حلیموں کو خدائی راہ پر چلنا سکھائیں
۱ پہلی صدی میں یسوع مسیح کے شاگردوں کو ”طریق“ پر چلنے والا کہا جاتا تھا۔ (اعما ۹:۲) سچی مسیحیت میں ایک شخص کا تمام طرزِزندگی شامل ہے۔ (امثا ۳:۵، ۶) لہٰذا، بائبل مطالعے کراتے وقت محض پاککلام سے عقائد کا درست علم سکھانا ہی کافی نہیں ہے۔ ہمیں بائبل طالبعلموں کی یہوواہ کی راہ پر چلنے کیلئے بھی مدد کرنی چاہئے۔—زبور ۲۵:۸، ۹۔
۲ طالبعلموں کی یہوواہ اور یسوع کیلئے محبت پیدا کرنے میں مدد کریں: ناکامل انسانوں کی سوچ، رویے، بولچال اور چالچلن کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالنا واقعی ایک چیلنج ہے! (روم ۷:۲۱-۲۳؛ افس ۴:۲۲-۲۴) تاہم، خدا اور یسوع مسیح کیلئے محبت حلیم اشخاص کو یہ چیلنج قبول کرنے کی تحریک دیگی۔ (یوح ۱۴:۱۵؛ ۱-یوح ۵:۳) ہم اس محبت کو پیدا کرنے میں بائبل طالبعلموں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
۳ یہوواہ خدا کی شخصیت کے بارے میں جاننے کے لئے اپنے طالبعلموں کی مدد کریں۔ ایک بھائی وضاحت کرتا ہے: ”لوگ کسی ایسے شخص سے محبت نہیں کر سکتے جس سے وہ ناواقف ہیں۔ اسلئے، مَیں مطالعے کے شروع ہی سے اپنے طالبعلموں کو بائبل میں سے خدا کا نام سکھاتا اور یہوواہ کی خوبیوں پر زور دینے کے مواقع کی تلاش میں رہتا ہوں۔“ یہوواہ کی شخصیت کی بابت جاننے میں اُنکی مدد کیلئے یسوع کے نمونے کی اہمیت کو نمایاں کریں۔ (یوح ۱:۱۴؛ ۱۴:۹) اسکے علاوہ، یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی شاندار خوبیوں پر غور کرنے میں طالبعلم کی مدد کیلئے علم کی کتاب کے ہر باب کے آخر میں دئے گئے بکس کی دہرائی کریں۔
۴ اپنے نمونے سے سکھائیں: اُستادوں اور راہنمائی کرنے والوں کے طور پر ہمیں اپنے اعمال سے یہ ظاہر کرنا چاہئے کہ خدائی راہ پر چلنے کا کیا مطلب ہے۔ (۱-کر ۱۱:۱) مثال کے طور پر، بہتیرے بائبل طالبعلم اجنبی لوگوں سے اُنکے عقائد کے متعلق باتچیت کرنا مشکل پاتے ہیں۔ لہٰذا، ایسا کرنے میں اُنکی مدد کرنا برداشت کا تقاضا کرتا ہے۔ اسکے علاوہ، طالبعلم کو منادی کرنے اور شاگرد بنانے کے کام میں حصہ لینے کیلئے محبت، ایمان اور دلیری کی ضرورت ہے۔ ہمیں اُنکے اندر یہ خوبیاں پیدا کرنے میں ماہر ہونا چاہئے۔ (۲-کر ۴:۱۳؛ ۱-تھس ۲:۲) اپنے طالبعلموں کی راہنمائی کرنے کی خواہش ہمیں تحریک دیگی کہ جب وہ مسیحی خدمتگزاری میں جانا شروع کرتے ہیں تو ہم اُنکی مدد کریں۔
۵ آپکے نمونے سے طالبعلم مسیحی طرزِزندگی کے دیگر اہم پہلوؤں کے متعلق بھی سیکھ سکتے ہیں۔ جب آپ کسی بیمار شخص سے ملاقات کرتے یا مسیحی اجلاسوں پر دوسروں کیساتھ گرمجوشی سے ملتے ہیں تو طالبعلم آپکی عملی محبت دیکھ سکتے ہیں۔ (یوح ۱۵:۱۲) جب آپ کنگڈم ہال کی صفائی کرنے میں حصہ لیتے ہیں یا دوسروں کے لئے مفید کام کرتے ہیں تو آپ طالبعلم کو خدمت کرنا سکھا رہے ہوتے ہیں۔ (یوح ۱۳:۱۲-۱۵) جب وہ آپکے سادہ طرزِزندگی کو دیکھتے ہیں تو وہ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ ’پہلے بادشاہی کی تلاش کرنے‘ کا کیا مطلب ہے۔—متی ۶:۳۳۔
۶ خدا کے کلام سے دوسروں کو تعلیم دینے اور شاگرد بنانے کے کام کیلئے کوشش درکار ہے۔ تاہم، حلیم لوگوں کو ”حق پر چلتے ہوئے“ دیکھنا بہت خوشکُن ہوتا ہے!—۳-یوح ۴۔
[مطالعے کے سوالات]
۱. شاگرد بنانے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۲. کیا چیز ایک بائبل طالبعلم کو خدا کے حکموں پر عمل کرنے کی تحریک دے سکتی ہے؟
۳. ہم خدا اور یسوع کیلئے محبت پیدا کرنے میں طالبعلموں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
۴. (ا) بہتیرے طالبعلموں کیلئے منادی کرنا ایک چیلنج کیوں ہے؟ (ب) مسیحی خدمتگزاری شروع کرنے کے سلسلے میں ہم اپنے طالبعلموں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
۵. خدا کے حکموں کو ماننے کے سلسلے میں عمدہ نمونہ طالبعلموں کی مدد کیسے کر سکتا ہے؟
۶. یہوواہ کی خدمت کرنے میں حلیم لوگوں کی مدد کرنے سے کیا نتائج حاصل ہوتے ہیں؟