اپنی زندگی کو یہوواہ کی خدمت کے گرد تعمیر کریں
۱ یسوع نے اپنے سامعین کو دو قسم کے معماروں میں تقسیم کِیا۔ ایک وہ جس نے اپنے طرزِزندگی کو یسوع کی فرمانبرداری کی چٹان پر تعمیر کِیا وہ مصیبت اور مخالفت کے طوفانوں کے سامنے قائم رہنے کے قابل تھا۔ دوسرے نے خودغرضانہ نافرمانی کی ریت پر تعمیر کِیا اور دباؤ کے تحت قائم نہ رہ سکا۔ (متی ۷:۲۴-۲۷) اس نظامالعمل کے خاتمے کے دوران رہتے ہوئے ہمیں مخالفت کے بہت سے طوفانوں کا تجربہ ہوتا ہے۔ افق پر بڑی مصیبت کے سیاہ بادل بڑی تیزی سے جمع ہو رہے ہیں۔ کیا ہم آخر تک برداشت کرنے اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھنے کے قابل ہوں گے؟ (متی ۲۴:۳، ۱۳، ۲۱) اس کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ آج ہم اپنی زندگیاں کیسے تعمیر کر رہے ہیں۔ لہٰذا خود سے یہ پوچھنا نہایت ضروری ہے کہ ’کیا مَیں اپنی مسیحی زندگی کو یہوواہ کی اطاعتشعار خدمت کے گرد مضبوطی سے تعمیر کر رہا ہوں؟‘
۲ اپنی زندگیاں یہوواہ کی خدمت کے گرد تعمیر کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہوواہ کو اپنی زندگی کا محور بنائیں۔ اس میں بادشاہت پر خصوصی توجہ مرتکز کرنا اور اپنی روزمرّہ زندگی کے تمام کاموں میں خدا کی فرمانبرداری کرنا بھی شامل ہے۔ یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم پورے دل سے ذاتی، خاندانی اور کلیسیائی بائبل مطالعے اور میدانی خدمت میں شریک ہوں اور اِن چیزوں کو پہلا درجہ دیں۔ (واعظ ۱۲:۱۳؛ متی ۶:۳۳) ایسی اطاعتشعار روِش چٹان جیسے مضبوط ایمان پر منتج ہوتی ہے جو مخالفت کے کسی بھی طوفان سے ٹکرا کر زمینبوس نہیں ہوگا۔
۳ یہ دیکھنا خوشی کی بات ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ یسوع مسیح کی طرح مستقبل سے وابستہ اُمیدیں اور اپنی زندگیاں یہوواہ کی خدمت کے گرد تعمیر کر رہے ہیں۔ (یوح ۴:۳۴) وہ باقاعدگی سے تھیوکریٹک کارگزاریوں کے شیڈول پر کاربند رہتے ہیں اور نتیجتاً بہت سی برکات کا تجربہ کرتے ہیں۔ ایک ماں بیان کرتی ہے کہ کیسے اُس نے اور اُسکے شوہر نے کامیابی کیساتھ اپنے دو بیٹوں کی یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے پرورش کی: ”ہر کنونشن پر حاضر ہونے، اجلاسوں کی تیاری کرنے اور ان پر حاضر ہونے اور میدانی خدمت کو اپنی زندگی کا باقاعدہ حصہ بناتے ہوئے ہم نے اپنی زندگیاں سچائی سے معمور کیں۔“ اُسکے شوہر نے مزید کہا: ”سچائی ہماری زندگی کا حصہ نہیں بلکہ ہماری زندگی ہے۔ باقی سب اسکے گرد گھومتا ہے۔“ کیا آپکے خاندان میں بھی اسی طرح یہوواہ کی خدمت کو پہلا درجہ دیا جاتا ہے؟
۴ قابلِعمل ہفتہوار شیڈول ترتیب دیں: یہوواہ کی تنظیم ہفتے میں پانچ اجلاسوں کا انتظام کرنے سے ہمیں ایک اچھا روحانی معمول قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مسیحی جو اپنی زندگیوں کو یہوواہ کی خدمت کے گرد تعمیر کر رہے ہیں وہ اپنے دُنیاوی اور خاندانی معاملات کو اس طرح منظم کرتے ہیں کہ وہ اِن تمام اہم اجلاسوں پر حاضر ہو سکیں۔ وہ کماہم معاملات کو باقاعدہ حاضر ہونے کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتے۔—فل ۱:۱۰؛ عبر ۱۰:۲۵۔
۵ پُختہ مسیحی جانتے ہیں کہ جس طرح باقاعدگی سے مقررہ وقت پر غذا کھانا ضروری ہے اُسی طرح ذاتی مطالعہ، خاندانی مطالعہ اور اجلاسوں کی تیاری کیلئے حتمی شیڈول ترتیب دینا بھی ضروری ہے۔ (متی ۴:۴) کیا آپ ہر روز ذاتی پڑھائی کیلئے ۱۵ یا ۲۰ منٹ مختص کر سکتے ہیں؟ اہم بات یہ ہے کہ دوسری چیزوں کو پڑھائی کیلئے مختص وقت میں مداخلت نہ کرنے دیں۔ اس عادت کو عملی بنائیں۔ شاید ایسا کرنے کیلئے آپکو پہلے کی نسبت صبح ذرا جلدی اُٹھنا پڑے۔ عالمگیر بیتایل خاندان کے ۱۷،۰۰۰ ارکان روزانہ کی آیت پر باتچیت کرنے کیلئے صبحسویرے بیدار ہوتے ہیں۔ یقیناً اس کیلئے رات کو جلد سونا لازمی ہے تاکہ مناسب آرام کرنے کے بعد اگلے دن کا آغاز کرنے کیلئے مکمل طور پر چاکوچوبند ہوں۔
۶ اگر آپ کسی خاندان کے سربراہ ہیں تو تھیوکریٹک کارگزاری کے خاندانی شیڈول کو منظم کرنے میں پہل کریں۔ بعض خاندان شام کے کھانے کے بعد مل کر بائبل، ائیربک یا کوئی اَور اشاعت پڑھتے ہیں۔ بہت سے والدین جن کے بچے اب پُختہ مسیحی ہیں وہ کہتے ہیں کہ انکی کامیابی میں ایک عنصر ہر ہفتے ایک شام روحانی چیزوں کیلئے مختص کرنے کی خاندانی روایت ہے۔ ایسے ہی ایک والد نے تبصرہ کِیا: ”مَیں محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے بچوں کی روحانی ترقی میں ایک بہت بڑا حصہ بدھ کی شام کو کِیا جانے والا خاندانی مطالعہ تھا جو ۳۰ سال پہلے شروع کِیا گیا۔“ اُسکے تینوں بچوں نے کمعمری میں بپتسمہ لیا اور بعد میں تینوں ہی نے کلوقتی خدمت اختیار کر لی۔ خاندانی مطالعے کے ساتھ ساتھ میدانی خدمت میں پیشکشوں اور اجلاسوں کے حصوں کی مشق کی جا سکتی ہے اور مل کر دیگر صحتمندانہ کارگزاریوں سے بھی لطفاندوز ہوا جا سکتا ہے۔
۷ کیا آپ نے اپنے ہفتہوار شیڈول میں بادشاہت کی منادی کیلئے ’وقت مختص کِیا ہے‘؟ (کل ۴:۵) خاندانی اور کلیسیائی ذمہداریوں کے باعث ہم میں سے اکثر بہت ہی مصروف زندگیاں بسر کرتے ہیں۔ اگر ہم ہر ہفتے منادی کرنے اور تعلیم دینے کے کام کیلئے حتمی انتظامات نہیں کرتے تو دوسری چیزیں بڑی آسانی سے اس اہم سرگرمی کی جگہ لے لیں گی۔ مویشیوں کے بہت بڑے فارم کے مالک نے کہا: ”۱۹۴۴ کے لگبھگ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ منادی میں شریک ہونے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ مَیں اس کام کیلئے ایک خاص دن مختص کروں۔ اُس وقت سے مَیں منادی میں جانے کیلئے ہفتے میں ایک دن چھٹی کرتا ہوں۔“ ایک مسیحی بزرگ کے مطابق منادی کے حتمی شیڈول نے اُسے اس قابل بنایا ہے کہ وہ منادی کی کارگزاری میں ہر مہینے ۱۵ گھنٹے صرف کر سکے۔ اگر اُسے ہفتے کے دن کوئی دُنیاوی کام ہوتا ہے تو وہ اسے صبح کی میدانی خدمت کے بعد کرتا ہے۔ کیا آپ اور آپکا خاندان اسے اپنی روحانی زندگی کا حصہ بناتے ہوئے ہفتے میں کمازکم ایک دن میدانی خدمت کیلئے مختص کر سکتے ہے؟—فل ۳:۱۶۔
۸ اپنی زندگی کے معمول کی جانچ کریں: کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو ہماری زندگیوں کو یہوواہ کی خدمت کے گرد تعمیر کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ غیرمتوقع حالات مطالعے، اجلاسوں اور خدمت کیلئے ہمارے محتاط شیڈول کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ہمارا مخالف شیطان ”ہمیں روکنے“ کیلئے وہ سب کچھ کرے گا جو وہ کر سکتا ہے۔ (۱-تھس ۲:۱۸؛ افس ۶:۱۲، ۱۳) ان رکاوٹوں کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ یہ آپکو بےحوصلہ کر دیں اور یوں آپ ہمت ہار بیٹھیں۔ اپنی تھیوکریٹک کارگزاری کے شیڈول کو پورا کرنے کیلئے ضروری ردوبدل کریں۔ کسی مفید کام کو سرانجام دینے کیلئے صبر اور مستقلمزاجی اشد ضروری ہیں۔
۹ ہمیں دُنیاوی اثر اور اپنے ناکامل جسموں کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہئے کہ وہ ہمیں غیرروحانی کارگزاریوں میں مصروف کر دیں جوکہ ہمارا زیادہ وقت اور توجہ حاصل کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ ذاتی جانچ بہت ضروری ہے، آپ خود سے پوچھ سکتے ہیں: ’کیا میرا طرزِزندگی پہلے کی طرح رفتہ رفتہ غیرمتوازن یا انتشار کا شکار ہو رہا ہے؟ کیا مَیں اپنی زندگی اس دُنیا کی ختم ہونے والی چیزوں کے گرد تعمیر کر رہا ہوں؟ (۱-یوح ۲:۱۵-۱۷) روحانی کارگزاریوں میں صرف کئے گئے وقت کے مقابلے میں مَیں کتنا وقت ذاتی حاصلات، سیروسیاحت، کھیل یا دیگر قسم کی تفریح میں صرف کرتا ہوں جس میں ٹیوی دیکھنا اور انٹرنیٹ استعمال کرنا شامل ہے؟‘
۱۰ اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں غیرضروری مصروفیات بڑھتی جا رہی ہیں تو کیا کرنا چاہئے؟ جیسےکہ پولس نے دُعا کی کہ اُسکے بھائی ”کامل“ بنیں یا ”یکدل ہوں“ کیوں نہ پھر سے یہوواہ کی خدمت پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے اُس سے دُعا کریں؟ (۲-کر ۱۳:۹، ۱۱) اپنے عزم پر قائم رہنے کا پُختہ ارادہ کریں اور ضروری تبدیلیاں لائیں۔ (۱-کر ۹:۲۶، ۲۷) یہوواہ آپ کی مدد کرے گا کہ آپ اُس کی وفادارانہ خدمت سے دہنے یا بائیں نہ مڑیں۔—مقابلہ کریں یسعیاہ ۳۰:۲۰، ۲۱۔
۱۱ خدا کی مسرورکُن خدمت میں مشغول رہیں: لاکھوں لوگ بےتابی سے خوشی کی تلاش کرتے ہیں لیکن اپنی زندگی کے خاتمے کے قریب وہ جان لیتے ہیں کہ جن مادی اشیاء کے لئے اُنہوں نے تگودو کی وہ اُنہیں دائمی خوشی نہیں دے سکی ہیں۔ یہ سب ”ہوا کی چران ہے۔“ (واعظ ۲:۱۱) اس کے برعکس جب ہم یہوواہ کو اپنی زندگیوں کا محور بناتے ہیں اور ’اُس کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھتے ہیں‘ تو ہم گہرے اطمینان کا تجربہ کرتے ہیں۔ (زبور ۱۶:۸، ۱۱) ایسا اس لئے ہے کیونکہ ہماری زندگی یہوواہ کی مرہونِمنت ہے۔ (مکا ۴:۱۱) اُس عظیم مقصدگر کے بغیر زندگی بےمعنی ہے۔ یہوواہ کی خدمت ہماری زندگیوں کو کارآمد، بامقصد کارگزاری سے معمور کرتی ہے جس سے نہ صرف ہمیں بلکہ دوسروں کو بھی دائمی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
۱۲ یہ نہایت اہم ہے کہ اپنی ذات میں مگن ہو کر شیطان کی دُنیا کے جلد ہونے والے خاتمے کے متعلق فوری ضرورت کے احساس سے غافل نہ ہو جائیں۔ ہماری روزمرّہ زندگی مستقبل کے بارے میں ہمارے نظریے سے متاثر ہوتی ہے۔ نوح کے زمانے میں جن لوگوں نے اس بات کا یقین نہ کِیا کہ عالمگیر طوفان آنے دالا ہے، ذاتی حاصلات—کھانے، پینے اور شادیبیاہ—پر توجہ مرکوز رکھے رہے تاوقتیکہ ”جب تک طوفان آ کر اُن سب کو بہا نہ لے گیا۔“ (متی ۲۴:۳۷-۳۹) آجکل جو لوگ اس دُنیا کو اپنی زندگیوں کا محور بناتے ہیں مستقبل کیلئے اُنکی اُمیدیں ”خداوند کے روزِعظیم“ پر آنے والی تباہی کے دن خاک میں مل جائیں گی، ایسی عظیمترین تباہی جس کا انسان نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کِیا۔—۲-پطر ۳:۱۰-۱۲۔
۱۳ لہٰذا اپنی زندگی کو زندہ خدا یہوواہ اور اُسکی مرضی پوری کرنے کے گرد تعمیر کریں۔ آپ اس زندگی میں کوئی ایسی سرمایہکاری نہیں کر سکتے جس کی پُشتپناہی یہوواہ جیسی بااعتماد ہستی کر رہی ہو۔ وہ جھوٹ نہیں بول سکتا—اُسکے وعدے سچ ثابت ہوں گے۔ (طط ۱:۲)وہ کبھی مر نہیں سکتا—یہوواہ کیلئے کی گئی خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ (عبر ۱:۱۲؛ ۲-تیم ۱:۱۲) ایمان اور فرمانبرداری والی جو زندگی ہم اب تعمیر کر رہے ہیں یہ محض اُس ابدی زندگی کا آغاز ہے جس میں ہم ہمیشہ تک اپنے خدائےمبارک کی مسرورکُن خدمت کریں گے!—۱-تیم ۱:۱۱؛ ۶:۱۹۔
[Blurb on page 3]
”سچائی ہماری زندگی کا حصہ نہیں بلکہ ہماری زندگی ہے۔
باقی سب کچھ اسکے گرد گھومتا ہے۔“