سوالی بکس
▪کیا خاندانی مطالعے کی رپورٹ کلیسیا میں ڈالی جانی چاہئے؟
اگر کوئی مسیحی والد یا والدہ ایک خاندانی بائبل مطالعہ کرواتا ہے اور اس میں غیربپتسمہیافتہ بچے شامل ہیں تو والدین ہفتے میں ایک گھنٹہ، ایک واپسی ملاقات اور مہینے کا ایک بائبل مطالعہ رپورٹ کر سکتے ہیں۔ یہ اس صورت میں بھی ہوگا اگر مطالعہ ایک گھنٹے سے طویل یا ہفتے میں ایک سے زیادہ مرتبہ یا بچوں کے ساتھ انفرادی طور پر کرایا جاتا ہے۔—کتاب آور منسٹری کے صفحہ ۱۰۴ کو دیکھیں۔
اگر گھر کے تمام افراد بپتسمہیافتہ گواہ ہیں تو پھر وقت اور مطالعہ کی میدانی خدمت کے طور پر رپورٹ نہیں ڈالی جاتی (تاوقتیکہ کوئی بچہ بپتسمے کے بعد دوسری کتاب کا مطالعہ نہ کر رہا ہو)۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلیسیا کی میدانی خدمت کی رپورٹ بنیادی طور پر یہ ظاہر کرتی ہے کہ جو لوگ یہوواہ کے مخصوص اور بپتسمہیافتہ خادم نہیں اُنہیں خوشخبری سنانے اور بائبل سچائی سکھانے کے سلسلے میں کیا کِیا جا رہا ہے۔ (متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰) تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ باقاعدگی کے ساتھ ایسا مطالعہ کروانے کی اہمیت کم ہے۔
یہ مسیحی والدین کی ذمہداری ہے کہ اپنے بچوں کے ساتھ مطالعہ کریں۔ جن لوگوں کو خاندانی مطالعہ شروع کرنے یا اس میں بہتری لانے کے لئے مدد کی ضرورت ہے وہ بزرگوں سے مدد کی درخواست کر سکتے ہیں۔ اگر حالات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ کوئی دوسرا پبلشر کلیسیا سے وابستہ مسیحی خاندان کے غیربپتسمہیافتہ بیٹے یا بیٹی کو مطالعہ کرائے تو صدارتی نگہبان یا خدمتی نگہبان سے رجوع کرنا چاہئے۔ اگر ایسے مطالعے کی اجازت مل جاتی ہے تو مطالعہ کرانے والا اُس کی بائبل مطالعے کے طور پر رپورٹ ڈال سکتا ہے۔
بچوں کی یہوواہ کی راہوں میں تربیت کرنے کے لئے میدانی خدمت میں ڈالی جانے والی رپورٹ سے کہیں زیادہ وقت اور کوشش درکار ہے۔ (است ۶:۶-۹؛ امثا ۲۲:۶) اپنے بچوں کی ”خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر“ پرورش کرنے کے سلسلے میں بھاری ذمہداری کو پورا کرنے کے لئے مسیحی والدین کی تعریف کی جاتی ہے۔—افس ۶:۴۔