لوگوں کی خاص دلچسپیوں کو ہدف بنانے کیلئے مضامین کا انتخاب کریں
۱ اپنے تیروں کیساتھ محتاط نشانہ باندھنے والے تیراندازوں کی طرح، بہتیرے کلیسیائی پبلشر اور پائنیر اپنے علاقے کے لوگوں کی خاص دلچسپیوں کو توجہ کا مرکز بنانے کیلئے مینارِنگہبانی اور جاگو! سے منتخب مضامین کو استعمال کرنے سے شاندار کامیابی کا تجربہ کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کا تعیّن کرتے ہیں کہ غالباً کون اُن رسالوں سے مخصوص مضامین پڑھنا چاہیگا۔ وہ یہ کس طرح کرتے ہیں؟
۲ سب سے پہلے وہ شروع سے آخر تک ہر شمارہ پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ خود سے استفسار کرتے ہیں کہ ہر ایک مضمون کس قسم کے شخص کو پسند آئیگا؟ اس کے بعد ایسے اشخاص سے ملنے کی کوشش کی جاتی ہے جو غالباً اس مضمون کو پڑھنے میں دلچسپی لینگے۔ کسی خاص شمارے کی بابت اس بات کی توقع رکھتے ہوئے کہ یہ اُنکے علاقے میں بہت مقبول ہوگا وہ اضافی رسد کا آرڈر دیتے ہیں۔
۳ ہمارے رسالوں کا بہت احترام کِیا جاتا ہے: ہمارے رسالوں کے سالانہ خریداروں میں سے ایک شخص نے جو نائجیریا کے ایک وسیع پیمانے پر پڑھے جانے والے بینالاقوامی میگزین کیلئے کام کرتا ہے اویک! کی بابت کہا: ”دُنیا کے بہترین عمومی دلچسپی کے حامل رسالے کیلئے مبارکباد۔“ ہمارے رسالوں کے ایک شوقین قاری نے بیان کِیا: ”انمول حکمت کے کیا ہی شاندار جواہر! میری دلچسپی کا حامل شاید ہی کوئی ایسا مضمون ہو جس پر ان جریدوں میں سے کسی ایک کے اوراق میں بحث نہ کی گئی ہو۔“
۴ رسالے مختلف مضامین کا احاطہ کرتے ہیں جن میں بائبل، عالمی واقعات، خاندانی تفکرات، معاشرتی مسائل، تاریخ، سائنس، حیواناتی اور نباتاتی زندگی، وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ یقیناً ایک شخص اُسی چیز کو پڑھنے کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے جسکا اُس کی ضروریات، حالات یا پیشے سے تعلق ہوتا ہے۔ چونکہ ہم متعدد اشخاص سے گفتگو کرتے ہیں جن میں سے ہر ایک کی اپنی ترجیحات اور مسائل ہوتے ہیں اسلئے جن لوگوں سے ہم ملتے ہیں اُنکی دلچسپی حاصل کرنے کیلئے مضامین کا انتخاب کرنا خاص طور پر نہایت اثرآفرین ہوتا ہے۔
۵ غور کریں کہ جب دو گواہوں نے ایک اخباری کالمنویس کو ستمبر ۸، ۱۹۹۶ کے اویک! کا شمارہ پیش کِیا تو کیا واقع ہوا۔ اُس نے لکھا: ”اس سے پہلے کہ مجھے یہ کہنے کا موقع ملتا کہ مَیں دلچسپی نہیں رکھتا، اُن میں سے ایک نے کہا: ’اس میں امریکن انڈینز پر ایک مضمون ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ اس موضوع کی بابت بہت کچھ لکھتے رہے ہیں۔‘“ اُس نے رسالہ لیا اور ناشتے کے دوران، انڈینز کے متعلق مواد کو پڑھا اور بعدازاں یہ تسلیم کِیا کہ ”یہ نہایت شاندار“ اور ”بالکل سچ تھا۔“
۶ آپ کے علاقے میں کونسی چیز لوگوں کی دلچسپی کی حامل ہے؟ آپ نے حالیہ مہینوں کے دوران رسالوں میں کیا کچھ دیکھا ہے جو آپ کے علاقے میں دُکانداروں اور پیشہور لوگوں یا آپ کے پڑوسیوں، ساتھی کارکنوں اور ہمجماعتوں کیلئے جاذبِتوجہ ہو سکتا ہے؟ وکلاء، اساتذہ، خاندانی اور مدرسی مشیروں، نوجوانوں کے صلاحکاروں، سماجی خدمات فراہم کرنے والوں اور ڈاکٹروں کیلئے کونسی چیز خاص دلچسپی کی حامل ہوگی؟ ہر شمارے کا جائزہ لیتے وقت اُن لوگوں کو ذہن میں رکھنا جن میں آپ منادی کرتے ہیں آپ کو سچائی کے کلام کو پھیلانے کے شاندار طریقے فراہم کریگا۔
۷ جب آپ کسی ایسے شخص سے ملتے ہیں جو مینارِنگہبانی یا جاگو! کے کسی مخصوص مضمون میں خاص دلچسپی ظاہر کرتا ہے اور رسالے لیتا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں: ”جب آئندہ شمارے میں کوئی ایسا مضمون آئے گا جو میرے خیال میں آپ کے لئے دلچسپی کا حامل ہوگا تو مَیں آپ کے لئے اُس کی ایک کاپی لاکر خوشی محسوس کروں گا۔“ آپ تازہترین رسالوں کے ساتھ اکثروبیشتر باربار اُس شخص کے پاس دوبارہ جانے سے اُسے اپنے میگزین روٹ میں شامل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ایسے اشخاص کے ساتھ جو ہمارے رسالوں میں شائع ہونے والے بعض مضامین میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں واپسی ملاقاتیں کرنے کے لئے جو کچھ کِیا گیا ہے یہ بالکل اُس کے مترادف ہے۔
۸ ایک روحانی نشانہ رکھیں: چند سال پہلے، اپنے پیشے کی بابت فکرمند ایک شخص نے ایک ایسے موضوع پر اویک! رسالہ حاصل کِیا جو اُس کیلئے بہت دلچسپی کا حامل تھا۔ تاہم، اس مذہبی شخص نے اُسکے ساتھی شمارے مینارِنگہبانی کو بھی پڑھا جس میں ایک ایسا مضمون تھا جس نے اُسے تثلیث کے اپنے پرانے عقیدے کی تحقیق کرنے کی تحریک دی۔ چھ ماہ بعد اُس نے بپتسمہ لے لیا! پس، ہمارے رسالوں کے قارئین کو صحیفائی مباحثوں میں شامل کرنے سے ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ آپ خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر کو متعارف کرا سکتے ہیں اور جب آپ رسالوں کے نئے سیٹ کیساتھ واپس جاتے ہیں تو ہر مرتبہ ایک باب پر محض چند لمحوں کیلئے باتچیت کرنے کی پیشکش کر سکتے ہیں۔
۹ اپنی واپسی ملاقاتوں اور کاروباری واقفکاروں پر احتیاط کیساتھ غور کریں کہ غالباً کون مینارِنگہبانی اور جاگو! کے تازہترین شمارے حاصل کرنا چاہینگے۔ اس کے بعد اُن تک پہنچنے کی مخلصانہ کوشش کریں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ قابلِقدر جرائد لے کر جائیں۔ نیز یہ ہرگز نہ بھولیں کہ جب آپ اپنے رسالے پڑھنے کیلئے زیادہ لوگوں کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ ’اپنی روٹی پانی میں ڈال رہے‘ ہوتے ہیں۔ وقت آنے پر، آپ مستقبل کے ساتھی شاگردوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔—واعظ ۱۱:۱، ۶۔