”سب کچھ روحانی ترقی کیلئے ہونا چاہئے“
۱ ہمیں ہمیشہ اپنے بھائیوں کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئے۔ اس کا مطلب انکے روحانی مفادات کے تحفظ کی فکر رکھنا ہے۔ اگر ہم کسی چیز یا خدمت کی تشہیر کرنے والا کوئی کام کرتے ہیں تو ہمیں محتاط رہنا چاہئے کہ ہمارے کسی بھی عمل سے ہمارے بھائیوں کو ٹھوکر نہ لگے۔—۲-کر ۶:۳؛ فل ۱:۹، ۱۰۔
۲ بعض نے ساتھی مسیحیوں کو امکانی گاہک سمجھتے ہوئے مختلف کاروبار شروع کئے ہیں۔ بعض تجارتی تنظیمیں اپنے نمائندوں کی حوصلہافزائی کرتی ہیں کہ وہ ہر شخص کو ایک امکانی گاہک خیال کریں—اُنہیں بھی جو اُنکے ہممذہب ہیں۔ بعض بھائیوں نے کسی کاروبار میں شمولیت کی حوصلہافزائی کرنے کیلئے گواہوں کے بڑے اجتماعات منظم کئے ہیں۔ دوسرے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کیلئے ساتھی ایمانداروں کو مضامین، بروشر، انٹرنیٹ پر معلومات اور ٹیپ مُفت فراہم کرتے ہیں۔ کیا ایک مسیحی کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ وہ تھیوکریٹک تعلقات کو اپنے روحانی بھائیوں سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے استعمال کرے؟ جینہیں!—۱-کر ۱۰:۲۳، ۲۴، ۳۱-۳۳۔
۳ بھائیوں کو محتاط رہنا چاہئے: اسکا یہ مطلب نہیں کہ ایک مسیحی اپنے بھائی کیساتھ کاروبار نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ذاتی معاملہ ہے۔ تاہم، بعض لالچ کو فروغ دینے والے کاروباری منصوبوں کا آغاز کرتے ہیں اور ساتھی ایمانداروں کو حصہدار بننے یا سرمایہ لگانے پر آمادہ کرتے ہیں۔ ایسے کئی کاروبار ناکام ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے سرمایہداروں کو خطیر رقم کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ اگرچہ لوگ جلد نفع کمانے کی خواہش سے تحریک پا کر کاروبار میں شریک ہوتے ہیں توبھی منتظم کو یہ ہرگز محسوس نہیں کرنا چاہئے کہ نقصان ہونے کی صورت میں اس کی کوئی ذمہداری نہیں ہے۔ اُسے پہلے ہی احتیاط کے ساتھ اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ نقصان ہونے کی صورت میں اُس کے بھائیوں کی روحانی اور جسمانی خوشحالی کیسے متاثر ہوگی۔ تھیوکریٹک ذمہداری رکھنے والوں کو اپنی دُنیاوی کارگزاریوں کی بابت خاص طور پر محتاط رہنا چاہئے کیونکہ بہتیرے اُنکو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُن پر کافی بھروسا کرتے ہیں۔ انکے بھروسے کا ناجائز فائدہ اُٹھانا غلط ہوگا۔ دوسروں کی نظر میں اپنی عزت کھونے والا ایک بھائی پاک خدمت کے شرف سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔
۴ ہمارا نصبالعین یہ ہے کہ ”سب کچھ روحانی ترقی کے لئے ہونا چاہئے۔“ (۱-کر ۱۴:۲۶) ہمیں کلیسیا میں تجارتی کاموں کو شروع کرنے یا انہیں فروغ دینے والے کسی بھی کام سے اجتناب کرنا چاہئے۔ ایسی باتوں کا صحیفائی وجوہات کی بِنا پر ہمارے باہم جمع ہونے کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔—عبر ۱۰:۲۴، ۲۵۔