اجلاسوں پر اَور بھی ”زیادہ“ حاضر ہوں
۱ یہوواہ کے لوگوں کے لئے باہم جمع ہونا ہمیشہ سے بہت ضروری رہا ہے۔ اسرائیلیوں کی ہیکل اور اُن کے عبادتخانے سچی پرستش، الہٰی تعلیم اور پُرمسرت رفاقت کے مراکز ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح، ابتدائی مسیحی بھی باہم جمع ہونے سے باز نہ آئے۔ ان تشویشناک آخری ایّام میں جب دباؤ اور آزمائشیں بڑھتی ہیں تو ہمارے کلیسیائی اجلاسوں سے حاصل ہونے والی روحانی تقویت کی ہمیں بھی ضرورت ہے—اور ہمیں اس کی اَور بھی ”زیادہ“ ضرورت ہے۔ (عبر ۱۰:۲۵) اجلاسوں پر حاضر ہونے کی تین وجوہات پر غور کریں۔
۲ رفاقت کے لئے: صحائف ہمیں تاکید کرتے ہیں کہ ”ایک دوسرے کو تسلی دو اور ایک دوسرے کی ترقی کا باعث بنو۔“ (۱-تھس ۵:۱۱) خداپرستانہ رفاقت ہمارے ذہنوں کو اچھے خیالات سے معمور کرتی ہے اور ہمیں نیک کام کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ تاہم، اگر ہم خود کو الگتھلگ کر لیتے ہیں تو ہم احمقانہ، خودغرضانہ حتیٰکہ غیراخلاقی خیالات کو ذہن میں جگہ دینے کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔—امثا ۱۸:۱۔
۳ تعلیموتربیت کے لئے: مسیحی اجلاس ہمارے دلوں میں خدا کی محبت کو زندہ رکھنے کیلئے ترتیب دئے گئے بائبل پر مبنی تعلیموتربیت کے سلسلہوار پروگرام فراہم کرتے ہیں۔ وہ ”خدا کی ساری مرضی“ بجا لانے کیلئے عملی راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ (اعما ۲۰:۲۷) اجلاس ہمیں خوشخبری کی منادی کرنے اور تعلیم دینے کا فن، ایسی مہارتیں سکھاتے ہیں جنکی بائبل سچائی قبول کرنے والے اشخاص کو تلاش کرنے اور اُنکی مدد کرنے کی ناقابلِبیان خوشی کا تجربہ کرنے کیلئے اس وقت اَور بھی زیادہ ضرورت ہے۔
۴ تحفظ کے لئے: اس شریر دُنیا میں، کلیسیا ایک حقیقی روحانی پناہگاہ—اَمن اور محبت کا محفوظ مقام ہے۔ جب ہم کلیسیائی اجلاسوں پر حاضر ہوتے ہیں تو خدا کی پاک روح ”محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری“ جیسے پھل پیدا کرتے ہوئے، ہم پر زوردار اثر ڈالتی ہے۔ (گل ۵:۲۲، ۲۳) اجلاس ہمیں ایمان پر قائم اور ڈٹے رہنے کیلئے مضبوط بناتے ہیں۔ یہ ہمیں آئندہ آزمائشوں کا سامنا کرنے کیلئے لیس کرتے ہیں۔
۵ اجلاسوں پر باقاعدہ حاضر ہونے سے، ہم اُسی چیز کا تجربہ کرتے ہیں جسے زبورنویس نے زبور ۱۳۳:۱، ۳ میں یوں بیان کِیا: ”دیکھو! کیسی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی باہم ملکر رہیں۔“ آجکل بھی خدا کے لوگ جہاں کہیں خدمت کرتے اور باہم جمع ہوتے ہیں ”وہیں خداوند نے برکت کا یعنی ہمیشہ کی زندگی کا حکم فرمایا“ ہے۔