مسیحی رفاقت کتنی اہم ہے؟
۱ ”کوئی بھی شخص تنہا نہیں رہ سکتا۔“ یہ بیان ۱۷ ویں صدی کے ایک شاعر کا ہے جو بائبل کے مطابق انسان کی بنیادی ضرورت—رفاقت کی محض ایک بازگشت ہے۔ (امثا ۱۸:۱) ہماری مسیحی رفاقت اس ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ لیکن کن مفید طریقوں سے ایسا ہوتا ہے؟
۲ خدمتگزاری میں: بھائیوں کی مدد اور حمایت سے سب سے پہلا اور بنیادی فائدہ ہمیں اپنی عوامی خدمتگزاری میں پہنچتا ہے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو ”دو دو کر کے“ منادی کیلئے بھیجا تھا۔ (مر ۶:۷؛ لو ۱۰:۱) اسی نمونے کی تقلید میں جب ہم میدانی خدمتگزاری میں دوسروں کیساتھ ملکر کام کرتے ہیں تو ہم واعظ ۴:۹، ۱۰ کی صداقت کو دیکھ سکتے ہیں۔ جب ہم ملکر اپنی خدمتگزاری میں حصہ لیتے ہیں تو ہمارے ساتھیوں کا ایمان، فرمانبرداری اور محبت ہمیں دلیری بخشتی ہے اور ہمارے جوش کو بڑھاتی ہے۔
۳ ذاتی مدد کیلئے: ہماری عالمگیر برداری دباؤ کا سامنا اور آزمائشوں کی مزاحمت کرنے کے سلسلے میں بھی حوصلہافزائی اور راہنمائی کا مؤجب بنتی ہے۔ ہمارے ساتھی مسیحی ایسے صحائف پر ہماری توجہ دلا سکتے ہیں جو ذاتی پریشانیوں کے سلسلے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ وہ ہمارے لئے دُعا کر سکتے ہیں جیسے ہم بھی اُن کیلئے کرتے ہیں۔ (۲-کر ۱:۱۱) یقیناً اُن کا اچھا نمونہ ہمیں نیک کام کرنے کی تحریک اور تقویت دیگا۔
۴ اجلاسوں پر: اجلاسوں پر باقاعدہ حاضر ہونے سے ہم مسیحی رفاقت کی برکات سے مستفید ہوتے ہیں۔ (عبر ۱۰:۲۴، ۲۵) پروگرام روحانی ہدایات سے مالامال ہوتا ہے اور اجلاسوں پر ہماری موجودگی ہمیں ساتھی ایمانداروں کی قربت میں رکھتی ہے۔ یہ اجتماعات ہمیں پلیٹفارم یا سامعین میں سے اپنے بھائیوں یا بہنوں کے ایمان کے اظہار کو سننے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ (روم ۱:۱۲) اجلاسوں سے پہلے اور بعد میں ایک دوسرے سے باتچیت کرنا ہماری رفاقت کو اَور زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ ایسی تقریبات ہمیں ایمانافزا تجربات پیش کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ جب ہم یہوواہ اور اُسکے کلام، اُس کی خدمت اور اُس کے لوگوں سے محبت رکھنے والے اشخاص سے خلوصدلی سے ملتے ہیں تو اِسکا ہماری شخصیت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔—فل ۲:۱، ۲۔
۵ ہمیں اپنی مسیحی رفاقت کی ضرورت ہے۔ اِسکے بغیر زندگی تک پہنچانے والے تنگ راستے پر چلنا اَور زیادہ مشکل ہو جائیگا۔ اُنکی محبت اور حوصلہافزائی کیساتھ، ہم یہوواہ کی راست نئی دُنیا کی طرف بڑھتے جائینگے۔—متی ۷:۱۴۔