”مطلب کی بات کہیں!“
۱ کیا آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا ہے کہ صاحبِخانہ نے آپ کی خوب تیارشدہ پیشکش میں اِن الفاظ کے ساتھ رکاوٹ پیدا کی ہو: ”آپ کیا چاہتے ہیں؟ مطلب کی بات کہیں!“ ہم اس طرح کے تجربے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲ آجکل بہتیرے لوگ بڑے بےصبرے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہم کون ہیں اور کیوں آئے ہیں۔ جب وہ ہمارے آنے کے مقصد سے آگاہ ہو جاتے ہیں کہ ہم بائبل پر باتچیت کرنا چاہتے ہیں تو شاید وہ اپنے کان بند کر لیں۔ بائبل پڑھائی اور روحانی باتچیت بہتیروں کی زندگیوں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ہم ایسے اصحابِخانہ کو کیسے قائل کر سکتے ہیں کہ اُنہیں ہمارے ساتھ بائبل کے کسی موضوع پر باتچیت کرنے کیلئے چند منٹ نکالنے چاہئیں؟
۳ کیا چیز مفید ثابت ہوتی ہے: اِس کی کُنجی یہ ہے کہ صاحبِخانہ پر واضح کریں کہ بائبل اُس کی پریشانی کا باعث بننے والے مسائل کا عملی حل فراہم کرتی ہے اور ممکنہ طور پر چند الفاظ میں اپنی بات مکمل کریں۔ نہایت ہی مؤثر پیشکشیں ایک واضح سوال پیش کرتی ہیں جو صاحبِخانہ کو سوچنے کی تحریک دینے کے لئے ترتیب دیا جاتا ہے جس کے بعد سوال کے جواب میں ایک صحیفہ پیش کِیا جاتا ہے۔ آپ شاید ذیل میں دی گئی چند تجاویز کو آزمانے سے فائدہ اُٹھائیں۔ اِنہیں ہماری مدد کے لئے ترتیب دیا گیا ہے کہ فوری طور پر صاحبِخانہ کی دلچسپی کو اُبھارتے ہوئے ”مطلب کی بات کہیں۔“
۴ ایسے علاقے میں جہاں لوگ عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ وہ دلچسپی نہیں رکھتے، اُن پر ذاتی طور پر اثرانداز ہونے والا سوال اُٹھائیں:
▪ ”جب ہم اگلے ہزار سال کی طرف بڑھ رہے ہیں تو کیا آپ پُراُمید ہیں یا شک محسوس کرتے ہیں؟ [جواب دینے دیں۔] بائبل نے آجکل ہمارے تجربے میں آنے والے تشویشناک واقعات اور اُن کے انجام کی پیشگوئی کی۔“ پڑھیں ۲-تیمتھیس ۳:۱، ۲، ۵ اور امثال ۲:۲۱، ۲۲۔
▪ ”ہمارے ملک میں طبّی سہولیات کی بابت کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ کیا آپکو معلوم ہے کہ خدا وعدہ فرماتا ہے کہ وہ صحت کے تمام مسائل کو مستقل طور پر حل کریگا؟“ پڑھیں مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
▪ ”آپکے خیال میں اگر ہمارے علاقے کا ہر شخص بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے لگے تو حالت کیسی ہو گی؟“ پڑھیں متی ۲۲:۳۷-۳۹۔
۵ ہماری یہ ذمہداری ہے کہ خوشخبری کی منادی کریں چنانچہ جب بھی ممکن ہو تو ہمیں اِس بات پر توجہ مبذول کرانی چاہئے کہ خدا کی بادشاہت کیا کچھ انجام دیگی۔ آپ کہہ سکتے ہیں:
▪ ”کیا آپ جانتے ہیں کہ دُنیا کی قدیمترین کتاب، بائبل نے پہلے سے بیان کِیا ہے کہ پوری دُنیا کیلئے صرف ایک حکومت ہوگی؟“ پڑھیں دانیایل ۲:۴۴۔
▪ ”آپ کے خیال میں اگر یسوع زمین پر حکمرانی کرے تو حالتیں کیسی ہونگی؟“ پڑھیں زبور ۷۲:۷، ۸۔
۶ مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں کے علاقے میں آپ اِن تعارفات میں سے کسی کو استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں:
▪ ”بہت سے لوگ اپنی جنس، مذہب یا رنگ کی وجہ سے ناروا امتیاز کا تجربہ کرتے ہیں۔ آپکے خیال میں خدا ایسے تعصب کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے؟“ پڑھیں اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵۔
▪ ”ہم یہ تو جانتے ہیں کہ یسوع نے اپنے زمانے میں بہت سے معجزات کئے۔ اگر آپ اب اُسے ایک اَور معجزہ انجام دینے کیلئے درخواست کر سکتے تو وہ کونسا ہوتا؟“ پڑھیں زبور ۷۲:۱۲-۱۴، ۱۶۔
۷ اگر صاحبِخانہ دروازہ کھولنے سے ہچکچاتا ہے تو آپ اِس طرح باتچیت شروع کر سکتے ہیں:
▪ ”آجکل بہتیرے لوگ مسائل کی بابت سن سن کر تھک گئے ہیں۔ وہ حل کی بابت سننا چاہتے ہیں۔ بیشک آپ بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے مسائل کا حقیقی حل کہاں تلاش کر سکتے ہیں؟“ جواب دینے دیں۔ پڑھیں ۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷۔
۸ کیوں نہ اِسے آزمائیں؟ اکثر اوقات صاحبِخانہ کی دلچسپی کو اُبھارنے کیلئے محض ایک سادہ، واضح سوال ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلے مخالفت کرنے والی ایک خاتون سے جب دو بہنوں میں سے ایک نے یہ سوال پوچھا کہ ”کیا آپ اُس بادشاہت کی نشاندہی کر سکتی ہیں جس کیلئے آپ خداوند کی سکھائی ہوئی دُعا مانگتی ہیں؟“ تو اُس نے اُن دونوں کو اپنے گھر میں آنے کی دعوت دی۔ اس سوال نے خاتون کے دل میں شوق پیدا کِیا اور اُس نے بائبل مطالعے کی پیشکش قبول کر لی۔ اِس وقت وہ یہوواہ کی مخصوصشدہ خادمہ ہے!
۹ صاحبِخانہ سے باتچیت کرتے وقت اپنے اظہارات میں مخلص ہوں۔ مخلص طریقے سے بات کریں۔ جب لوگ اِس بات کے قائل ہو جاتے ہیں کہ ہم اُن میں واقعی دلچسپی رکھتے ہیں تو اُنکے اثرپذیر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔—اعما ۲:۴۶، ۴۷۔
۱۰ آجکل خوشخبری کی منادی کرنا واقعی ایک چیلنج ہے۔ بعض اصحابِخانہ اجنبیوں کی بابت مُتشکِک ہوتے ہیں۔ دیگر اسقدر مصروف زندگیاں گزارتے ہیں کہ اُنکے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ تاہم، یقین رکھیں کہ ہمیں ابھی بھی بہت سے لائق اشخاص کو تلاش کرنا ہے۔ (متی ۱۰:۱۱) اگر ہم اپنی پیشکشوں کو مختصر رکھتے اور ”مطلب کی بات کہتے ہیں!“ تو ایسے لوگوں کو تلاش کرنے کی ہماری کوششوں کے کامیاب ہونے کا زیادہ امکان ہے۔