کیا آپ مدد کر سکتے ہیں؟
۱ پولس رسول نے کلیسیائی ارکان کو ”ایک دوسرے کی برابر فکر رکھنے“ کی نصیحت کی۔ (۱-کر ۱۲:۲۵) لہٰذا، ہمیں ایک دوسرے میں ذاتی دلچسپی ظاہر کرنی چاہئے اور بوقتِضرورت پُرمحبت مدد پیش کرنے کیلئے آمادہ ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر، ہمارے درمیان بعض مسیحی بہنیں تنتنہا سچائی میں اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہیں۔ اپنی اولاد کی روحانی تربیت کی ذمہداری کا سارا بوجھ انہی بہنوں کے کندھوں پر ہے۔ یقیناً، وہ ہماری طرف سے مہربانہ حوصلہافزائی اور اپنی ”احتیاجیں“ رفع کرنے میں عملی مدد کی مستحق ہیں۔ (روم ۱۲:۱۳الف) کیا آپ اُن کی مدد کر سکتے ہیں؟
۲ جن طریقوں سے آپ مدد کر سکتے ہیں: اجلاسوں اور اسمبلیوں کیلئے عوامی سواری پر انحصار کرنے والوں کو سواری کی پیشکش کرنا اُس خاندان کیلئے کافی مالی بچت پر منتج ہو سکتا ہے۔ اجلاسوں پر ایک ماں کی اُس کے چھوٹے بچے کی دیکھبھال کرنے میں مدد کرنے کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ پروگرام سے پوری طرح فائدہ اُٹھا سکتی ہے۔ اسی طرح، جب وہ اپنے بچوں کو میدانی خدمت میں ساتھ لے کر جاتی ہے تو اُس وقت اُسکی مدد کرنا اسے کچھ آراموسکون دے سکتا ہے۔ بچوں میں حقیقی دلچسپی ظاہر کرنا—اُن سے دوستانہ برتاؤ کرنا—ہمارے نوجوانوں پر مثبت اثر ڈالنے کیلئے بہت کچھ کر سکتا ہے۔ تنہا ماں یا باپ والے خاندان کو کبھیکبھار اپنے خاندانی مطالعے پر آنے کی دعوت دینا تازگیبخش روحانی مدد فراہم کریگا۔
۳ عقلمند بنیں: جو لوگ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ہمیں اُن کی مدد کرنے کے لئے اصرار نہیں کرنا چاہئے۔ ہم درکار مدد پیش کرتے وقت کسی شخص کے خاندانی معاملات میں بھی مداخلت کرنا نہیں چاہیں گے۔ بِلاشُبہ، بہنیں اور بیاہتا جوڑے ایک ضرورتمند بہن کی مدد کرنے کے لئے بہتر حالت میں ہوں گے۔
۴ تمام مسیحیوں کی ایک دوسرے کی ”مسافرپروری [”مہماننوازی،“ اینڈبلیو] میں لگے رہنے“ کیلئے حوصلہافزائی کی گئی ہے۔ (روم ۱۲:۱۳ب) اپنے روحانی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کرنا ہمارے درمیان پائی جانے والی مسیح جیسی محبت ظاہر کرنے کے طریقوں میں سے ایک ہے۔—یوح ۱۳:۳۵۔