یہوواہ کیساتھ قریبی رشتہ پیدا کرنا
۱ ایک مسیحی بہن نے اعتراف کِیا، ”مَیں تقریباً ۲۰ سال سے اجلاسوں پر جانے اور میدانی خدمتگزاری میں شرکت کے ذریعے سچائی میں قائم ہوں۔“ تاہم وہ بیان جاری رکھتی ہے، ”مَیں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اگرچہ اجلاس اور میدانی خدمتگزاری ضروری تو ہیں مگر صرف یہی مجھے مشکلات کے دوران قائم رہنے میں مدد نہیں دے سکتے۔ . . . اب مجھے احساس ہو گیا ہے کہ مجھے اپنی سوچ کو بدلنے اور ایک پُرمعنی مطالعے کا پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مَیں حقیقت میں یہوواہ کو جان سکوں اور اُس سے محبت کر سکوں اور جوکچھ اُسکے بیٹے نے ہمیں دیا ہے اُسکی قدر کر سکوں۔“
۲ یہوواہ کیساتھ قریبی ذاتی رشتہ قائم کرنے کیلئے کوشش درکار ہے۔ یہ محض مسیحی کارگزاریوں کے ایک معمول پر چلنے سے زیادہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہم یہوواہ کیساتھ باقاعدہ رابطہ رکھنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ ہمارا ایک ایسا دوست بن جائیگا جو کبھی قریبی تھا مگر اب اُس سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ (مکا ۲:۴) آئیے دیکھیں کہ کیسے ذاتی بائبل مطالعہ اور دُعا ہمیں یہوواہ کیساتھ قریبی رشتہ پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔—زبور ۲۵:۱۴۔
۳ دُعا اور غوروخوض اہم: دل کو تقویت دینے والے ذاتی مطالعے میں مطالعاتی مواد کے اہم نکات کو خطکشیدہ کرنے اور اقتباسشُدہ صحائف کو دیکھنے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ معلومات یہوواہ کی راہوں، اُسکے معیاروں اور شخصیت کی بابت جوکچھ آشکارا کرتی ہیں اُس پر سوچبچار کریں۔ (خر ۳۳:۱۳) روحانی معاملات کو سمجھنا ہمارے جذبات کو چھوتا اور ہمیں اپنی زندگیوں کی بابت سوچنے کی تحریک دیتا ہے۔ (زبور ۱۱۹:۳۵، ۱۱۱) ذاتی مطالعہ یہوواہ کے قریب جانے کے نصباُلعین کیساتھ کِیا جانا چاہئے۔ (یعقو ۴:۸) مخلص مطالعہ وقت اور مناسب ماحول کا تقاضا کرتا ہے اور ایسا کرنے کیلئے ہمیں باقاعدہ اپنی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔ (دان ۶:۱۰) اپنی مصروف زندگی کے باوجود کیا آپ ہر روز یہوواہ کی عظیم صفات پر غوروخوض کرنے کیلئے وقت نکالتے ہیں؟—زبور ۱۱۹:۱۴۷، ۱۴۸؛ ۱۴۳:۵۔
۴ دلی دُعا پُرمعنی ذاتی مطالعے کا اہم جُز ہے۔ بائبل سچائیوں کو ہمارے دلوں کو اُبھارنے اور ”خدا کی عبادت خداترسی اور خوف کیساتھ“ کرنے کی تحریک دینے کیلئے ہمیں خدا کی پاک رُوح کی ضرورت ہے۔ (عبر ۱۲:۲۸) لہٰذا ہمیں ہر مطالعے کا آغاز یہوواہ سے اُسکی رُوح کیلئے درخواست سے کرنا چاہئے۔ (متی ۵:۳) جب ہم صحائف پر غور کرتے اور یہوواہ کی تنظیم کے ذریعے فراہمکردہ مطالعاتی کتابوں کو استعمال کرتے ہیں تو ہم دراصل یہوواہ کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ (زبور ۶۲:۸) اسطرح مطالعہ کرنا پرستش کا ایک حصہ ہے جس سے ہم یہوواہ کیلئے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے اور اُس کیساتھ اپنے رشتے کو مضبوط بناتے ہیں۔—یہوداہ ۲۰، ۲۱۔
۵ دیگر رشتوں کی طرح یہوواہ کیساتھ ہمارے رشتے کو بھی ہمیشہ تقویت ملنی چاہئے تاکہ یہ زندگیبھر مضبوط ہوتا رہے۔ ہمیں یہ جانتے ہوئے ہر روز خدا کے قریب جانے کیلئے وقت نکالنا چاہئے تاکہ وہ بھی ہمارے قریب آ جائے۔—زبور ۱:۲، ۳؛ افس ۵:۱۵، ۱۶۔
]سوالات[
۱. ایک بہن کو اپنے روحانی معمول کی بابت کس چیز کا احساس ہو گیا تھا؟
۲. یہوواہ کیساتھ قریبی رشتہ پیدا کرنا کیوں ضروری ہے؟
۳. ذاتی مطالعے کیلئے کیسی رسائی ہمیں خدا کے قریب جانے میں مدد دیگی؟
۴. ذاتی مطالعے کے سلسلے میں دُعا یہوواہ کیساتھ قریبی رشتہ پیدا کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے؟
۵. ہمارے لئے ہر روز خدا کے کلام پر غوروخوض کرنا کیوں ضروری ہے؟