مسیحی خدمتگزاری—ہمارا خاص کام
۱ ہم سب کے پاس مختلف طرح کے کام ہیں۔ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنا ایک الہٰی تقاضا ہے۔ (۱-تیم ۵:۸) تاہم اس الہٰی تقاضے میں شامل کام کو بادشاہتی منادی کرنے اور شاگرد بنانے کے کام پر سبقت حاصل نہیں ہونی چاہئے۔—متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰۔
۲ یسوع نے ’پہلے بادشاہی کی تلاش کرنے‘ کے سلسلے میں ہمارے لئے ایک نمونہ قائم کِیا۔ (متی ۶:۳۳؛ ۱-پطر ۲:۲۱) اگرچہ اُسکے پاس مادی چیزیں کم تھیں توبھی وہ ہمیشہ باپ کی مرضی بجا لانے میں مگن رہا۔ (لو ۴:۴۳؛ ۹:۵۸؛ یوح ۴:۳۴) اُس نے گواہی دینے کے ہر موقع سے فائدہ اُٹھایا۔ (لو ۲۳:۴۳؛ ۱-تیم ۶:۱۳) اُس نے اپنے شاگردوں کو بھی تاکید کی کہ کٹائی کے کام میں ایسی ہی گہری دلچسپی لیں۔—متی ۹:۳۷، ۳۸۔
۳ آجکل یسوع کی نقل کرنا:مسیحی خدمتگزاری پر مرتکز سادہ زندگی بسر کرنے کی کوشش کرنے سے ہم یسوع کے نمونے کی نقل کر سکتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس ضروریاتِزندگی ہیں تو ہمیں بائبل کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اس دُنیا کی چیزوں کے پیچھے بھاگنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ (متی ۶:۱۹، ۲۰؛ ۱-تیم ۶:۸) اس کی بجائے منادی میں اپنی شرکت کو بڑھانا اچھا ہوگا! اگر ہمیں چیلنجخیز حالات کا سامنا ہے تو ہمیں یسوع کی طرح جانفشانی کرنی چاہئے اور زندگی کی فکروں کو بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کے اہم کام پر سبقت لیجانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔—لو ۸:۱۴؛ ۹:۵۹-۶۲۔
۴ بہت سی ذمہداریاں اُٹھانے والے لوگ بھی منادی کے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک بھائی اپنے بڑے خاندان، ملازمت اور کلیسیا میں بطور بزرگ ذمہداری اُٹھانے کے باوجود کہتا ہے: ”مَیں خدمتگزاری کو اپنا پیشہ خیال کرتا ہوں۔“ ایک پائنیر بہن کہتی ہے: ”پائنیر خدمت کسی دُنیاوی پیشے سے زیادہ بہتر اور کامیاب ہے۔“
۵ دُعا ہے کہ ہم اپنے حالات سے قطعنظر یسوع کے نمونے پر چلتے رہیں۔ لیکن وہ کیسے؟ مسیحی خدمتگزاری کو اپنا خاص کام خیال کرنے سے ایسا ممکن ہے۔