپنے چالچلن سے یہوواہ کے فضل کی عکاسی کرنے والے ’مُقدسوں‘ کے درمیان گہری محبت اور ایمان کو نمایاں کرتا ہے۔—آیت۵۔
[فٹنوٹ]
a دی انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بائبل انسائیکلوپیڈیا، جی.ڈبلیو.بروملی، جِلد ۳، ۱۹۸۶، صفحہ ۸۳۱۔