یسوع مسیح کے نمونے کی نقل کریں
۱. یسوع مسیح نے کیسا نمونہ قائم کِیا؟
۱ جب ہم شاگرد بنانے کے کام میں حصہ لیتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا نمونہ لوگوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ یسوع مسیح نے اپنے کام اور کلام کے ذریعے تعلیم دی۔ اس سے لوگ اُس کے جوشوجذبے، انسانوں کے لئے اُس کی محبت، اپنے باپ کے نام کو جلال دینے کی اُس کی خواہش اور خدا کی مرضی پوری کرنے کے اُس کے عزم کو دیکھ سکتے تھے۔—۱-پطر ۲:۲۱۔
۲. ہمارا نمونہ منادی میں ہمارے ساتھ کام کرنے والوں کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے؟
۲ گھرباگھر منادی کے دوران: یسوع کی طرح ہمارا نمونہ بھی ہمارے ساتھ کام کرنے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ جب نئے اور کم تجربہکار مبشر ہمیں سرگرمی سے منادی میں حصہ لیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس کام میں حصہ لینے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ جب وہ ہماری خوشی اور دوسروں میں حقیقی دلچسپی کو دیکھیں گے تو وہ بھی منادی کے دوران ایسی خوبیاں ظاہر کرنے کی اہمیت کو سمجھ جائیں گے۔ ہمیں مستعدی سے صحائف استعمال کرتے، واپسی ملاقاتوں پر جاتے اور بائبل مطالعے کراتے دیکھ کر وہ بھی ایسا ہی کرنے کی تحریک پائیں گے۔
۳. ہم اپنے نمونے سے بائبل طالبعلموں کو کیسے سکھا سکتے ہیں، اور وہ اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۳ بائبل مطالعے کراتے وقت: ہمارے بائبل طالبعلم خاص طور پر ہمارے چالچلن پر غور کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب ہم اُنہیں مطالعے کی تیاری کرنے، صحیفوں کو کھول کر پڑھنے اور خاص نکات پر نشان لگانے کی اہمیت بتاتے ہیں تو وہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ آیا ہم نے خود ایسا کِیا ہے یا نہیں۔ (روم ۲:۲۱) اگر ہم اُنہیں مقررہ وقت پر بائبل مطالعہ کراتے ہیں تو وہ بھی دوسرے کاموں کو مطالعہ کی راہ میں حائل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بِلاشُبہ وہ منادی کے لئے خوشی سے دی جانے والی ہماری قربانیوں اور ہمارے مضبوط ایمان پر غور کریں گے۔ یہ سچ ہے کہ یسوع کے نمونے کی نقل کرنے والوں کے بائبل مطالعے اکثر سرگرم اور کامیاب مناد ثابت ہوتے ہیں۔
۴. کلیسیائی اجلاسوں پر آنے والے نئے اشخاص ہمارے نمونے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۴ کلیسیائی اجلاسوں پر: کلیسیا کے تمام ارکان اجلاسوں پر اپنے نمونے سے تعلیم دینے میں حصہ لیتے ہیں۔ اجلاسوں پر آنے والے نئے اشخاص کلیسیا میں بہنبھائیوں کے اچھے نمونے کو دیکھ کر فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ وہ برادرانہ محبت، مسیحی اتحاد، حیادار لباس اور بناؤسنگھار کو دیکھتے ہیں۔ (زبور ۱۳۳:۱) وہ کلیسیائی اجلاسوں پر ہماری باقاعدہ حاضری اور ہمارے ایمانافزا تبصروں پر بھی غور کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہمارے اجلاسوں پر آنے والے ایک شخص نے دیکھا کہ ایک چھوٹی لڑکی پڑھے جانے والے صحائف کو اپنی بائبل سے جلدی جلدی کھول کر دیکھ رہی ہے۔ وہ اس چھوٹی لڑکی کے نمونے سے اتنا متاثر ہوا کہ اُس نے بائبل مطالعے کے لئے درخواست کی۔
۵. ہمیں اپنے نمونے کو کم اہم کیوں خیال نہیں کرنا چاہئے؟
۵ صحائف ہماری حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے اچھے نمونے کی نقل کریں۔ (فل ۳:۱۷؛ عبر ۱۳:۷) پس، ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہم یسوع مسیح کے نمونے کی نقل کرتے ہیں تو ہمارا نمونہ بھی دوسروں پر اچھا اثر چھوڑ سکتا ہے۔ دُعا ہے کہ اس بات کو سمجھتے ہوئے ہم ۱-تیمتھیس ۴:۱۶ میں درج الفاظ پر سنجیدگی سے دھیان دیں جو بیان کرتی ہے: ”اپنی اور اپنی تعلیم کی خبرداری کر۔“