یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 2/‏07 ص.‏ 6
  • دیانتداری اَجر کا باعث ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دیانتداری اَجر کا باعث ہے
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۷
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۷
خدم 2/‏07 ص.‏ 6

دیانتداری اَجر کا باعث ہے

۱ بددیانتی کا آغاز باغِ‌عدن میں ہوا اور یہ آج تک جاری ہے۔ زیادہ‌تر تہذیبوں اور معاشروں میں دیانتداری کی بڑی قدر کی جاتی ہے۔ تاہم، جھوٹ اور دھوکادہی کو ناپسند کرنے کے ساتھ ساتھ گناہ خیال کِیا جاتا ہے۔ جبکہ قابلِ‌اعتماد ہونا باعثِ‌فخر سمجھا جاتا ہے۔ مگر بہتیرے لوگ کہتے ہیں کہ زندہ رہنے کے لئے بددیانتی کرنا اشد ضروری ہے۔ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا دیانتداری کی خوبی پیدا کرنے کا کوئی فائدہ ہے؟ آپ کے خیال میں دیانتدار ہونے میں کیا شامل ہے اور کیا نہیں؟‏

۲ خدا کو خوش کرنے کے لئے ہمیں سچ بولنے اور راستی سے زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔ (‏افس ۴:‏۲۵‏)‏ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏ہم ہر بات میں نیکی کے ساتھ زندگی گذارنا چاہتے ہیں۔“‏ (‏عبر ۱۳:‏۱۸‏)‏ ہمارے دیانتدار ہونے کا مقصد دوسروں سے تعریف کرانا نہیں ہے بلکہ ہم اپنے خالق کا احترام کرتے اور اُسے خوش کرنا چاہتے ہیں۔‏

۳ اپنی شناخت کو نہ چھپائیں:‏ بہتیرے ممالک میں لوگ زندگی میں فوائد حاصل کرنے کے لئے غلط‌بیانی کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ غیرقانونی طور پر کسی دوسرے ملک میں جانے، اپنی قابلیت سے بڑھکر ملازمت یا مرتبہ حاصل کرنے کے لئے جعلی کاغذات، ڈپلومے اور شناختی کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ بعض والدین اپنے بچوں کا سکول میں جلدی داخلہ کرانے کے لئے اُن کی پیدائش کا جعلی سرٹیفکیٹ بنواتے ہیں۔ خدا کو خوش کرنے کے لئے ہم بددیانتی یا دھوکادہی سے کام نہیں لے سکتے اور نہ ہی خدا کے ساتھ قریبی رشتہ رکھنے کے لئے اپنی شناخت کو چھپانے والے ’‏ریاکار‘‏ لوگوں کی نقل کر سکتے ہیں۔—‏زبور ۲۶:‏۴‏۔‏

۴ عموماً لوگ اُس وقت بھی سچائی کو چھپاتے ہیں جب غلطی کرنے پر اُن کی درستی کی جاتی ہے۔ مسیحی کلیسیا کے اندر بھی کوئی شخص ایسا کرنے کی آزمائش میں پڑ سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک کلیسیا میں ایک نوجوان نے بزرگوں کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار تو کر لیا مگر ثبوت کے باوجود یہ تسلیم نہیں کِیا کہ اُس نے چوری کی ہے۔ آخرکار یہ پتہ چل گیا کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے۔ نتیجتاً اُسے کلیسیا سے خارج کر دیا گیا۔ کیا اُس کے لئے یہ دانشمندی کی بات نہ ہوتی کہ وہ مکمل طور پر دیانتدار رہتا اور خدا کے ساتھ اپنے بیش‌قیمت رشتے کو بحال کرنے کے لئے مدد حاصل کرتا؟ بہرحال بائبل کہتی ہے:‏ ”‏اَے میرے بیٹے!‏ [‏یہوواہ]‏ کی تنبیہ کو ناچیز نہ جان اور جب وہ تجھے ملامت کرے تو بیدل نہ ہو۔ کیونکہ جس سے [‏یہوواہ]‏ محبت رکھتا ہے اُسے تنبیہ بھی کرتا ہے۔“‏​—‏⁠عبر ۱۲:‏۵، ۶‏۔‏

۵ دیانتدار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم پہلے خود اپنے ساتھ دیانتدار ہوں۔ ہم اکثر اُسی بات کا یقین کرتے ہیں جس کا یقین ہم کرنا چاہتے ہیں خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ ہمارے لئے اپنی غلطی کا الزام کسی دوسرے پر لگانا بڑا آسان ہوتا ہے!‏ مثال کے طور پر، ساؤل بادشاہ نے خدا کی نافرمانی کی لیکن خود کو بے‌گناہ ثابت کرنے کے لئے دوسروں پر الزام لگایا۔ اسی وجہ سے یہوواہ خدا نے اُسے رد کر دیا کہ وہ بادشاہ نہ رہے۔ (‏۱-‏سمو ۱۵:‏۲۰-‏۲۳‏)‏ ساؤل کے برعکس بادشاہ داؤد بہت مختلف تھا۔ اُس نے یہوواہ خدا سے دُعا کی:‏ ”‏مَیں نے تیرے حضور اپنے گُناہ کو مان لیا اور اپنی بدکاری کو نہ چھپایا۔ مَیں نے کہا مَیں [‏یہوواہ]‏ کے حضور اپنی خطاؤں کا اقرار کروں گا اور تُو نے میرے گُناہ کی بدی کو معاف کِیا۔“‏—‏زبور ۳۲:‏۵‏۔‏

۶ دیانتداری برکات لاتی ہے:‏ دیانتداری یا بددیانتی آپ کی بابت دوسروں کے نقطۂ‌نظر پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اگر آپ ایک بار کسی کو دھوکا دیتے ہیں تو اُس کا آپ پر سے اعتماد اُٹھ جائے گا۔ ایسے اعتماد کو دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اِس کی دوسری جانب اگر آپ سچ بولنے والے اور دیانتدار ہیں تو آپ ایک راستباز اور قابلِ‌بھروسا شخص کے طور پر شہرت حاصل کریں گے۔ یہوواہ کے گواہوں کو ایسی ہی شہرت حاصل ہے۔ اِس کے لئے چند مثالوں پر غور کریں۔‏

۷ ایک کمپنی کے ڈائریکٹر نے محسوس کِیا کہ اُس کے زیادہ‌تر ملازم کمپنی کے ساتھ فراڈ کر رہے ہیں۔ اُس نے پولیس کے ذریعے تحقیقات کرائی۔ جب اُسے معلوم ہوا کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک یہوواہ کا گواہ بھی شامل ہے تو وہ اُسے رِہا کرانے کے لئے فوراً پولیس اسٹیشن گیا۔ مگر کیوں؟ اسلئے‌کہ ڈائریکٹر جانتا تھا کہ وہ دیانتداری سے کام کرنے والا اور بے‌گناہ شخص ہے۔ انجام‌کار، یہوواہ کے گواہ کے علاوہ دیگر اشخاص کو ملازمت سے نکال دیا گیا۔ اُس کے ساتھی گواہ اِس بات کو جان کر بہت خوش تھے کہ اُس کا چال‌چلن یہوواہ خدا کے نام کے لئے جلال کا باعث بنا ہے۔‏

۸ اچھے چال‌چلن کو نظرانداز نہیں کِیا جاتا۔ افریقہ کے ایک علاقے میں بڑے نالے پر بنے لکڑی کے پُل سے کچھ تختے چوری ہو گئے تھے۔ اس لئے مقامی لوگوں نے اس کی مرمت کے لئے کچھ پیسے اکٹھے کرنے کا فیصلہ کِیا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوا کہ ان پیسوں کو دیانتداری سے استعمال کرنے کے لئے کس پر بھروسا کِیا جائے؟ سب اس بات پر متفق ہو گئے کہ کسی یہوواہ کے گواہ کے پاس پیسے جمع کرانا مناسب ہوگا۔‏

۹ امثال ۲۰:‏۷ بیان کرتی ہے، ’‏راست شخص اپنی راستی میں چلتا ہے۔‘‏ ایک دیانتدار شخص ہی راست ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو کبھی دھوکا نہیں دیتا۔ کیا آپ دوسروں سے ایسے ہی برتاؤ کی توقع نہیں کرتے؟ سچی پرستش میں دیانتداری بہت ضروری ہے۔ یہ خدا اور انسان کے لئے ہماری محبت کا ایک اظہار ہے۔ دیانتدار بننے سے ہم یسوع مسیح کے بتائے ہوئے اصول پر چلنے کی اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ اُس نے کہا:‏ ”‏جوکچھ تُم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں وہی تُم بھی اُن کے ساتھ کرو۔“‏—‏متی ۷:‏۱۲؛‏ ۲۲:‏۳۶-‏۳۹‏۔‏

۱۰ دیانتدار ہونے کی وجہ سے ہمیں ناخوشگوار نتائج کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سے حاصل ہونے والا نیک ضمیر ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ دیانتداری اور راستی بے‌شمار فوائد کا باعث بنتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہوواہ خدا کے ساتھ اچھا رشتہ ایک بیش‌قیمت چیز ہے۔ تاہم، کیا دوسروں کی نظروں میں اچھا بننے کے لئے بددیانتی کا سہارا لینے کا کوئی فائدہ ہے؟ خواہ ہمیں کیسے بھی حالات کا سامنا کیوں نہ ہو ہم زبورنویس کے ان الفاظ کو یاد رکھ سکتے ہیں:‏ ”‏مبارک ہے وہ آدمی جو [‏یہوواہ]‏ پر توکل کرتا ہے اور مغروروں اور دروغ دوستوں کی طرف مائل نہیں ہوتا۔“‏—‏زبور ۴۰:‏۴‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں