’چراغوں کی طرح چمکنا‘
۱ موجودہ نظامالعمل کی روحانی اور اخلاقی تاریکی کے درمیان یہوواہ خدا کے کوئی ساٹھ لاکھ پرستار دُنیا کے ۲۳۴ ممالک میں ’چراغوں کی طرح چمک رہے‘ ہیں۔ (فل ۲:۱۵) اس سے ہم فوراً پہچانے جاتے ہیں۔ ہم یہوواہ سے نکلنے والی سچائی کی انمول روشنی کو کیسے منعکس کر سکتے ہیں؟—۲-کر ۳:۱۸۔
۲ ہمارے اعمال: لوگ ہمارے چالچلن پر نگاہ رکھتے ہیں۔ (۱-پطر ۲:۱۲) ایک خاتون نے بیان کِیا کہ اُسکے ساتھ کام کرنے والا ایک گواہ نہایت مددگار اور مہربان تھا جو نہ تو فحش زبان استعمال کرتا تھا اور نہ ہی گندے مذاق پر ہنستا تھا۔ جب دوسروں نے اُس گواہ کی موجودگی میں فحشکلامی سے اُسے مشتعل کرنے کی کوشش کی تو وہ پُرسکون اور اپنی راستی پر قائم رہا۔ اسکا اُس خاتون پر کیا اثر پڑا؟ وہ یاد کرتی ہے: ”مَیں اُسکے طرزِعمل سے اتنی متاثر تھی کہ مَیں نے بائبل کی بابت سوال پوچھنے شروع کر دئے۔ مَیں نے خدا کے کلام کا مطالعہ شروع کر دیا اور بعدزاں بپتسمہ لے لیا۔“ اُس نے مزید کہا: ”اُس شخص کے چالچلن نے مجھے یہوواہ کے گواہوں کے اعتقادات کا جائزہ لینے پر آمادہ کِیا۔“
۳ اختیار کی بابت ہمارا رُجحان، دُنیاوی کاموں کی بابت ہمارا نظریہ اور ہماری مہذب گفتگو کی وجہ سے یہوواہ کے گواہ بائبل کے اعلیٰ معیاروں کے مطابق زندگی گزارنے والے لوگوں کے طور پر مشہور ہیں۔ ایسے عمدہ کام یہوواہ کو جلال بخشنے کے علاوہ دوسروں کو اُس کی پرستش کی طرف راغب کر سکتے ہیں۔
۴ ہمارا کلام: بِلاشُبہ، ہمارے عمدہ چالچلن کا مشاہدہ کرنے والے لوگ ہمارے دوسروں سے مختلف ہونے کی وجہ سے تب تک واقف نہیں ہوں گے جب تک ہم اُن سے اپنے اعتقادات کی بابت گفتگو نہیں کریں گے۔ کیا آپ کے ساتھی کارکُن اور ہممکتب جانتے ہیں کہ آپ یہوواہ کے گواہ ہیں؟ کیا آپ عام گفتگو کو گواہی میں بدلنے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں؟ کیا آپ کا یہ عزم ہے کہ ہر مناسب موقع پر آپ کی ”روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے“؟—متی ۵:۱۴-۱۶۔
۵ روشنیبرداروں کے طور پر اپنی تفویض کو پورا کرنا خودایثارانہ جذبے کا تقاضا کرتا ہے۔ پورے دلوجان سے کام کرنے کا جذبہ ہمیں کماہم چیزوں سے گریز کرکے منادی اور شاگرد بنانے کے زندگیبخش کام میں زیادہ وقت صرف کرنے کی تحریک دیگا۔—۲-کر ۱۲:۱۵۔
۶ ہم اپنے افعال اور اقوال سے چراغوں کی مانند روشن رہ سکتے ہیں۔ اگر ہم واقعی ایسا کرتے ہیں تو دوسرے بھی خدا کو جلال دینے میں ہمارے ساتھ شریک ہو جائینگے۔