”جو قبول کر سکتا ہے وہ قبول کرے“
۱ ایک مرتبہ یسوع نے اپنے شاگردوں سے باتچیت کے دوران کنوارپن کی ’نعمت‘ کا ذکر کِیا۔ پھر اُس نے کہا: ”جو قبول کر سکتا ہے قبول کرے۔“ (متی ۱۹:۱۰-۱۲) کچھ سال بعد، پولس رسول نے کنوارپن کی افادیت کا ذکر کرتے ہوئے دوسروں کی حوصلہافزائی کی کہ وہ بھی اُس کی طرح غیرشادیشُدہ ہی رہیں۔ (۱-کر ۷:۷، ۳۸) آجکل بہتیروں نے کنوارپن کو ’قبول‘ کِیا ہے اور اس کے فوائد سے لطفاندوز ہو رہے ہیں۔ اس کے بعض فوائد کونسے ہیں؟
۲ ”بےوسوسہ“ خدمت کرنا: پولس جانتا تھا کہ کنوارپن سے اُسے ”بےسوسہ“ یہوواہ کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے۔ اسی طرح آجکل، ایک کنوارہ بھائی منسٹریل ٹریننگ سکول کے لئے جا سکتا ہے اور کنوارے شخص کے پاس پائنیر خدمت کے لئے بھی عموماً زیادہ وقت ہوتا ہے، وہ کوئی دوسری زبان سیکھ کر زیادہ ضرورت والے علاقے میں جا سکتا ہے، بیتایل میں خدمت کر سکتا ہے یا دیگر خاص خدمتی استحقاقات کے لئے دستیاب ہو سکتا ہے۔ اُس کے پاس گہرے ذاتی مطالعے، غوروخوض اور دلی دُعا کے ذریعے یہوواہ سے رابطہ رکھنے کے لئے زیادہ وقت اور مواقع ہو سکتے ہیں۔ کنوارہ شخص دوسروں کی مدد کیلئے بھی زیادہ وقت دے سکتا ہے۔ ایسی تمام کارگزاریوں سے ’ذاتی فائدہ‘ ہوتا ہے۔—۱-کر ۷:۳۲-۳۵؛ اعما ۲۰:۳۵۔
۳ خدا کی بےوسوسہ خدمت کرنے کا بہت اجر ملتا ہے۔ کینیا میں ۲۷ سال بعد ایک کنواری بہن نے لکھا: ”مجھے بہت زیادہ دوست ملے اور کام بھی بہت زیادہ تھا۔ ہم سب اکٹھے مِل کر کام کرتے تھے اور ایک دوسرے کے ہاں آتےجاتے تھے۔ . . . کنوارے ہونے کی وجہ سے مَیں آزادی کیساتھ کہیں بھی آ جا سکتی تھی اسلئے مَیں نے اس سہولت کو خدمتگزاری میں مشغول رہنے کیلئے استعمال کِیا جس سے مجھے بڑی خوشی حاصل ہوئی۔“ اُس نے اضافہ کِیا: ”ان سالوں کے دوران یہوواہ کیساتھ میرا رشتہ اَور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔“
۴ اِسے قبول کرنا: یسوع نے کہا تھا ”آسمان کی بادشاہی کیلئے“ کنوارے رہنا چاہئے۔ (متی ۱۹:۱۲) جسطرح ہر تحفے کو احتیاط سے رکھا جاتا ہے اُسی طرح کنوارپن کو بھی خوشی اور فوائد حاصل کرنے کیلئے مناسب طور پر استعمال کِیا جانا چاہئے۔ کنوارپن سے حاصل ہونے والے مواقع سے فائدہ اُٹھا کر اور یہوواہ کی حکمت اور طاقت پر بھروسا کرکے بہتیرے غیرشادیشُدہ لوگ اس بخشش کو قبول کرنے کی اہمیت سمجھ گئے ہیں۔