مدد کے لئے درخواست کریں
۱ ”بُرے دن“ کی الہامی اصطلاح ہمارے اخیر زمانے کی خوب عکاسی کرتی ہے۔ (۲-تیم ۳:۱) لہٰذا، جب آپ کو ایسے روحانی چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے جن سے نپٹنے کیلئے آپ پوری طرح تیار نہیں ہوتے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟
۲ کیا آپ کلیسیا کے کسی روحانی طور پر پُختہ رُکن سے باتچیت کرنے کیلئے رضامند ہیں؟ بعض شاید ایسا کرنے میں شرم محسوس کریں یا پھر یہ سوچیں کہ ایسا کرنے سے وہ دوسروں کا وقت ضائع کرینگے یا اُنہیں یقین نہ ہو کہ کوئی واقعی اُنکی مدد کر سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں اپنی ذاتی ذمہداریوں کو بہتر طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن ہمیں روحانی معاملات میں مدد حاصل کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔—گل ۶:۲، ۵۔
۳ کہاں سے شروع کریں: آپ اپنے کتابی مطالعے کے کنڈکٹر سے درخواست کر سکتے ہیں کہ آپ میدانی خدمت میں اس کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے آپکو اُس کے سامنے روحانی طور پر ترقی کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کرنے کا موقع ملے گا۔ اگر وہ ایک خدمتگزار خادم ہے تو اسے بتائیں کہ آپکو روحانی مدد کی ضرورت ہے اور وہ آپکی درخواست بزرگوں تک پہنچائے گا۔ یا آپ پریشانی کا باعث بننے والے ذاتی معاملات کے سلسلے میں کسی بزرگ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
۴ آپکو کس قسم کی مدد کی ضرورت ہے؟ کیا کسی وجہ سے آپکا جوش ٹھنڈا پڑ گیا ہے؟ کیا آپ سنگل پیرنٹ کے طور پر اپنے بچوں کو کلیسیا کے قریب رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا عمررسیدہ ہونے کی وجہ سے آپکو مدد کی ضرورت ہے؟ یا کیا کوئی اَور مسئلہ آپ کیلئے حوصلہشکنی کا باعث بن رہا ہے؟ ان بُرے دنوں کا مقابلہ کرنا مشکل تو ہے—مگر ناممکن نہیں۔ مدد دستیاب ہے۔
۵ بزرگ کیسے مدد کرتے ہیں: بزرگ حقیقی فکر رکھتے ہیں۔ وہ آپکی پریشانیوں کو غور سے سنیں گے۔ اگر دوسرے مبشروں کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے تو بزرگ کلیسیا کی گلّہبانی اور تعلیموتربیت کے دوران اس بات پر توجہ دینگے۔ ’گلّے کے لئے نمونے‘ کے طور پر وہ خوشی سے آپکے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ (۱-پطر ۵:۳) اِن تجربہکار بھائیوں کی بائبل اصولوں پر مبنی باتچیت پر دھیان دینے سے آپ اپنی خدمتگزاری کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اِس سے آپکی ذاتی زندگی میں بھی مدد ہوتی ہے۔—۲-تیم ۳:۱۶، ۱۷۔
۶ یسوع نے ہمارے لئے بہتیرے ”آدمیوں کو انعام“ میں دیا ہے۔ (افس ۴:۸) اسکا مطلب یہ ہے کہ بزرگ آپکی خدمت کیلئے موجود ہیں۔ وہ آپکی مدد کرنے کیلئے حاضر ہیں۔ درحقیقت وہ ’آپکے ہیں۔‘ (۱-کر ۳:۲۱-۲۳) لہٰذا، ہچکچانے کی بجائے اُن سے باتچیت کریں۔ آپ مطلوبہ مدد کیلئے درخواست کریں۔