یہوواہ کو اپنی بہترین چیز دینا
۱ اسرائیل کو دی جانے والی یہوواہ کی شریعت نے واضح طور پر بیان کِیا کہ اسکے حضور قربانی کیلئے پیش کئے جانے والے جانوروں کو ”بےعیب“ ہونا تھا۔ ایک عیبدار جانور ناقابلِقبول تھا۔ (احبا ۲۲:۱۸-۲۰؛ ملا ۱:۶-۹) مزیدبرآں، قربانی پیش کرتے وقت تمام چربی—خاص حصہ—یہوواہ کی ہوتی تھی۔ (احبا ۳:۱۴-۱۶) یہوواہ اسرائیل کا باپ اور عظیم آقا ہونے کی وجہ سے بہترین چیز کا مستحق تھا۔
۲ قدیم زمانوں کی طرح، خدا آجکل بھی ہماری قربانیوں کے معیار میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ہماری خدمت کو یہوواہ کے لئے صحیح احترام ظاہر کرنا چاہئے۔ بیشک، ہر شخص کے حالات فرق ہوتے ہیں۔ تاہم، ہمارے پاس یہ یقین کرنے کے لئے اپنا جائزہ لینے کی اچھی وجہ ہے کہ ہم اُسے اپنی بہترین چیز پیش کر رہے ہیں۔—افس ۵:۱۰۔
۳ پورے دلوجان سے خدمت: یہوواہ کو جلال دینے اور اپنے سامعین کے دلوں پر اثر کرنے کیلئے ہماری خدمت برائےنام نہیں ہو سکتی۔ خدا اور اسکے عظیم مقاصد سے متعلق ہمارے اظہارات کو قدردانی کیساتھ دلوں سے نکلنا چاہئے۔ (زبور ۱۴۵:۷) یہ بات ذاتی بائبل پڑھائی اور مطالعے کے اچھے پروگرام کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔—امثا ۱۵:۲۸۔
۴ یہوواہ کو اپنی بہترین چیز دینے میں لوگوں کیلئے اسکی محبت کی نقل کرنا بھی شامل ہے۔ (افس ۵:۱، ۲) لوگوں کیلئے محبت ہمیں تحریک دیگی کہ سچائی کے زندگیبخش پیغام کیساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی کی جائے۔ (مر ۶:۳۴) یہ ہمیں اپنے سامعین کیلئے ذاتی دلچسپی ظاہر کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ یہ ہمیں ان کیساتھ ابتدائی ملاقات کے بعد اُنکی بابت سوچتے رہنے اور واپس جانے پر اُکساتی ہے۔ یہ ہمیں آمادہ کرتی ہے کہ ہم روحانی ترقی کرنے میں اُنکی پوری پوری مدد کریں۔—اعما ۲۰:۲۴؛ ۲۶:۲۸، ۲۹۔
۵ ”حمد کی قربانی“: یہوواہ کو دینے کا ایک اَور طریقہ خدمتگزاری میں مستعدی سے شرکت کرنا ہے۔ جب ہم اچھی طرح منظم ہوتے اور خدمتگزاری پر بھرپور توجہ دیتے ہیں تو ہم دستیاب وقت میں زیادہ سے زیادہ کام کر سکتے ہیں۔ (۱-تیم ۴:۱۰) اچھی تیاری ہمیں واضح اور یقین کیساتھ گفتگو کرنے اور اچھا جوابیعمل حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ (امثا ۱۶:۲۱) جب ہم دوسروں کو خوشخبری میں شریک کرتے ہیں تو ہمارے دلی اظہارات کو موزوں طور پر ”حمد کی قربانی“ کہا جا سکتا ہے۔—عبر ۱۳:۱۵۔