ہم یہوواہ کی نعمتوں کی قیمت کیسے ادا کر سکتے ہیں؟
۱ یہوواہ خدا فیاضی کا بہترین نمونہ ہے۔ وہ تمام انسانوں کو ”زندگی اور سانس اور سب کچھ“ عطا کرتا ہے۔ (اعما ۱۷:۲۵) خدا اپنے سورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے۔ (متی ۵:۴۵) واقعی، ’یہوواہ آسمان سے ہمارے لئے پانی برساتا اور بڑیبڑی پیداوار کے موسم عطا کرتا اور ہمارے دلوں کو خوراک اور خوشی سے بھر دیتا ہے۔‘ (اعما ۱۴:۱۵-۱۷) بیشک، ”ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام اُوپر سے ہے اور نوروں کے باپ کی طرف سے ملتا ہے“!—یعقو ۱:۱۷۔
۲ خدا مادی بخششوں کے علاوہ روحانی نور اور سچائی بھی عطا کرتا ہے۔ (زبور ۴۳:۳) یہوواہ کے وفادار خادموں کو ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے ذریعے وقت پر روحانی غذا افراط سے ملتی ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) ہم خدا کی روحانی فراہمیوں سے مستفید ہو سکتے ہیں کیونکہ اس نے گناہ اور موت کی غلامی میں پڑے ہوئے انسانوں کا اپنے ساتھ میلملاپ ممکن بنایا ہے۔ کیسے؟ اپنے بیٹے، یسوع مسیح کی موت کے ذریعے جس نے اپنی زندگی بہتیروں کیلئے فدیے میں دے دی۔ (متی ۲۰:۲۸؛ روم ۵:۸-۱۲) پُرمحبت خدا یہوواہ کی طرف سے کیا ہی شاندار بخشش!—یوح ۳:۱۶۔
۳ یہوواہ کیلئے اپنی محبت کا اظہار کریں: اگر ہم پورے دل سے یہوواہ کیلئے مخصوص ہیں تو ہم اُس پر پُختہ ایمان رکھیں گے اور اس کے حضور کئے ہوئے تمام وعدے پورے کرینگے۔ یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ہم ہر وقت یہوواہ کی بڑائی کرنے اور اُسکے بادشاہتی پیغام کا اعلان کرنے سے اُسے مبارک کہہ سکتے ہیں۔ (زبور ۱۴۵:۱، ۲، ۱۰-۱۳؛ متی ۲۴:۱۴) یہوواہ تمام چیزوں کا مالک ہے اسلئے ہم اُسکے خزانے میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی اُسکی بخششوں کی کوئی قیمت ادا کر سکتے ہیں۔—۱-توا ۲۹:۱۴-۱۷۔
۴ بادشاہتی مفادات کی ترقی کے لئے عطیات دینا یہوواہ کا احسان اُتارنے یا اُسکے خزانے میں اضافہ کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔ البتہ، عطیات دینے سے ہمیں خدا کیلئے اپنی محبت ظاہر کرنے کے مواقع ضرور حاصل ہوتے ہیں۔ خودغرضانہ محرکات یا شہرتوتعریف کی بجائے فیاضی کیساتھ سچی پرستش کو فروغ دینے کیلئے دئے جانے والے عطیات خوشی اور یہوواہ کی برکت پر منتج ہوتے ہیں۔ (متی ۶:۱-۴؛ اعما ۲۰:۳۵) ایک شخص اپنے مادی وسائل کا کچھ حصہ باقاعدگی کیساتھ سچی پرستش کے فروغ اور ضرورتمندوں کی مدد کیلئے وقف کرنے سے فیاضی دکھانے کے شرف اور اسکے نتیجے میں حاصل ہونے والی خوشی سے استفادہ کر سکتا ہے۔
۵ پاپوآ نیو گنی کے ایک ۱۵ سالہ لڑکے نے اپنے عطیے کے ساتھ ایک خط میں لکھا: ”بچپن میں میرے والد مجھ سے کہا کرتے تھے کہ ’جب تم کمانے لگو تو اپنی آمدنی کے پہلے پھل یہوواہ کو ضرور دینا۔‘ مجھے امثال ۳:۱، ۹ کے الفاظ یاد ہیں جسکے مطابق ہمیں پہلے پھلوں سے یہوواہ کی تعظیم کرنی چاہئے۔ لہٰذا مَیں نے ایسا کرنے کا وعدہ کِیا اور اب مجھے اپنا وعدہ پورا کرنا ہے۔ مَیں دلی خوشی سے بادشاہتی کام کے فروغ کے لئے یہ پیسے بھیج رہا ہوں۔“ بائبل مسیحیوں سے ایسا وعدہ کرنے کا تقاضا نہیں کرتی۔ تاہم، فیاضانہ عطیات سچی پرستش کے فروغ میں گہری دلچسپی ظاہر کرنے کا عمدہ طریقہ ہے۔
۶ ایک مسیحی یہوواہ خدا کی پرستش کے فروغ کیلئے عطیات دینے کے سلسلے میں کوئی حد مقرر نہیں کر سکتا۔ مثلاً: یہوواہ کے گواہوں کی ایک اسمبلی پر دو عمررسیدہ بہنیں بادشاہتی کام کیلئے دئے جانے والے عطیات کی بابت باتچیت کر رہی تھیں۔ ان میں سے ایک بہن نے جسکی عمر ۸۷ سال تھی اسمبلی پر دئے جانے والے کھانے کی قیمت پوچھی تاکہ وہ اتنی ہی رقم عطیہ میں دے سکے۔ دوسری ۹۰ سالہ بہن نے جواب دیا: ’تمہارے خیال میں جو مناسب ہے اُس سے کچھ زیادہ دے دینا۔‘ اس عمررسیدہ بہن نے کتنا عمدہ رُجحان ظاہر کِیا!
۷ خوشی سے دیں: یہوواہ کے لوگوں نے اپنا سب کچھ اُس کیلئے مخصوص کر دیا ہے اسلئے وہ سچی پرستش کو فروغ دینے کیلئے خوشی سے روپیہپیسہ اور دیگر عطیات دیتے ہیں۔ (مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۸:۱۲۔) درحقیقت، مسیحی فیاضی یہوواہ کی پرستش کیلئے دلی قدردانی ظاہر کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ ایسی فیاضی دہیکی تک محدود نہیں ہوتی کیونکہ بعض حالات میں کوئی بادشاہتی مفادات کی ترقی کیلئے زیادہ بھی دینے کی تحریک پا سکتا ہے۔—متی ۶:۳۳۔
۸ پولس رسول نے بیان کِیا: ”جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اُسی قدر دے۔ نہ دریغ کرکے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“ (۲-کر ۹:۷) سچی پرستش کی حمایت کیلئے خوشی اور فیاضی کیساتھ دینے سے آپ برکت پائینگے کیونکہ ایک پُرحکمت مثل بیان کرتی ہے: ”اپنے مال سے اور اپنی ساری پیداوار کے پہلے پھلوں سے [یہوواہ] کی تعظیم کر۔ یوں تیرے کھتے خوب بھرے رہینگے اور تیرے حوض نئی مے سے لبریز ہونگے۔“—امثا ۳:۹، ۱۰۔
۹ ہم حقتعالیٰ کے خزانے میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے۔ تمام سونا اور چاندی، ہزاروں پہاڑوں کے چوپائے اور ہر قیمتی چیز اُسی کی ہے۔ (زبور ۵۰:۱۰-۱۲) ہم کبھی بھی خدا کی نعمتوں کی قیمت ادا نہیں کر سکتے۔ تاہم، ہم یہوواہ اور اس کی تمجید کی خاطر پاک خدمت بجا لانے کے شرف کے لئے اپنی گہری قدردانی کا اظہار ضرور کر سکتے ہیں۔ ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ جو شخص سچی پرستش کو فروغ دینے اور پُرمحبت، فیاض خدا کی تمجید کرنے کے لئے فراخدلی سے عطیات دیتا ہے وہ برکتوں سے مالامال ہوگا۔—۲-کر ۹:۱۱۔