رضاکارانہ خدمت کا جذبہ برکات کا باعث بنتا ہے
۱. داؤد اور نحمیاہ نے رضاکارانہ خدمت کے جذبے کا مظاہرہ کیسے کِیا؟
۱ جب جولیت اسرائیلی لشکر کی فضیحت یعنی حقارت کر رہا تھا تو کوئی بھی فوجی اُس سے لڑنے کے لئے جا سکتا تھا۔ مگر اُس کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک چھوٹے لڑکے نے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کِیا حالانکہ وہ ایک چرواہا تھا اور اُسے جنگ لڑنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ (۱-سمو ۱۷:۳۲) جب اسیر یہودی یروشلیم میں واپس لوٹے تو وہ اُس کی دیواروں کو تعمیر نہ کر سکے۔ تب بادشاہ خورس کے ساقی نے محل میں اپنے عہدے کو چھوڑا اور رضاکارانہ طور پر یروشلیم میں کام کو منظم کرنے کیلئے گیا۔ (نحم ۲:۵) یہوواہ خدا نے داؤد اور نحمیاہ کو ایسا جذبہ ظاہر کرنے کے لئے بہت سی برکات سے نوازا۔—ا-سمو ۱۷:۴۵، ۵۰؛ نحم ۶:۱۵، ۱۶۔
۲. مسیحیوں کو رضاکارانہ خدمت کا جذبہ کیوں ظاہر کرنا چاہئے؟
۲ آجکل دُنیا میں رضاکارانہ خدمت کے جذبے کی کمی پائی جاتی ہے۔ اِس ”اخیر زمانہ“ میں زیادہتر لوگ مصروف زندگی گزار رہے ہیں اور دیگر ”خودغرض“ ہیں۔ (۲-تیم ۳:۱، ۲) اِس وجہ سے کوئی بھی شخص آسانی سے اپنے ذاتی کاموں میں اِس حد تک مگن ہو سکتا ہے کہ وہ ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد کرنے کے جذبے کو نظرانداز کر سکتا ہے۔ لیکن مسیحیوں کے طور پر، ہم یسوع مسیح کی نقل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے کے لئے پہل کرتا تھا۔ (یوح ۵:۵-۹؛ ۱۳:۱۲-۱۵؛ ۱-پطر ۲:۲۱) ہم رضاکارانہ خدمت کا جذبہ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں، اور ہمیں کونسی برکات حاصل ہوں گی؟
۳. کلیسیائی اجلاسوں میں رضاکارانہ خدمت کا جذبہ کیا کردار ادا کرتا ہے؟
۳ اپنے کلیسیائی بہنبھائیوں کے لئے: جب اجلاسوں کے دوران سوالاًجواباً باتچیت ہوتی ہے تو ہم اپنے تبصروں کے ذریعے دوسروں کو ”روحانی نعمت“ دے سکتے ہیں۔ (روم ۱:۱۱) تبصرے یہوواہ کو جلال دینے اور سچائی کو ہمارے دلودماغ میں نقش کرنے کے علاوہ اجلاسوں کو ہمارے لئے پُرلطف بناتے ہیں۔ (زبور ۲۶:۱۲) جب مسیحی خدمتی سکول میں تقریر پیش کرنے کے لئے رضاکار کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم رضاکارانہ طور پر تقریر پیش کر سکتے ہیں۔ اِس سے ہمیں اپنی تعلیم دینے کی لیاقت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
۴. ہم دیگر کن طریقوں سے رضاکارانہ خدمت کے جذبے کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟
۴ بھائی کلیسیائی ذمہداریاں اُٹھانے کے لئے آگے بڑھنے سے رضاکارانہ خدمت کے جذبے کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ (یسع ۳۲:۲؛ ۱-تیم ۳:۱) ہم اسمبلیوں اور کنونشنوں پر مختلف شعبوں میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے سے پروگرام کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ جب ہم سفری نگہبان کے ساتھ منادی کرنے یا اُن کیلئے کھانے کا اہتمام کرنے کیلئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں تو اس سے ’باہمی حوصلہافزائی‘ حاصل ہوتی ہے۔ (روم ۱:۱۲) جب ہم کلیسیا میں یتیموں، بیواؤں، بیماروں، معذوروں، چھوٹے بچوں والی ماؤں اور دیگر بہنبھائیوں کی مدد کرتے ہیں تو ہم خوشی اور یہوواہ کی حمایت کا تجربہ کرتے ہیں۔—امثا ۱۹:۱۷؛ اعما ۲۰:۳۵۔
۵. کنگڈم ہال کے سلسلے میں رضاکارانہ خدمت پیش کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۵ رضاکارانہ خدمت کا جذبہ ظاہر کرنے کا ایک اَور طریقہ کنگڈم ہال کی صفائیستھرائی اور مرمت کرنے کے لئے اپنا وقت اور توانائی صرف کرنا ہے۔ اس کے علاوہ، بہتیرے لوگوں کے سچائی میں آنے کی وجہ سے نئے کنگڈم ہالز کی تعمیر کے سلسلے میں رضاکاروں کی اشد ضرورت ہے۔ ایک شادیشُدہ جوڑا تعمیراتی کام کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ پھربھی، اُنہوں نے مقامی تعمیراتی کمیٹی کے ساتھ کام کرنے کیلئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کِیا۔ اِس کے بعد اُنہیں کام کی تربیت دی گئی اور اب وہ اینٹیں بنانے کے کام میں مدد دیتے ہیں۔ بیوی کہتی ہے: ”دوسروں کے ساتھ کام کرنے سے ہم قریبی دوستی سے لطف اُٹھانے کے قابل ہوئے ہیں۔ دن کے آخر پر ہم جسمانی تھکاوٹ کے باوجود خود کو روحانی طور پر تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔“
۶. منادی ایک اہم رضاکارانہ کام کیوں ہے؟
۶ منادی کے ذریعے: آجکل ہم جو سب سے اہم رضاکارانہ کام کر سکتے ہیں وہ بادشاہتی خوشخبری کی منادی ہے۔ جب لوگوں کو بائبل کی تعلیم کو سمجھنے اور اِس کی مشورت پر عمل کرنے کے سلسلے میں مدد دی جاتی ہے تو اُن کی زندگی بامقصد بن جاتی ہے اور وہ بُری عادات پر قابو پانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ وہ بائبل سے مستقبل کی اُمید کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ دوسروں کو بائبل کی تعلیم دینے سے ہم ایسی رضاکارانہ خدمت انجام دیتے ہیں جو خوشی اور ابدی برکات کا باعث بنتی ہے۔ (یوح ۱۷:۳؛ ۱-تیم ۴:۱۶) شاید ہمارے حالات ہمیں اس بات کی اجازت دیں کہ ہم امدادی یا باقاعدہ پائنیر خدمت کرنے سے اس کام میں حصہ لے سکیں۔ اس کے لئے ہو سکتا ہے کہ ہمیں کسی زیادہ ضرورت والے علاقے میں جانے یا کوئی دوسری زبان سیکھنے کی ضرورت ہو۔
۷. آجکل رضاکارانہ خدمت کرنا کیوں اہم ہے؟
۷ بادشاہ داؤد نے پیشینگوئی کی کہ جب مسیحا اپنی حکمرانی شروع کرے گا تو ”لوگ خوشی سے اپنے آپ کو پیش“ کریں گے۔ (زبور ۱۱۰:۳) یہوواہ کے ساتھ روحانی کٹائی کے حتمی کام کو تیزی سے انجام دینے کے لئے رضاکاروں کی ضرورت ہے۔ (یسع ۶۰:۲۲) کیا آپ بھی یسعیاہ کی طرح یہ کہتے ہیں: ”مَیں حاضر ہوں مجھے بھیج۔“ (یسع ۶:۸) واقعی، ہم رضاکارانہ خدمت کے جذبے کا مظاہرہ کرنے سے یہوواہ کو خوش کرتے اور اس کے بدلے میں بےشمار برکات حاصل کرتے ہیں۔