’مَیں کیا کر سکتا ہوں؟‘
۱ ’مَیں کیا کر سکتا ہوں؟‘ بِلاشُبہ، یہ سوال بائبل مطالعہ کرنے والے اُس چھوٹے سے گروہ کے ذہنوں میں تھا جسے چارلس ٹیز رسل نے ۱۸۷۰ میں منظم کِیا تھا۔ جب اُن ابتدائی بائبل طالبعلموں نے خدا کی مرضی کے علم میں ترقی کی تو اُنہوں نے سوچا ہوگا کہ وہ خدا کے مقاصد کی بابت علم حاصل کرنے میں دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں۔ بائبل سے حاصل ہونے والے علم کو تمام دُنیا میں پھیلانا واقعی ایک چیلنج تھا۔
۲ ہمارے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ اُنہوں نے کامیابی کیساتھ اس چیلنج کو پورا کِیا۔ وہ کیسے؟ سب نے ہر چھوٹے بڑے کام کو خوشاسلوبی سے انجام دیا جسکی وجہ سے آج یہوواہ کے گواہ دُنیابھر میں مشہور ہیں اور ۲۳۴ ممالک اور جزائر کے اندر تقریباً ۹۰،۰۰۰ کلیسیاؤں میں خدمت کرنے والے چھ ملین کے قریب بادشاہتی مُنادوں پر مشتمل ایک تنظیم بن گئے ہیں!—یسع ۶۰:۲۲۔
۳ بھرپور تعاون کریں: ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اُس عظیم کام میں شریک ہوں جو یسوع کی پیشینگوئی کے مطابق اخیر زمانے میں کِیا جانا ہے۔ (مر ۱۳:۱۰) یقیناً اِس کام کی ذمہداری صرف بزرگوں کی محدود تعداد پر نہیں چھوڑی جا سکتی یا منادی کے کام کی ذمہداری صرف پائنیروں کی نہیں ہے۔ درحقیقت، ہر مخصوص مسیحی اس میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ہم سب مُنادی کی کارگزاری کی کسی نہ کسی قسم میں حصہ لے سکتے ہیں۔ (۱-تیم ۱:۱۲) اس کام میں ہم جتنا زیادہ حصہ لیتے ہیں اُتنا ہی زیادہ ہم خود کو اور دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔—۱-تیم ۴:۱۶۔
۴ ہم سب کئی دوسرے مؤثر طریقوں سے بھی اپنی مسیحی برادری کی مدد کر سکتے ہیں۔ باقاعدہ حاضری اور پُرجوش شرکت سے ہم کلیسیائی اجلاسوں کی حمایت کر سکتے ہیں۔ (زبور ۱۲۲:۱، ۸، ۹) کلیسیا کو اخلاقی طور پر پاک رکھنے کیلئے ہم اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہم عالمگیر کام کیلئے اپنی حیثیت کے مطابق مالی مدد دے سکتے ہیں۔ ہم کنگڈم ہال کی صفائی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ہم سب نئے لوگوں، نوجوانوں اور عمررسیدہ اشخاص کی یکساں مدد کرنے سے کلیسیا میں محبت اور یگانگت کی روح کو فروغ دے سکتے ہیں۔—کل ۳:۱۲، ۱۴۔
۵ پس شاید آپ پوچھیں، ’مَیں کیا کر سکتا ہوں؟‘ اگرچہ آپکی انفرادی کوششیں معمولی نظر آتی ہیں توبھی، آپ اپنا کردار ادا کرنے سے کلیسیا کو مضبوط، سرگرم اور صحتمند بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ لہٰذا، ہم سب یہوواہ کے نام کی تمجید کرنے میں اہم حصہ ادا کرتے ہیں!