کنگڈم ہال لائبریری کا نیا بندوبست
دُنیابھر کی کلیسیائیں کئی سالوں سے اپنی کنگڈم ہال لائبریری کے استعمال سے استفادہ کرتی رہی ہیں جو پہلے تھیوکریٹک منسٹری سکول لائبریری کہلاتی تھی۔ ماضی میں اس بات پر زور دیا جاتا تھا کہ ہر کلیسیا کی اپنی لائبریری ہونی چاہئے۔ تاہم، اب جبکہ بہتیرے کنگڈم ہال ایک سے زیادہ کلیسیاؤں کے استعمال میں ہیں جن میں کچھ غیرملکی زبان بولنے والی کلیسیائیں بھی ہیں، توپھر ہر کنگڈم ہال میں ہر زبان کے گروپ کے لئے کتابوں سے خوب آراستہ صرف ایک جدیدترین لائبریری رکھنا بہتر ہوگا۔ ایک سے زیادہ آڈیٹوریم والے کنگڈم ہالز کے ہر آڈیٹوریم میں جمع ہونے والے ہر زبان کے گروپ کے لئے لائبریری ہونی چاہئے۔
اِس بات کی توقع کی جاتی ہے کہ یہ بندوبست جگہ اور اخراجات میں کمی کا باعث ہوگا۔ علاوہازیں، دو یا اس سے زیادہ کلیسیاؤں کی لائبریریوں کو ضم کرنے سے لائبریریوں کے معیار میں بہتری آنے کا کافی امکان ہے۔ جب لائبریریوں کو ضم کِیا جاتا ہے تو کتابوں کی اضافی کاپیاں محفوظ کی جا سکتی ہیں تاکہ بعدازاں نئے کنگڈم ہالز کی تعمیر کے بعد انہیں استعمال کِیا جا سکے۔ اگر کنگڈم ہال میں کمپیوٹر اور CD-ROM پر واچٹاور لائبریری ہے تو بعض شاید اِسے بہت سودمند پائیں۔
ہر کنگڈم ہال لائبریری کیلئے ایک بھائی ترجیحاً مسیحی خدمتی سکول کا نگہبان لائبریرین کی خدمت انجام دیگا۔ اُسے کتابوں کے مجموعے میں موزوں مطبوعات کا مسلسل اضافہ کرتے ہوئے ہر کتاب کی اندرونی جِلد پر واضح نشان لگانا چاہئے کہ یہ کنگڈم ہال لائبریری کی ملکیت ہے۔ سال میں کمازکم ایک بار اُسے اس بات کا یقین کر لینے کیلئے کتابوں کو چیک کرنا چاہئے کہ لائبریری مکمل ہے اور تمام مطبوعات اچھی حالت میں ہیں۔ ان لائبریریوں کی مطبوعات کو کنگڈم ہال سے باہر لیجانے کی اجازت نہیں۔
کلیسیا کیساتھ رفاقت رکھنے والے تمام لوگ کنگڈم ہال لائبریری کی گہری قدر کرنا جاری رکھتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم اس فراہمی کی دیکھبھال کرنے اور ”خدا کی معرفت کو حاصل“ کرنے کیلئے اس کا استعمال کرنے سے یہ ظاہر کرتے رہیں کہ ہم ذاتی طور پر اسکی گہری قدر کرتے ہیں۔—امثا ۲:۵۔