بیاہتا ساتھیوں تک رسائی کریں جو گواہ نہیں
۱ شادیشُدہ جوڑوں کا سچی پرستش میں متحد ہونا عظیم خوشی پر منتج ہوتا ہے۔ تاہم، بہتیرے خاندانوں میں، بیاہتا ساتھیوں میں سے صرف ایک ہی سچائی کو قبول کرتا ہے۔ ہم ان بیاہتا ساتھیوں تک جو گواہ نہیں کیسے رسائی کر سکتے اور انہیں اپنے ساتھ یہوواہ کی پرستش کرنے کیلئے حوصلہافزائی دے سکتے ہیں؟—۱-تیم ۲:۱-۴۔
۲ اُنکے خیالات کو سمجھیں: اگرچہ بعض بیاہتا ساتھی جو گواہ نہیں مخالفت کرتے ہیں توبھی مسئلہ اکثر بےاعتنائی یا غلطفہمی کا ہوتا ہے۔ کوئی شخص بیاہتا ساتھی کی نئی روحانی دلچسپی کے سبب حسد یا نظرانداز کئے جانے کا احساس رکھ سکتا ہے۔ ”گھر پر تنہا ہوتے ہوئے، مَیں خود کو بیکس محسوس کرتا تھا،“ ایک شوہر یاد کرتا ہے۔ ”مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے میرے بیوی بچے مجھے چھوڑ رہے ہیں،“ ایک دوسرا بیان کرتا ہے۔ بعض آدمی سوچ سکتے ہیں کہ وہ مذہب کی وجہ سے اپنے خاندان سے محروم ہو رہے ہیں۔ (اگست ۱۵، ۱۹۹۰ کے واچٹاور کے صفحات ۲۰-۲۳ کو دیکھیں۔) اِسلئے اگر ممکن ہو سکے تو بہتر یہ ہوگا کہ شوہر اپنی بیوی کیساتھ گھریلو بائبل مطالعہ کے انتظام میں شروع ہی سے شریک ہو۔
۳ ایک ٹیم کے طور پر کام کریں: ایک گواہ جوڑے نے ملکر شادیشُدہ لوگوں کی سچائی کے سلسلے میں مدد کرنے کیلئے موثر طور پر کام کِیا۔ جب وہ بہن بیوی کیساتھ مطالعہ شروع کر لیتی تو بھائی شوہر کیساتھ ملاقات کرتا۔ وہ عموماً شوہر کے ساتھ مطالعہ شروع کرنے کے قابل ہوتا۔
۴ بامروّت اور مہماننواز بنیں: کلیسیا میں شامل خاندان ایسے خاندانوں میں دلچسپی لینے سے مدد کر سکتے ہیں جو ابھی سچی پرستش میں متحد نہیں۔ چند دوستانہ ملاقاتیں اُس ساتھی کو جو گواہ نہیں یہ سمجھنے میں مدد دینگی کہ یہوواہ کے گواہ گرمجوش، دوسروں کی فکر رکھنے والے مسیحی ہیں جو کہ دل سے دوسروں کی بھلائی چاہتے ہیں۔
۵ بزرگ ایسے بیاہتا ساتھیوں تک جو گواہ نہیں رسائی کرنے کیلئے کی گئی حالیہ کوششوں کا وقتاًفوقتاً جائزہ لے سکتے اور اس بات کا تعیّن کر سکتے ہیں کہ اُنہیں یہوواہ کی طرف مائل کر لینے کی توقعات رکھتے ہوئے اَور کیا کچھ انجام دیا جا سکتا ہے۔—۱-پطر ۳:۱۔