کیا آپ دوسروں کی مدد کرنا ’چاہتے‘ ہیں؟
۱ یسوع لوگوں کی واقعی فکر رکھتا تھا۔ جب ایک کوڑھی نے مدد کیلئے اُس سے درخواست کی تو یسوع نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے چُھوا اور کہا: ”مَیں چاہتا ہوں۔ تُو پاکصاف ہو جا۔“ (مر ۱:۴۰-۴۲) ہم کن طریقوں سے دوسروں کی مدد کرنے کے سلسلے میں یسوع کے نمونہ کی نقل کر سکتے ہیں؟
۲ دلچسپی رکھنے والے لوگ: کلیسیا کا ہر فرد یہوواہ کے پرستار بننے میں دلچسپی رکھنے والوں کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب نئے لوگ اجلاسوں پر آتے ہیں تو ان سے ملیں اور اپنا تعارف کرائیں۔ ان کی حوصلہافزائی کرنے کے طریقے تلاش کریں۔ اُن کے تبصروں کے لئے ان کی تعریف کریں۔ اپنی زندگیوں میں بائبل اُصولوں کے اطلاق کے سلسلے میں اُن کی کوششوں کے لئے قدر ظاہر کریں۔ کلیسیا میں حقیقی دوست بنانے کے امکانات پر غور کرنے میں ان کی مدد کریں۔
۳ ساتھی ایماندار: بالخصوص ہمارے ”اہلِایمان“ مختلف طریقوں سے ہماری مدد کے مستحق ہیں۔ (گل ۶:۱۰) بیشتر صحت کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ آپ ان کیساتھ حوصلہافزا ملاقات کرکے ان کیلئے تقویتبخش رفاقت اور عملی طریقوں سے مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ بعض کو اپنی زندگیوں میں مختلف مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انکی بات سننے اور انکی حوصلہافزائی کیلئے وقت نکالنے سے اپنی فکرمندی ظاہر کریں۔ (۱-تھس ۵:۱۴) بزرگوں کو بھی اپنی ذمہداریاں پوری کرتے وقت ہمارے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ (عبر ۱۳:۱۷) ایک آمادہ اور مددگار روح ظاہر کرنے سے ہم اپنے ساتھی ایمانداروں کے لئے ”تسلی کا باعث“ بن سکتے ہیں۔—کل ۴:۱۱۔
۴ خاندانی افراد: ہمیں خاندانی افراد کیلئے بھی یسوع جیسی فکرمندی ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ گہری فکرمندی والدین کو ’یہوواہ کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر اپنے بچوں کی پرورش‘ کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ (افس ۶:۴) اس سلسلے میں بچے خاندانی مطالعے، کلیسیائی اجلاس یا میدانی خدمت کیلئے وقت پر تیار ہونے سے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یسوع کی رحمدلی کی نقل کرتے ہوئے بالغ بچے عمر کیساتھ ساتھ پیدا ہونے والی مشکلات سے نپٹنے میں مہربانہ طریقے سے اپنے والدین کی مدد کر سکتے ہیں۔ ایسے دیگر طریقوں سے ہم سب ”اپنے . . . گھرانے کیساتھ دینداری کا برتاؤ“ کر سکتے ہیں۔—۱-تیم ۵:۴۔
۵ دوسروں کی مدد کرنے کے سلسلے میں یسوع کی نقل کرنے سے ہم مسائل کو کم کرنے اور اپنے خاندان اور کلیسیا کو قریب لانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ’رحمتوں کے باپ‘ یہوواہ کیلئے تمجید کا باعث بنتے ہیں۔—۲-کر ۱:۳۔