دوسروں کو کیسے قائل کریں
۱ پولس رسول دوسروں کو قائل کرنے والے خادم کے طور پر مشہور تھا۔ (اعما ۱۹:۲۶) یہانتک کہ بادشاہ اگِرپا نے اُس سے کہا: ”تُو تو تھوڑی ہی سی نصیحت کر کے مجھے مسیحی کر لینا چاہتا ہے۔“ (اعما ۲۶:۲۸) کس چیز نے پولس کی خدمتگزاری کو اسقدر قائل کرنے والا بنا دیا تھا؟ وہ منطق اور اپنے سامعین کے مطابق صحائف سے استدلال کرتا تھا۔—اعما ۲۸:۲۳۔
۲ پولس کی نقل کرتے ہوئے ہمیں بھی اپنی خدمتگزاری میں ملنے والے لوگوں کو قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیسے؟ اُن کے ساتھ گفتوشنید کے دوران بصیرت سے کام لیتے ہوئے ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ (امثا ۱۶:۲۳) تین اہم اقدام اس میں ہماری مدد کریں گے۔
۳ توجہ سے سنیں: جب دوسرا شخص بات کرتا ہے تو مشترک بنیاد قائم کرنے کیلئے غور سے سنیں تاکہ گفتگو کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اگر وہ کوئی اعتراض اُٹھاتا ہے تو اُسکی وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اسطرح یہ جاننے میں ہماری مدد ہوگی کہ اُس شخص کا اعتقاد کیا ہے اور کس چیز نے اُسے یہ ماننے کیلئے قائل کِیا ہے۔ (امثا ۱۸:۱۳) موقعشناسی کیساتھ اس سے دل کی بات نکلوائیں۔
۴ سوالات پوچھیں: اگر ایک شخص تثلیث پر ایمان ظاہر کرتا ہے تو آپ پوچھ سکتے ہیں: ”کیا آپ ہمیشہ سے ہی تثلیث پر ایمان رکھتے ہیں؟“ اس کے بعد کہیں: ”کیا آپ نے کبھی اس مضمون کی بابت بائبل کا گہرا مطالعہ کِیا ہے؟“ آپ مزید کہہ سکتے ہیں: ”اگر خدا تثلیث کا حصہ ہے تو کیا ہم یہ توقع نہیں کرینگے کہ بائبل اِسے صاف صاف بیان کرے؟“ اس شخص کے جوابیعمل کی بِنا پر اُس کیساتھ صحائف سے استدلال کرنے میں آپکی مدد ہوگی۔
۵ ٹھوس استدلال استعمال کریں: ایک گواہ نے ایک عورت سے جو یسوع کو خدا مانتی تھی پوچھا: ’اگر آپ دو اشخاص کو برابر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تو آپ ان کیلئے کونسا خاندانی رشتہ استعمال کریں گی؟‘ اُس عورت نے کہا: ”مَیں دو بھائیوں کی تمثیل استعمال کروں گی۔“ اُس نے مزید کہا: ”چاہے وہ جڑواں ہی ہوں۔ لیکن خدا کو باپ اور خود کو بیٹا خیال کرنے کی تعلیم دینے سے یسوع کونسا پیغام دے رہا تھا؟“ وہ عورت اس نکتے کو سمجھ گئی کہ باپ بڑا ہے اور اسکے پاس زیادہ اختیار ہے۔ (متی ۲۰:۲۳؛ یوح ۱۴:۲۸؛ ۲۰:۱۷) قائل کرنے کی خوبی اُسکے دلودماغ تک رسائی کرنے کا باعث بنی۔
۶ بِلاشُبہ، اس سے قطعنظر کہ ہماری پیشکش کتنی منطقی اور درست ہے ہر کوئی سچائی سے اثرپذیر نہیں ہوتا۔ تاہم، پولس کی طرح ہمیں بھی مستعدی سے اپنے علاقے میں خلوصدل لوگوں کی تلاش میں رہنا چاہئے اور انہیں بادشاہتی پیغام کو قبول کرنے کیلئے قائل کرنا چاہئے۔—اعما ۱۹:۸۔