الہٰی نام کی تشہیر کرنا
۱ جب آپ نے پہلی مرتبہ خدا کا نام سیکھا تو آپ کا ردِعمل کیسا تھا؟ بیشتر کا ردِعمل اُس عورت جیسا ہوتا ہے جس نے کہا: ”جب مَیں نے پہلی مرتبہ بائبل میں خدا کا نام دیکھا تو مَیں رو پڑی۔ مَیں یہ جان کر بہت خوش تھی کہ مَیں واقعی خدا کا ذاتی نام جانتی اور اسے استعمال کرنے کے قابل ہوں۔“ الہٰی نام کو جاننا یہوواہ کو بطور ایک ہستی جاننے کے لئے اور پھر اُس کے ساتھ ایک ذاتی رشتہ قائم کرنے کے لئے بہت اہم قدم تھا۔
۲ اسکی تشہیر کیوں کی جانی چاہئے؟ خدا کا نام اُسکی خوبیوں، مقاصد اور کاموں کیساتھ وابستہ ہے۔ اس کا تعلق نجات سے بھی ہے۔ پولس رسول نے لکھا، ”جو کوئی [یہوواہ] کا نام لیگا نجات پائیگا۔“ مگر پولس استدلال کرتا ہے کہ جبتک لوگ یہوواہ کی بابت سیکھتے اور اُس پر ایمان نہیں لاتے وہ ”اُس سے کیونکر دُعا کریں؟“ پس، مسیحیوں کیلئے دوسروں کو خدا کے نام اور اس سے وابستہ تمام چیزوں کی بابت بتانا بہت ضروری ہے۔ (روم ۱۰:۱۳، ۱۴) تاہم، الہٰی نام کی تشہیر کی ایک اَور اہم وجہ بھی ہے۔
۳ سن ۱۹۲۰ کے دہے میں، خدا کے لوگوں نے صحائف سے خدا کی حاکمیت کی سربلندی اور اُس کے نام کی تقدیس کے عالمی مسئلے کو سمجھ لیا تھا۔ اس سے پہلے کے یہوواہ اپنے نام پر لائی گئی رسوائی کو ہٹانے کے لئے اس بدکار نظام کو ختم کرے، اُس کی بابت سچائی ’تمام دُنیا کو جاننی‘ چاہئے۔ (یسع ۱۲:۴، ۵؛ حز ۳۸:۲۳) لہٰذا، ہمارے منادی کرنے کی بنیادی وجہ یہوواہ کی علانیہ حمد کرنا اور سب لوگوں کے سامنے اُسکے نام کی تقدیس کرنا ہے۔ (عبر ۱۳:۱۵) خدا اور پڑوسی کی محبت ہمیں اس خداداد کام میں بھرپور شرکت کرنے کی تحریک دیگی۔
۴ اُسکے ”نام کی ایک اُمت“: سن ۱۹۳۱ میں ہم نے نام یہوواہ کے گواہ اپنایا۔ (یسع ۴۳:۱۰) اُس وقت سے لیکر خدا کے لوگوں نے الہٰی نام کا اتنے بڑے پیمانے پر پرچار کِیا ہے کہ کتاب پروکلیمرز صفحہ ۱۲۴ پر بیان کرتی ہے: ”بینالاقوامی سطح پر جو کوئی بھی یہوواہ نام استعمال کرتا ہے اُسے فوری طور پر یہوواہ کا گواہ خیال کِیا جاتا ہے۔“ کیا آپ کی شناخت بھی اسی طرح ہوتی ہے؟ یہوواہ کی نیکی کیلئے شکرگزاری کو ہمیں ہر مناسب موقع پر اُس کی بابت گفتگو کرتے ہوئے ’اُس کے نام کو مبارک‘ کہنے کی تحریک دینی چاہئے۔—زبور ۲۰:۷؛ ۱۴۵:۱، ۲، ۷۔
۵ اُس کے ”نام کی ایک اُمت“ کے طور پر ہمیں اُس کے معیاروں کو سربلند کرنا چاہئے۔ (اعما ۱۵:۱۴؛ ۲-تیم ۲:۱۹) اکثر لوگ سب سے پہلے یہوواہ کے گواہوں کے عمدہ چالچلن پر غور کرتے ہیں۔ (۱-پطر ۲:۱۲) خدائی اُصولوں کی تحقیر کرنے یا اُس کی پرستش کو اپنی زندگیوں میں دوسرے درجے پر رکھنے سے ہم کبھی بھی اُس کے نام کی بےحرمتی نہیں کرنا چاہتے۔ (احبا ۲۲:۳۱، ۳۲؛ ملا ۱:۶-۸، ۱۲-۱۴) اس کی بجائے دُعا ہے کہ ہمارا طرزِزندگی یہ ظاہر کرے کہ ہم الہٰی نام سے کہلانے کے شرف کی قدر کرتے ہیں۔
۶ آجکل ہم یہوواہ کے اس بیان کی تکمیل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں: ”آفتاب کے طلوع سے غروب تک قوموں میں میرے نام کی تمجید ہوگی۔“ (ملا ۱:۱۱) آئیے یہوواہ کی بابت سچائی بیان کرتے رہیں اور ”اُس کے پاک نام کو ابدالآباد مبارک“ کہتے رہیں۔—زبور ۱۴۵:۲۱۔
]سوالات[
۱. لوگوں پر خدا کا ذاتی نام جاننے کا کیا اثر ہو سکتا ہے؟
۲. ہمارے لئے دوسروں کو یہوواہ کی بابت تعلیم دینا کیوں ضروری ہے؟
۳. ہمارے منادی کرنے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
۴. یہوواہ کے گواہوں کی شناخت خدا کے نام سے کیسے ہوتی ہے؟
۵. خدا کے نام سے کہلانے میں ہمارا چالچلن کیا اہمیت رکھتا ہے؟
۶. اب اور ابد تک ہم کس شرف سے استفادہ کر سکتے ہیں؟