مسیحی خدمتی سکول کا اعادہ
مندرجہذیل سوالات ہفتہ شروع از اپریل ۲۴، ۲۰۰۶ کے ہفتے کے دوران مسیحی خدمتی سکول میں زبانی اعادہ کے تحت زیرِغور آئیں گے۔ سکول اوورسیئر مارچ ۶ تا اپریل ۲۴، ۲۰۰۶ کی تفویضات میں پیش کئے جانے والے مواد پر مبنی ۳۰ منٹ کا اعادہ کرے گا۔ [نوٹ: جن سوالوں کے ساتھ کوئی حوالہ نہیں دیا گیا اُن کے جواب تلاش کرنے کے لئے آپ کو خود تحقیق کرنی ہوگی۔]
تقریری لیاقت
۱. دوسرا سموئیل ۱۲:۱-۶ میں درج ناتن نبی اور بادشاہ داؤد کے درمیان ہونے والی باتچیت کیسے اس ضرورت اور اہمیت کو واضح کرتی ہے کہ تمثیلیں ہمارے سامعین کے مطابق ہونی چاہئیں؟ [ایچٹی ص. ۷۴، پ. ۱۵، ۱۶] جب بتسبع کیساتھ داؤد کے گناہ کی وجہ سے ناتن کو اُسکی اصلاح کرنے کیلئے بھیجا گیا تو اُس نے ایک غریب آدمی اور اُسکی ایک چھوٹی بھیڑ کی تمثیل کا انتخاب کِیا۔ یہ تمثیل نہ صرف دانشمندانہ تھی بلکہ یہ داؤد کیلئے موزوں بھی تھی کیونکہ وہ ایک چرواہا رہ چکا تھا۔ وہ اُسکا مطلب فوراً سمجھ گیا۔
۲. روزمرّہ زندگی سے متعلق تمثیلیں استعمال کرنے کا کیا فائدہ ہے اور یسوع نے ایسا کیسے کِیا؟ [ایچٹی ص. ۷۵، پ. ۱۷، ۱۸] اگر ہماری تمثیلیں روزمرّہ زندگی سے تعلق رکھتی ہیں تو ہمارے سامعین اُن سے ضرور واقف ہوں گے۔ یسوع نے کنوئیں پر ایک عورت کیساتھ باتچیت کرتے ہوئے ایسا ہی کِیا۔ اُس نے اپنی زندگیبخش باتوں کو پانی سے تشبِیہ دی۔ اُس نے زندگی کی غیرمعمولی چیزوں کی بجائے معمولی چیزوں پر توجہ دلائی۔ یسوع کی تمثیلیں اُسکے سامعین کے ذہنوں میں فوراً نقش ہو جاتی تھیں یا وہ اُنہیں زندگی کے کسی ذاتی تجربے کی یاد دلاتی تھیں۔ یسوع نے تعلیم دینے کیلئے تمثیلوں کو استعمال کِیا۔
۳. مواد کو خدمتگزاری کے مطابق ڈھالنے میں کیا کچھ شامل ہے؟ [ایچٹی ص. ۷۶، پ. ۱-۳] ڈھالنے کا مطلب نئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے کیلئے تبدیلی لانا ہے۔ لہٰذا، مواد کو میدانی خدمتگزاری کے مطابق ڈھالنے کیلئے ہمیں اپنی پیشکشوں کو یا تقریر کو مخصوص سامعین اور بالخصوص منادی میں ملنے والے نئے اشخاص کیلئے سادہ اور قابلِفہم بنانے کی ضرورت پر زور دینا چاہئے۔
۴. اپنی خدمتگزاری میں قابلِفہم الفاظ کے استعمال کے سلسلے میں ہمارا چوکس ہونا کیوں اہم ہے؟ [ایچٹی ص. ۷۷، پ. ۴، ۵] صحائف کی سمجھ نے ہمیں ایسا ذخیرۂالفاظ فراہم کِیا ہے جس سے لوگ عام طور پر واقف نہیں ہوتے۔ ہم ”بقیہ،“ ”دوسری بھیڑیں“ جیسی دیگر اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم منادی کے دوران ایسی اصطلاحوں کو اپنی گفتگو میں استعمال کرتے ہیں تو لوگ انکا مطلب نہیں سمجھ سکیں گے۔ موزوں مترادف الفاظ استعمال کرنے یا قابلِفہم وضاحت کرنے سے اِنہیں بیان کِیا جانا چاہئے۔ ہم نئے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو تھیوکریٹک اصطلاحوں سے واقف کرانا چاہتے ہیں لیکن اس سلسلے میں چوکس ہوتے ہوئے جہاں ضرورت پڑے ہمیں اِنکی وضاحت بھی کرنی چاہئے۔
۵. صاحبِخانہ کے لئے مواد کی عملی اہمیت کو اُجاگر کرنے میں کیا کچھ شامل ہے؟ [ایچٹی ص. ۷۸، پ. ۱۱، ۱۲] ہمیں صاحبِخانہ پر مواد کی اہمیت کو نمایاں کرنے کیلئے یہ واضح کرنا چاہئے کہ یہ مواد اُس کیلئے اہم ہے یعنی اُسے اِسکی ضرورت ہے یا وہ اِسے استعمال کر سکتا ہے۔ اس میں سامعین سے رابطہ اور استدلال کرنے میں اُنکی مدد کرنے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ اس میں صاحبِخانہ کو مواد کا اطلاق کرنا سکھانا بھی شامل ہے۔
تفویض نمبر ۱
۶. آجکل مسیحیوں کی صورتِحال آستر اور مردکی کی حالت سے کیسے ملتیجلتی ہے، اور ہم اُن کی نقل کیسے کر سکتے ہیں؟ [ایسآئی ص. ۹۴، پ ۱۷] آستر اور مردکی کی طرح، مسیحی بھی بیگانہ دُنیا میں ”اعلےٰ حکومتوں“ کے تابع ہیں۔ وہ جس مُلک میں رہتے ہیں اُسکے قانون کی پابندی کرتے ہوئے ”جو قیصرؔ کا ہے قیصرؔ کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا“ کرتے ہیں۔ (روم ۱۳:۱؛ لو ۲۰:۲۵؛ آستر ۱:۱؛ ۲:۵، ۷، ۸، ۲۱-۲۳) خدا کی مرضی بجا لانے کے سلسلے میں مسیحیوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ دُنیاوی حکومتوں کی تابعداری نسبتی ہے۔ جیساکہ مردکی نے اجاجی ہامان کو شاہی حکم کے باوجود سجدہ نہیں کِیا تھا۔ (آستر ۳:۱-۴؛ ۵:۹) اُسی طرح مسیحی بھی جب حالات تقاضا کریں تو قانون کا سہارا لے سکتے ہیں۔ (آستر ۴:۶-۸؛ اعما ۲۵:۱۱)
۷. جب سلیمان نے یہ کہا: ”سب کچھ بطلان اور ہوا کی چران ہے“ تو وہ کیا بیان کر رہا تھا؟ (واعظ ۲:۱۱) [م۰۴ ۱۵/۱۰ ص ۴، پ. ۳، ۴] سیاقوسباق میں سلیمان ایک ایسی زندگی کی بابت بیان کر رہا تھا جسکا مرکز عیشوعشرت کی جستجو اور وہ سب کچھ حاصل کرنا ہے جو یہ دُنیا مادی اور جسمانی لحاظ سے پیش کرتی ہے۔ سلیمان نے عمارتیں بنائیں، باغات تیار کئے، تاکستان لگائے۔ اسکے علاوہ اُسکے پاس نوکرچاکر، گائےبیل اور بھیڑ بکریاں، جائیداد اور مالودولت بھی تھا۔ اُس نے گانے والوں اور گانے والیوں کو بھی رکھا۔ پھربھی، ان چیزوں کی کوئی دائمی قدروقیمت نہیں تھی۔ ان چیزوں سے اُسے ابدی تسکین نہ ملی۔ (واعظ ۲:۱-۱۰) آخر میں اُس نے کہا کہ حقیقی تسکین صرف روحانی باتوں کو اہمیت دینے سے ملتی ہے۔ (واعظ ۱۲:۱۳)
۸. ہم خدا کے لئے محبت کیسے پیدا سکتے ہیں؟ (مر ۱۲:۳۰) [م۰۴ ۱/۳ ص. ۱۹-۲۱] ہم بائبل کے گہرے مطالعے کے ذریعے خدا اور اسکے مقصد کی بابت علم حاصل کرنے سے اُس کیلئے محبت پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم خدا کے کاموں پر دھیان دے سکتے اور جوکچھ ہم سیکھتے ہیں اُس پر غوروخوض کر سکتے ہیں۔ (زبور ۷۷:۶، ۱۱، ۱۲) یہوواہ کی خدمت کرنے اور اُسکی راہوں پر چلنے سے ملنے والے فوائد اور زندگی کے خوشگوار تجربات کو یاد کرنے سے یہوواہ کیلئے ہماری محبت بڑھ سکتی ہے۔ (امثا ۳:۵، ۶)
۹. روحانی اقدار اور مادہپرستی کے درمیان کیا موازنہ کِیا جا سکتا ہے؟ [م۰۴ ۱۵/۱۰ ص. ۵-۷] روحانی اقدار کی جستجو کرنا ابدی خوشیوں اور برکتوں کا باعث بنتا ہے جبکہ مادہپرستی عارضی تسکین کیساتھ موت کا سبب بنتی ہے۔ (امثا ۱۱:۴؛ متی ۵:۳؛ ۲-کر ۴:۱۸) مادہپرستی اکثروبیشتر ناجائز اور پُرفریب طریقوں سے لوگوں کو مالودولت، رتبے، طاقت حاصل کرنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ جبکہ روحانی اقدار کا حامل شخص لینے والا بننے کی بجائے دینے والا بن سکتا ہے۔ (یسع ۴۸:۱۸؛ ۱-تیم ۶:۹، ۱۰)
۱۰. ہم چھوٹے چھوٹے روحانی نشانے قائم کرنے سے کیسے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟ [م۰۴ ۱۵/۷ پ. ۲۱-۲۳] بعض نشانے حاصل کرنا شروع شروع میں مشکل ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، ہم اپنے طویلالمدت نشانوں کو چھوٹے چھوٹے نشانوں میں بدل کر اچھا کرتے ہیں۔ یہ اس سنگِمیل کی طرح ہے جو شاہراہ کے کنارے پر لگا ہوتا ہے اور جس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم اپنا سفر کس حد تک ختم کر چکے ہیں۔ اپنے ارادوں کی بابت یہوواہ سے باقاعدہ دُعا بھی ہمیں اپنی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہے۔ پولس رسول نے تاکید کی: ”بِلاناغہ دُعا کرو۔“ (۱-تھس ۵:۱۷)
ہفتہوار بائبل پڑھائی
۱۱. ہامان کے مُنہ کو کیوں ڈھانک دیا گیا تھا؟ (آستر ۷:۸) ہامان نے شرم یا پشیمانی کے باعث اپنا مُنہ نہیں ڈھانکا تھا۔ بلکہ شاہی دربانوں نے ذلت یا ہلاکت ظاہر کرنے کیلئے اُسکا مُنہ ڈھانک دیا تھا۔ غالباً یہ موت کی سزا کی تعمیل میں پہلا قدم تھا۔ [۱، م ۸۶/۳ ص۔ ۹]
۱۲. الیفز کی سوچ کو کس روح نے متاثر کِیا؟ (ایو ۴:۱۵، ۱۶) [م۰۵ ۱۵/۹ ص. ۲۶، پ. ۲] الیفز کی تنقیدی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ روحانی مخلوق خدا کا راستباز فرشتہ نہیں تھا۔ (ایو ۴:۱۷، ۱۸) الیفز ایک بدروح کے زیرِاثر آ گیا تھا۔ اُسکی باتیں بیدین سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا توپھر خدا الیفز اور اُسکے ساتھیوں کو جھوٹی باتیں کرنے سے کیوں روکتا؟ (ایو ۴۲:۷)
۱۳. کیا ایوب ۷:۹، ۱۰ اور ۱۰:۲۱ میں درج بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایوب مُردوں کے جی اُٹھنے پر ایمان نہیں رکھتا تھا؟ جینہیں۔ اِن آیات میں درج ایوب کے بیانات کا تعلق اُسکی موجودہ حالت سے ہے۔ اسکا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اگر ایوب مر جاتا ہے تو اُسکے ساتھیوں میں سے کوئی اُسے دوبارہ نہ دیکھ پائے گا۔ اُنکے خیال سے نہ تو وہ اپنے گھر واپس جائے گا اور نہ ہی خدا کے وقتِمقررہ سے پہلے اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے قابل ہوگا۔ ایوب کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی سے پاتال یعنی قبر سے باہر نہیں آ سکتا۔ اس بات کا ثبوت ایوب ۱۴:۱۳-۱۵ سے ملتا ہے کہ نبی مستقبل میں مُردوں میں سے جی اُٹھنے پر ایمان رکھتا تھا۔ [۳، م ۰۶/۳ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے ایوب کی کتاب سے اہم نکات“]
۱۴. ایوب نے جب یہ کہا کہ ”مَیں نے فقط اپنے دانتوں کا پوست بچایا“ (کیتھولک ڈوئےورشن) تو اس سے اُس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ (ایو ۱۹:۲۰) یہ ضروری نہیں کہ ایوب کے بیان کی وضاحت سائنسدانوں کی حالیہ دریافتوں کی روشنی میں کی جائے۔ (آئیٹی جِلد-۲ صفحہ ۹۷۷) ایوب کے یہ کہنے سے کہ وہ کسی ایسی چیز کی کھال یا جِلد کیساتھ بچ نکلا ہے جسکی جِلد ہوتی ہی نہیں۔ غالباً یہ مُراد تھی کہ اُسکے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ [۵، م ۰۶/۳ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے ایوب کی کتاب سے اہم نکات“]
۱۵. ایوب کا ان الفاظ سے کیا مطلب تھا کہ ”مَیں مرتے دم تک اپنی راستی کو ترک نہ کروں گا“ اور ہم اس سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (ایو ۲۷:۵) ایوب صرف اپنی راستی کو ترک کر سکتا تھا کیونکہ کسی شخص کی راستی کا انحصار خدا کیلئے اُسکی سچی محبت پر ہوتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں خدا کیلئے اپنی راستی برقرار رکھنے کیلئے اُس سے گہری محبت رکھنی چاہئے۔ [۶، م ۰۶/۳ ”یہوواہ کا کلام زندہ ہے ایوب کی کتاب سے اہم نکات“]