سُست پڑ جانے والے بہنبھائیوں کو نہ بھولیں
۱. ہمیں سُست پڑ جانے والے بہنبھائیوں کے پاس حوصلہافزائی کے لئے کیوں جانا چاہئے؟
۱ کیا آپ کسی سُست پڑ جانے والے بہنبھائی کو جانتے ہیں؟ شاید اُنہوں نے کلیسیا سے رفاقت رکھنا چھوڑ دی ہے اور وہ بہہ کر دُور چلے گئے ہیں۔ منادی کے دوران آپ کی کسی ایسے بہنبھائی سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سُست پڑ جانے والے اب تک ہمارے روحانی بہنبھائی ہیں۔ ہم اُنہیں اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتے اور کلیسیا میں ”اپنی روحوں کے گلّہبان اور نگہبان“ کے پاس واپس آنے میں مدد دینا چاہتے ہیں۔—۱-پطر ۲:۲۵۔
۲. ہم سُست پڑ جانے والوں کی حوصلہافزائی کیسے کر سکتے ہیں؟
۲ فکرمندی ظاہر کریں: ہم سُست پڑ جانے والے شخص کو ٹیلیفون کرنے یا اُس کے گھر جانے سے یہ یقین دلا سکتے ہیں کہ ہم اُسے بھولے نہیں۔ ہم ایسے شخص سے کس قسم کی باتچیت کر سکتے ہیں؟ ہم اُس کی حوصلہافزائی کرتے ہوئے اُسے بتا سکتے ہیں کہ ہم اُس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اپنی گفتگو کو خوشگوار اور مثبت رکھیں۔ (فل ۴:۸) ہم اُسے حالیہ اجلاس سے سیکھی ہوئی کچھ باتیں بتا سکتے ہیں۔ ہم اُسے اگلے اجلاس یا اسمبلی پر آنے کی دعوت دے سکتے، اپنے ساتھ لے جا سکتے یا اُس کے لئے اپنے ساتھ سیٹ رکھ سکتے ہیں۔
۳. ایک سُست پڑ جانے والی بہن کلیسیا کے ساتھ کیسے دوبارہ رفاقت رکھنے لگی؟
۳ منادی کے دوران ایک بہن کی ملاقات ۲۰ سال سے سُست پڑ جانے والی بہن سے ہوئی۔ اگرچہ یہ بہن بائبل مطالعہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھی توبھی اُس علاقے میں منادی کرنے والی بہن اُس سے دوبارہ ملاقات کرتی اور اُس کے پاس رسالے چھوڑتی رہی۔ ڈسڑکٹ کنونشن کے بعد اُس بہن نے کنونشن کے کچھ اہم نکات سُست پڑ جانے والی بہن کو بتائے۔ ایک وقت آیا کہ وہ بہن کلیسیا کے ساتھ دوبارہ رفاقت رکھنے لگی۔
۴. ہمیں کلیسیائی اجلاسوں پر دوبارہ حاضر ہونے والے اشخاص کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہئے؟
۴ جب کوئی واپس لوٹ آتا ہے: جب سُست پڑ جانے والا کوئی شخص اجلاسوں پر دوبارہ حاضر ہونا شروع کرتا ہے تو ہمیں اُس کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہئے؟ اس سلسلے میں یسوع مسیح کی مثال پر غور کریں۔ جب اُس کے رسول کچھ عرصے کے لئے اُسے چھوڑ کر چلے گئے تو اُن کے واپس آنے پر اُس نے اُن کے ساتھ کیسا سلوک کِیا تھا؟ اُس نے اُنہیں بڑی محبت سے ”بھائیوں“ کہہ کر پکارا اور اُن پر بھروسا ظاہر کرتے ہوئے اُنہیں ایک اہم کام سونپا۔ (متی ۲۸:۱۰، ۱۸، ۱۹) اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد شاگرد ’باز آئے‘ بغیر خوشخبری سنانے میں مصروف تھے۔—اعما ۵:۴۲۔
۵. کن صورتوں میں ہمیں سُست پڑ جانے والے شخص کے بارے میں بزرگوں سے راہنمائی حاصل کرنی چاہئے؟
۵ ہمیں سُست پڑ جانے والے کسی شخص کو بائبل مطالعے کی پیشکش کرنے یا طویل عرصے سے سُست پڑ جانے والے کسی بہنبھائی کو اپنے ساتھ منادی میں لے جانے سے پہلے بزرگوں سے راہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔ اگر ہم منادی کے دوران کسی سُست پڑ جانے والے شخص سے ملتے ہیں تو ہمیں اُس کے بارے میں کلیسیا کے بزرگوں کو اطلاع دینی چاہئے تاکہ وہ اُسے ضروری مدد فراہم کر سکیں۔
۶. ہم سُست پڑ جانے والوں کی مدد کرنے سے کس خوشی کا تجربہ کر سکتے ہیں؟
۶ بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ آخر تک برداشت کرنے والے ہی نجات پائیں گے۔ (متی ۲۴:۱۳) اس لئے کلیسیا سے دُور چلے جانے والے اشخاص پر توجہ دیں۔ یہوواہ خدا جیسی محبت ظاہر کرتے ہوئے صبر کے ساتھ سُست پڑ جانے والوں کے لئے فکرمندی ظاہر کریں۔ اس طرح ہم اُن کو دوبارہ اپنے ساتھ پاک خدمت کرتے ہوئے دیکھنے کی خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔—لو ۱۵:۴-۱۰۔