وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم مختلف ہیں
۱ گزشتہ سال، ۳،۰۰،۰۰۰ سے زائد نئے اشخاص بپتسمہ لیکر ہمارے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے یہوواہ کے گواہوں میں کس چیز کو دیکھا ہے جو اُن کیلئے خدا کی تنظیم کا حصہ بننے کا باعث بنی ہے؟ ہم دیگر تمام مذاہب سے مختلف کیوں نظر آتے ہیں؟ چند جوابات پیشِخدمت ہیں:
—ہم ذاتی آرأ کی بجائے بائبل کے پابند رہتے ہیں: ہم یہوواہ خدا کی پرستش ”روح اور سچائی“ سے کرتے ہیں جیساکہ یسوع مسیح نے کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کا مطلب مذہبی جھوٹ کو مسترد کرنا اور خدا کے تحریری کلام پر عمل کرنا ہے۔—یوح ۴:۲۳، ۲۴؛ ۲-تیم ۳:۱۵-۱۷۔
—ہم لوگوں کا اپنے پاس آنے کا انتظار کرنے کی بجائے اُنکے پاس جاتے ہیں: ہم نے یسوع کے منادی کرنے اور تعلیم دینے کے حکم کو قبول کِیا ہے اور ہم خلوصدل لوگوں کو تلاش کرنے کے اُس کے نمونے کی نقل کرتے ہیں۔ ہم اُنہیں اُن کے گھروں، گلیکوچوں یا جہاں کہیں بھی وہ مل سکتے ہیں تلاش کرتے ہیں۔—متی ۹:۳۵؛ ۱۰:۱۱؛ ۲۸:۱۹، ۲۰؛ اعما ۱۰:۴۲۔
—ہم بِلامعاوضہ ہر ایک کے لئے بائبل تعلیم فراہم کرتے ہیں: اپنے وسائل اور توانائی کو شوق کیساتھ صرف کرتے ہوئے ہم خدا کی خدمت کیلئے ہر سال ایک بلین سے زائد گھنٹے وقف کرتے ہیں۔ بِلاامتیاز، ہم تمام قسم کے لوگوں کیساتھ بائبل مطالعہ کرتے ہیں۔—متی ۱۰:۸؛ اعما ۱۰:۳۴، ۳۵؛ مکا ۲۲:۱۷۔
—ہم لوگوں کی روحانی طور پر مدد کرنے کیلئے خوب تربیتیافتہ ہیں: بائبل کے اپنے ذاتی مطالعے اور کلیسیائی اجلاسوں، اسمبلیوں اور کنونشنوں پر فراہمکردہ ہدایت کے ذریعے، ہم بیشقیمت، بروقت تھیوکریٹک تعلیم حاصل کرتے ہیں جو ہمیں دوسرے لوگوں کو روحانی طور پر روشنخیالی عطا کرنے کے قابل بناتی ہے۔—یسع ۵۴:۱۳؛ ۲-تیم ۲:۱۵؛ ۱-پطر ۳:۱۵۔
—سچائی کا اپنی روزمرّہ زندگیوں میں اطلاق کرتے ہوئے، ہم اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں: یہوواہ کے لئے اپنی محبت کی وجہ سے، ہم اپنی زندگیوں کو اُس کی مرضی کی مطابقت میں لاتے ہوئے، تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں۔ ہماری مسیح جیسی نئی شخصیت دوسرے لوگوں کو سچائی کی جانب کھینچتی ہے۔—کل ۳:۹، ۱۰؛ یعقو ۱:۲۲، ۲۵؛ ۱-یوح ۵:۳۔
—ہم دوسروں کیساتھ پُراَمن طور پر کام کرنے اور زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں: خدائی خوبیاں پیدا کرنا ہمیں اپنے اعمال اور باتچیت کی حفاظت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ہم تمام لوگوں کیساتھ ”صلح کے طالب [ہوتے] اور اُس کی کوشش میں [لگے] رہتے“ ہیں۔—۱-پطر ۳:۱۰، ۱۱؛ افس ۴:۱-۳۔
۲ یہوواہ کی تنظیم کے اندر لوگ مسیحی طرزِزندگی کے جو نمونے دیکھتے ہیں وہ بہتیروں کو سچائی قبول کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ دُعا ہے کہ ہمارا ذاتی نمونہ اُن لوگوں پر ایسا ہی تاثر چھوڑے جو ہمیں جانتے اور دیکھتے ہیں۔