کلسیوں
(ایسآئی ص. ۲۲۶ پ. ۱-۵؛ ص. ۲۲۸ پ. ۱۲-۱۴)
کلسیوں کی تمہید
۱. کُلسّے کا شہر کہاں واقع تھا؟
۱ افسس سے دو آدمی ایشیائےکوچک سے گزرتے ہوئے مشرق میں مانڈر (مینڈرس) دریا کے کنارےکنارے سفر کرتے ہوئے فروگیہ کے ملک میں لیکس کے دریا تک پہنچے۔ یہاں سے وہ جنوبمشرق کی جانب مڑے اور دریا کے کنارے چلتےچلتے پہاڑیوں سے گھری ہوئی وادی میں آئے۔ اُنکے سامنے ایک نہایت خوبصورت منظر تھا: سرسبزوشاداب چراگاہوں میں بھیڑوں کے گلّے موجود تھے۔ (اِس علاقہ میں اُون سے بنی اشیا آمدنی کا بنیادی ذریعہ تھیں۔a) یہ دونوں آدمی اِس وادی سے ہوتے ہوئے اِسکے دائیں جانب واقع لودیکیہ سے گزرے جو رومی انتظامیہ کا مرکز اور ایک مالدار شہر تھا۔ وہ اپنی بائیں طرف دریا کے پار ہیراپلس کا شہر دیکھ سکتے تھے جو مندروں اور گرم چشموں کیلئے مشہور تھا۔ اِن دونوں شہروں اور وادی سے تقریباً ۱۶ کلومیٹر (۱۰ میل) دُور کُلسّے کے چھوٹے شہر میں بھی مسیحی کلیسیا موجود تھی۔
۲. (ا) پولس نے کن دو ایلچیوں کو کُلسّے بھیجا تھا؟ (ب) کُلسّے کی کلیسیا کے بارے میں کونسی معلومات دستیاب ہیں؟
۲ اِن دونوں مسافروں کی منزل کُلسّے تھی اور یہ دونوں مسیحی تھے۔ اِن میں سے ایک کا تعلق کُلسّے سے تھا اِسلئے وہ اِس علاقہ سے بخوبی واقف تھا۔ اُسکا نام اُنیسمس تھا۔ وہ ایک غلام تھا اور اپنے مالک کے پاس واپس جا رہا تھا جو کلیسیا کا ایک رُکن تھا۔ اُنیسمس کا ساتھی تخکس غلام نہیں تھا بلکہ ایک آزاد شہری تھا۔ یہ دونوں ایلچیوں کے طور پر ’مسیح میں کُلسّے کے ایماندار بھائیوں کے نام‘پولس رسول کی طرف سے ایک خط لائے تھے۔ جہاں تک ہم جانتے ہیں پولس نے کبھی کُلسّے کا دورہ نہیں کِیا تھا۔ بنیادی طور پر یہ کلیسیا غیریہودیوں پر مشتمل تھی جسے غالباً اِپفراس نے قائم کِیا تھا۔اُس نے اِن لوگوں کے درمیان رہ کر خدمت کی تھی مگر اب وہ پولس کیساتھ روم میں تھا۔—کل ۱:۲، ۷؛ ۴:۱۲۔
۳. کلسیوں کے خط سے اِسکے مصنف، تحریر کے وقت اور جگہ کی بابت کیا پتہ چلتا ہے؟
۳ اِس خط کے ابتدائی اور اختتامی الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ اِسے پولس رسول نے تحریر کِیا تھا۔ (۱:۱؛ ۴:۱۸) پولس نے اِس خط کے آخر میں بیان کِیا کہ اُس نے اِسے اپنی قید کے دوران لکھا تھا۔ غالباً یہ روم میں اُسکی پہلی قید، ۵۹-۶۱عیسوی کا وقت تھا جب اُس نے کئی حوصلہافزا خطوط لکھے تھے۔ اُس نے کلسیوں کے نام خط کو فلیمون کے خط کیساتھ بھیجا تھا۔ (کل ۴:۷-۹؛ فلیمون ۱۰، ۲۳) ایسا لگتا ہے کہ کلسیوں اور افسیوں کا خط ایک ہی وقت کے دوران لکھا گیا تھا کیونکہ اِن دونوں میں پائے جانے والے بیشتر خیالات اور اظہارات ملتےجلتے ہیں۔
۴. کلسیوں کے خط کے مستند ہونے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے؟
۴ کلسیوں کے نام خط کے مستند ہونے کی بابت شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ تقریباً ۲۰۰ عیسوی سے تعلق رکھنے والے چیسٹر بیایٹی پیپرس نمبر ۲ (46P) میں پولس کے دیگر خطوط کیساتھ کلسیوں کے خط کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ ابتدائی مسیحیوں نے اسے پولس کے ایک خط کے طور پر قبول کِیا تھا۔ پولس کے دیگر خطوط کے مستند ہونے کی تصدیق کرنے والے بعض ابتدائی ذرائع بھی اسکی توثیق کرتے ہیں۔
۵. (ا) کن وجوہات نے پولس رسول کو کلسیوں کے نام خط لکھنے کی تحریک دی؟ (ب) یہ خط کس بات پر زور دیتا ہے؟
۵ کن وجوہات نے پولس رسول کو کلسیوں کے نام خط لکھنے کی تحریک دی؟ ایک وجہ تو یہ تھی کہ اُنیسمس واپس کُلسّے جا رہا تھا۔ اِسکی دوسری وجہ یہ تھی اِپفراس نے کچھ ہی عرصہ پہلے پولس رسول کیساتھ خدمت شروع کی تھی اور اُس نے یقیناً پولس کو کُلسّے کے حالات کے بارے میں بتایا ہوگا۔ (کل ۱:۷، ۸؛ ۴:۱۲) یہاں کی مسیحی کلیسیا کو ایک خاص قسم کا خطرہ لاحق تھا۔ اُس زمانہ کے مذاہب زوال کا شکار تھے اور پُرانے عقائد کے امتزاج سے نئے مذاہب جنم لے رہے تھے۔ گوشہنشینی، ارواحپرستی اور توہمپرستی پر مبنی بُتپرستانہ فیلسوفیوں کیساتھساتھ روزوں اور تہواروں کی بابت یہودی رسومات کلیسیا میں بعض لوگوں کو متاثر کر سکتی تھیں۔ مسئلہ خواہ کچھ بھی ہو، اِپفراس نے کسی ٹھوس وجہ کی بِنا پر ہی پولس سے ملنے کیلئے روم تک کا طویل سفر کِیا ہوگا۔ تاہم، بھائیوں کی محبت اور ثابتقدمی کی بابت اِپفراس کی حوصلہافزا رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ اجتماعی طور پر کلیسیا کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔ اِس رپورٹ کو سننے کے بعد پولس نے کُلسّے کی کلیسیا کے نام اس خط میں صحیح علم اور پاک پرستش کی پُرزور حمایت کی۔ یہ خط بُتپرستانہ فیلسوفیوں، فرشتوں کی پرستش اور یہودی رسومات کی بجائے مسیح کی خداداد فضیلت پر زور دیتا ہے۔
کیوں فائدہمند
۱۲. (ا) کلسیوں کے نام پولس کے خط میں کونسی تازگیبخش سچائیاں بیان کی گئیں؟ (ب) اِس کلیسیا نے ان سچائیوں سے کیسے استفادہ کِیا؟
۱۲ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ ان دونوں بھائیوں کے روم سے آنے کی خبر کُلسّے کے بھائیوں میں کتنی تیزی سے پھیلی ہوگی۔ وہاں کے بہن بھائی غالباً پولس کا خط سننے کیلئے فلیمون کے گھر میں جمع ہوئے ہونگے۔ (فلیمون ۲) اس خط نے مسیح کے مرتبے اور صحیح علم کی ضرورت کی بابت کسقدر تازگیبخش سچائیاں فراہم کیں! اِس خط میں انسانی فیلسوفیوں اور یہودی روایات کی بجائے مسیح کے اطمینان اور کلام کو سرفراز کِیا گیا! یہ نگہبانوں، شوہروں، بیویوں، والدین، بچوں، مالکوں اور نوکروں، غرض کلیسیا کے تمام ارکان کے دلودماغ کیلئے تقویت کا باعث تھا۔ واقعی اس میں فلیمون اور اُنیسمس کیلئے بطور ایک مالک اور غلام کے اپنے رشتے کو بحال کرنے کے متعلق عمدہ مشورت موجود تھی۔ گلّہ کو دوبارہ درست عقائد کی طرف راغب کرنے کیلئے نگہبانوں کو کِیا ہی عمدہ راہنمائی دی گئی! پولس کے الفاظ نے دل وجان سے یہوواہ کی خدمت کرنے کے شرف کیلئے کُلسّے کے مسیحیوں کی قدردانی کو بڑھایا! نیز کلسیوں کے مسیحیوں کیلئے دُنیاوی نظریات اور رسومات کی غلامی سے آزادی کی بابت تقویتبخش مشورت آجکل کی کلیسیا کیلئے بھی عملی ہے۔—کل ۱:۹-۱۱، ۱۷، ۱۸؛ ۲:۸؛ ۳:۱۵ ،۱۶، ۱۸-۲۵؛ ۴:۱۔
۱۳. پولس پُرفضل الفاظ، دُعا اور مسیحی رفاقت کے سلسلے میں کیا نصیحت کرتا ہے؟
۱۳ کلسیوں ۴:۶ ایک مسیحی خادم کو عمدہ مشورت دیتی ہے: ”تمہارا کلام ہمیشہ ایسا پُرفضل اور نمکین ہو کہ تمہیں ہر شخص کو مناسب جواب دینا آ جائے۔“ سچائی کے پُرفضل الفاظ خلوصدل لوگوں کو سچائی کی طرف راغب کریں گے اور اُنکے لئے دائمی فائدے کا باعث بنیں گے۔ اِسکے علاوہ، جب ایک مسیحی قدردانی سے معمور دل کیساتھ روحانی طور پر بیدار رہنے کیلئے دُعا کرتا ہے تو یہوواہ خدا اُسے کثیر برکات سے نوازتا ہے۔ پولس رسول نصیحت کرتا ہے: ”دُعا کرنے میں مشغول اور شکرگزاری کے ساتھ اُس میں بیدار رہو۔“ نیز مسیحی رفاقت کسقدر خوشی اور تازگی کا باعث بنتی ہے! پولس بیان کرتا ہے کہ ’آپس میں تعلیم دو اور نصیحت کرو اور اپنے دلوں میں خدا کیلئے روحانی غزلیں گاؤ۔‘ (۴:۲؛ ۳:۱۶) کلسیوں کے خط کا جائزہ لیتے وقت آپ معقول اور عملی ہدایت کے دیگر جواہر بھی حاصل کرینگے۔
۱۴. (ا) کلسیوں کے خط میں کس حقیقت کو اجاگر کِیا گیا ہے؟ (ب) اِس خط میں بادشاہتی اُمید پر کیسے زور دیا گیا ہے؟
۱۴ شریعت کی رسومات کے حوالے سے خط بیان کرتا ہے: ”یہ آنے والی چیزوں کا سایہ ہیں مگر اصل چیزیں مسیح کی ہیں۔“ (۲:۱۷) کلسیوں کے خط میں مسیح کی انہی اصل چیزوں کو نمایاں کِیا گیا ہے۔ اِس خط میں اکثر مسیح کیساتھ آسمان میں میراث پانے والوں کی شاندار اُمید کا حوالہ دیا گیا ہے۔ (۱:۵، ۲۷؛ ۳:۴) ایسے اشخاص نہایت شکرگزار ہو سکتے ہیں کہ خدا نے انہیں پہلے ہی تاریکی کے قبضہ سے چھڑا کر ”اپنے عزیز بیٹے کی بادشاہی میں داخل کِیا“ ہے۔ یوں وہ اُس ہستی کے مطیع ہو گئے ہیں جو ”اندیکھے خدا کی صورت اور تمام مخلوقات سے پہلے مولود ہے۔ کیونکہ اُسی میں سب چیزیں پیدا کی گئیں۔ آسمان کی ہوں یا زمین کی۔ دیکھی ہوں یا اندیکھی۔ تخت ہوں یا ریاستیں یا حکومتیں یا اختیارات۔“ یہ ہستی خدا کی بادشاہت میں راستی سے حکمرانی کرنے کیلئے پوری طرح لائق ہے۔ لہٰذا پولس ممسوح مسیحیوں کو نصیحت کرتا ہے: ”پس جب تم مسیح کے ساتھ جلائے گئے تو عالمِبالا کی چیزوں کی تلاش میں رہو جہاں مسیح موجود ہے اور خدا کی دہنی طرف بیٹھا ہے۔“—۱:۱۲-۱۶؛ ۳:۱۔
[فٹنوٹ]
a دی نیو ویسٹمنسٹر ڈکشنری آف دی بائبل، ۱۹۷۰، صفحہ ۱۸۱۔