اپنے چالچلن سے گواہی دینا
۱ جسطرح یہوواہ کی بنائی ہوئی چیزیں بغیر کچھ کہے ہی اُسکی اَندیکھی صفتوں کا ثبوت پیش کرتی ہیں اِسی طرح ہمارا چالچلن، مسیحی خوبیاں اور پہناوا خاموش گواہی کا باعث بنتا ہے۔ (زبور ۱۹:۱-۳؛ روم ۱:۲۰؛ ۱-پطر ۲:۱۲؛ ۳:۱-۴) ہم سب کی یہ خواہش ہونی چاہئے کہ اپنے رویے سے ”ہر بات میں . . . خدا کی تعلیم کو رونق“ بخشیں۔—طط ۲:۱۰۔
۲ ناکامل انسان خدا کی تعلیم کو کیسے رونق بخش سکتے ہیں؟ یہ صرف خدا کے کلام کی راہنمائی اور پاک روح کی طاقت کے ذریعے ممکن ہے۔ (زبور ۱۱۹:۱۰۵؛ ۱۴۳:۱۰) خدا کا کلام ”زندہ اور مؤثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے۔“ (عبر ۴:۱۲) یہ ہمارے دل پر اثرانداز ہوتا اور ہمیں نئی انسانیت پہننے کے لائق بناتا ہے۔ (کل ۳:۹، ۱۰) پاک روح ہمارے اندر مہربانی، نیکی، تحمل اور ضبطِنفس جیسی دلکش خوبیاں پیدا کرتی ہے۔ (گل ۵:۲۲، ۲۳) کیا ہم خدا کے کلام اور رُوح کو اپنی زندگی پر اثرانداز ہونے کی اجازت دیتے ہیں؟—افس ۴:۳۰؛ ۱-تھس ۲:۱۳۔
۳ ہمارا رویہ دوسروں پر اثرانداز ہوتا ہے: جب ہم یہوواہ کے معیاروں کے مطابق چلتے اور اسکی خوبیوں کی نقل کرتے ہیں تو لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایک مثال پر غور کریں، ایک آدمی کا قد چھوٹا تھا جسکی وجہ سے اُسکے ساتھ ملازمت کرنے والے اکثر اسکا مذاق اُڑاتے تھے۔ اُسی دفتر میں کام کرنے والی ایک بہن ہمیشہ اسکے ساتھ بڑی عزت اور احترام سے پیش آتی تھی۔ اس وجہ سے اس آدمی نے بہن سے پوچھا کہ آپ دوسروں سے مختلف کیوں ہیں۔ اس نے جواب دیا کیونکہ مَیں اپنی زندگی میں بائبل اصولوں کا اطلاق کرتی ہوں۔ بہن نے اُسے بادشاہت کی شاندار اُمید کے بارے میں بھی بتایا۔ اُس آدمی نے بائبل مطالعہ شروع کر دیا اور بپتسمہ لے لیا۔ جب وہ اپنے ملک واپس گیا تو اسکے اچھے چالچلن سے متاثر ہو کر اسکے بہت سے رشتہداروں نے سچائی قبول کر لی۔
۴ کام کی جگہ پر، سکول میں یا رشتہداروں اور پڑوسیوں کیساتھ تعلقات میں ہمارا نیک چالچلن بغیر کچھ کہے ہی گواہی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ دوسروں کو خدا کی تمجید کرنے کی تحریک بھی دے سکتا ہے۔—متی ۵:۱۶۔