یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 7/‏95 ص.‏ 4
  • ترقی کا باعث بنیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ترقی کا باعث بنیں
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۵
  • ملتا جلتا مواد
  • روحانی باتیں تقویت بخشتی ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
  • منادی کے دوران ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کریں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۸۲۰۰
  • ہم اپنے ایمان پر نیکی کو کیسے بڑھا سکتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • اجلاس کو مفید بنانے میں آپ کا کردار
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
مزید
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۵
خدم 7/‏95 ص.‏ 4

ترقی کا باعث بنیں

۱ چونکہ ہم ایسے ”‏تشویشناک ایام میں“‏ رہ رہے ہیں ”‏جن سے نپٹنا مشکل ہے“‏ اس لئے ہم سب کو حوصلہ‌افزائی کی ضرورت ہے۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱‏، این‌ڈبلیو)‏ اپنے دنوں میں بھی اس ضرورت سے پوری طرح باخبر ہوتے ہوئے، پولسؔ اپنے بھائیوں کے ساتھ رفاقت کو ”‏ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی“‏ کے مواقع کے طور پر استعمال کرنے کا آرزومند تھا۔ اس نے اپنے بھائیوں کو تاکید کی کہ ”‏اُن باتوں کے طالب رہیں جن سے .‏ .‏ .‏ باہمی ترقی ہو۔“‏ (‏رومیوں ۱:‏۱۱، ۱۲‏، این‌ڈبلیو؛ ۱۴:‏۱۹)‏ یہ کوششیں ”‏شاگردوں کے دلوں کو مضبوط کرنے .‏ .‏ .‏ ایمان میں قائم رہنے میں انہیں حوصلہ‌افزائی دینے“‏ میں کامیاب رہیں۔ (‏اعمال ۱۴:‏۲۲‏)‏ آجکل ہمیں اسی طرح کی حوصلہ‌افزائی کی اشد ضرورت ہے۔‏

۲ جو کچھ ہم کہتے ہیں اس سے ہم دوسروں کے لئے ترقی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جب مناسب طور پر استعمال کئے جاتے ہیں تو ہمارے الفاظ ”‏روپہلی ٹوکریوں میں سونے کے سیب“‏ ثابت ہو سکتے ہیں۔ (‏امثال ۲۵:‏۱۱‏)‏ اجلاسوں میں شرکت کرنے سے ہم ”‏ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی“‏ کرتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۵‏، این‌ڈبلیو)‏ جب ہم دوسروں کو تجربات میں شریک کرتے، تعریف کرتے، یا روحانی معاملات پر بات‌چیت کرتے ہیں تو ہماری زبان مثبت انداز میں استعمال ہو سکتی ہے۔ زبان کا ایسا صحتمندانہ استعمال ’‏ترقی کیلئے اچھا، سننے والوں کیلئے فضل کا باعث ہو سکتا ہے۔‘‏—‏افسیوں ۴:‏۲۹‏۔‏

۳ اُن چیزوں کی بابت بات‌چیت کریں جو ترقی کا باعث ہیں:‏ فلپیوں ۴:‏۸ میں، پولسؔ نے ہماری گفتگو کے لئے مفید رہنما اصول فراہم کئے۔ اس نے کہا کہ جتنی باتیں سچی، واجب، پاک، پسندیدہ، دلکش ہیں، نیکی اور شرافت کی ہیں، ہمیں ان پر غور کرنا چاہئے۔ ہم ہمیشہ اس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہیں گے اگر وہ خدا کے کلام پر مبنی ہے تو وہ سچ اور دوسروں کے لئے فائدہ‌مند ہوگا۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۷‏)‏ ہماری مسیحی مخصوصیت، جو کچھ ہم کلیسیائی اجلاسوں پر سیکھتے ہیں، جس طریقے سے ہم اپنی خدمتگزاری کو پوری طرح سے سرانجام دیتے ہیں، اور ایسے ہی دیگر معاملات سنجیدہ غوروفکر کے مستحق ہیں۔ خدا کے کلام کے معیاروں اور اصولوں کی بابت مثبت بات‌چیت یقینی طور پر ہماری مدد کرے گی کہ ”‏نجات کے لئے دانا“‏ بنیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۵‏، این‌ڈبلیو)‏ وہ جو یہوؔواہ کی پاک‌صاف تنظیم میں پاکیزہ چال‌چلن رکھتے ہیں ہم اُن کیلئے قدردانی ظاہر کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے بھائیوں کے محبت کے لائق شفقت کے کاموں کی تعریف کر سکتے ہیں۔ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۴، ۳۵‏)‏ پسندیدہ باتوں میں، ایمان خوشی، امن اور برداشت کی صحت‌مندانہ مسیحی خوبیاں شامل ہیں، جنہیں ہم اپنے بھائیوں میں دیکھتے ہیں۔ نیکی اور تعریف کی ایسی باتوں کی بابت گفتگو کرنا ’‏دوسروں کی ترقی کے لئے اچھا‘‏ ہے۔—‏رومیوں ۱۵:‏۲‏۔‏

۴ ہرروز، ہم دُنیا کی حوصلہ‌شکن پریشانیوں سے دوچار ہوتے ہیں۔ ان پریشانیوں پر توجہ نہ دینا اور اپنے بھائیوں کیساتھ پُرمحبت رفاقت میں شرکت کرنا کتنا تازگی‌بخش ہے!‏ قیمتی وقت جو ہم باہم ملکر گزارنے کے قابل ہوتے ہیں وہ ایک ایسا قیمتی خزانہ ہے جسے عزیز رکھا جانا چاہئے۔ اگر ہم ہمیشہ حوصلہ‌افزا اور مثبت ہیں تو دوسرے واقعی ہماری بابت کہیں گے:‏ ”‏انہوں نے میری .‏ .‏ .‏ روح کو تازہ کِیا۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۶:‏۱۸‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں