وفادار عمررسیدہ اشخاص کو یاد رکھیں
۱ عمررسیدہ بیوہ حناہ ۸۴ برس کی عمر میں بھی ”ہیکل سے جُدا نہ ہوتی تھی۔“ اُسکی وفاداری کی بدولت یہوواہ نے اسے خاص برکت دینے کی تحریک پائی۔ (لو ۲:۳۶-۳۸) آجکل بھی، بہت سے بہن بھائی مشکل حالات کا سامنا کرنے کے باوجود حناہ جیسا رُجحان ظاہر کرتے ہیں۔ جب ان وفادار اشخاص کو بڑھاپے کی وجہ سے صحت کے مسائل یا کمزوری کا سامنا ہوتا ہے تو وہ بعض اوقات بےحوصلہ ہو جاتے ہیں۔ آئیں کچھ عملی طریقوں پر غور کریں جن سے ہم ان کی حوصلہافزائی اور ایک اچھا روحانی معمول برقرار رکھنے میں اُنکی مدد کر سکتے ہیں۔
۲ اجلاس اور خدمتگزاری: جب دوسرے محبت کے ساتھ ان وفادار عمررسیدہ اشخاص کے لئے سواری کا بندوبست کرتے ہیں تو وہ آسانی کے ساتھ مسیحی اجلاسوں پر باقاعدگی سے حاضر ہو سکتے ہیں۔ یوں، کافی عرصہ سے خدمت کرنے والے یہ وفادار خادم روحانی طور پر ترقی کرنے کیساتھ ساتھ کلیسیا کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ کیا آپ اس نیک کام میں حصہ لیتے ہیں؟—عبر ۱۳: ۱۶۔
۳ خدمتگزاری میں باقاعدگی سے حصہ لینا سچے مسیحیوں کے لئے خوشی اور اطمینان کا باعث بنتا ہے۔ لیکن ایسا کرنا کمزور اور ضعیف بہن بھائیوں کے لئے مشکل ہو سکتا ہے۔ کیا ان عزیزوں میں سے کسی کا آپ کے ساتھ ”ہمخدمت“ کے طور پر گواہی کے کام میں شرکت کرنا ممکن ہے؟ (روم ۱۶:۳، ۹، ۲۱) شاید آپ اُنہیں دعوت دے سکتے ہیں کہ وہ آپ کے ساتھ ٹیلیفون پر گواہی دینے کے کام میں حصہ لیں یا آپ کے ساتھ دوبارہ ملاقات اور بائبل مطالعے پر جا سکیں۔ اگر کوئی عمررسیدہ گھر سے باہر نہیں جا سکتا تو کیا کوئی بائبل طالبعلم مطالعے کے لئے اُس کے گھر آ سکتا ہے؟
۴ مطالعہ اور رفاقت: بعضاوقات، کچھ لوگ کسی عمررسیدہ یا ضعیف شخص کو اپنے خاندانی مطالعے پر آنے کی دعوت دیتے ہیں یا پھر ان کے گھر جا کر مطالعہ کرتے ہیں۔ ایک ماں اپنے دو بچوں کیساتھ بائبل کہانیوں کی میری کتاب سے مطالعہ کرنے کیلئے اُنہیں ایک عمررسیدہ بہن کے گھر لے کر گئی اور سب نے اس رفاقت سے حوصلہافزائی حاصل کی۔ ایسے اشخاص کو اگر کھانے یا کسی اور موقع پر بلایا جائے تو وہ اس کی بھی بہت قدر کرتے ہیں۔ اگر یہ ضعیف اشخاص اتنے کمزور ہیں کہ طویل ملاقات نہیں کر سکتے تو شاید آپ اُنہیں فون کر سکتے ہیں یا ان کے پاس تھوڑی دیر کیلئے جا کر کچھ پڑھ سکتے ہیں، دُعا کر سکتے ہیں، یا ترقی کا باعث بننے والا کوئی حوصلہافزا تجربہ سنا سکتے ہیں۔—روم ۱:۱۱، ۱۲۔
۵ یہوواہ ان وفادار عمررسیدہ اشخاص کو گرانقدر خیال کرتا ہے۔ (عبر ۶:۱۰، ۱۱) ہم یہوواہ کی نقل میں ان کیلئے اپنی قدردانی کا اظہار کر سکتے ہیں تاکہ وہ ایک اچھا روحانی معمول قائم رکھ سکیں۔