یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خدم 9/‏97 ص.‏ 4
  • دوسروں کو خاندانی خوشی کا راز پیش کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • دوسروں کو خاندانی خوشی کا راز پیش کرنا
  • ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۷
  • ملتا جلتا مواد
  • پائیدار مستقبل محفوظ کرنے کیلئے خاندانوں کی مدد کرنا
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۷
  • ہر عمر کے لوگوں کو خاندانی خوشی کی کتاب پیش کریں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۹
  • کیا خاندانی خوشی کا کوئی راز ہے؟‏
    خاندانی خوشی کا راز
  • میدانی خدمت کیلئے مجوزہ پیشکشیں
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۲
مزید
ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۱۹۹۷
خدم 9/‏97 ص.‏ 4

دوسروں کو خاندانی خوشی کا راز پیش کرنا

۱ انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی خاندان ہے اور دیہات، شہر، ریاستیں اور تمام اقوام خاندان سے ہی تشکیل پاتے ہیں۔ آجکل یہ خاندانی اکائی ایسے دباؤ سے دوچار ہے جس کا پہلے کبھی تجربہ نہیں کِیا گیا۔ طاقتور کارفرما عوامل خاندانی زندگی کی بقا کیلئے خطرہ بن گئے ہیں۔ ہم خاندانی انتظام کے بانی، یہوواہ کے کتنے شکرگزار ہیں کہ اُس نے ہمیں ہدایات فراہم کی ہیں تاکہ ہم خاندانی خوشی حاصل کر سکیں!‏ اُس کی راہنمائی کی پیروی کرنے والوں نے جان لیا ہے کہ مسائل میں کمی واقع ہوئی ہے جو ایک کامیاب خاندانی اکائی پر منتج ہوتا ہے۔ ستمبر کے مہینے میں، ہمارے پاس دوسروں کو خاندانی خوشی کا راز کتاب پیش کرنے کا استحقاق ہے۔ خاندانی زندگی کے موضوع کی بابت لوگوں تک رسائی کرنے میں پہل کریں۔ بامروت، مثبت اور ذی‌فہم بنیں۔ آپ کیا کہہ سکتے ہیں؟‏

۲ آپ ایک سوال پوچھنے سے آغاز کر سکتے ہیں جیسے‌کہ:‏

▪ ”‏کیا آپ نے دیکھا ہے کہ بہت سے خاندان زندگی کے دباؤ کو برداشت کرنا مشکل پا رہے ہیں؟ [‏جواب دینے دیں۔]‏ رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ بہت سے گھرانوں میں لوگ مشکلات کا تجربہ کرتے ہیں۔ آپ کے خیال میں خاندانوں کیلئے زیادہ استحکام اور خوشی حاصل کرنے میں کیا چیز مددگار ثابت ہو گی؟ [‏جواب دینے دیں۔]‏ چونکہ خدا نے خاندانی انتظام کی بنیاد رکھی لہٰذا کیا اُس کی فراہم‌کردہ ہدایات کی تحقیق کرنا معقول نہ ہوگا؟ [‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷ پڑھیں۔]‏ ایسی مفید ہدایات کی خاکہ‌کشی اِس کتاب، خاندانی خوشی کا راز میں کی گئی ہے۔“‏ پھر اُس شخص سے پوچھیں کہ اُسکے خیال میں خاندانوں میں کونسا مسئلہ عام پایا جاتا ہے، وہ باب دکھائیں جو اِس مسئلے پر بات‌چیت کرتا ہے اور کتاب پیش کریں۔‏

۳ آپ ایک بائبل مطالعہ کے آغاز کے خواہاں ہوتے ہوئے، واپسی ملاقات پر کچھ یوں کہہ سکتے ہیں:‏

▪ ”‏آپ نے خاندانی زندگی کے موضوع پر جوکچھ کہا تھا، مَیں نے اُسکی بابت سوچا اور ایک ایسی چیز لایا ہوں جسے میرے خیال میں آپ دلچسپ پائینگے۔ [‏تقاضا بروشر دکھائیں، صفحہ ۱۶ پر کھولیں اور اُوپر دئے گئے چھ سوالوں کو پڑھیں۔]‏ واضح طور پر، خاندان کے ہر فرد کو خاندان کی خوشی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اگر آپ کے پاس چند منٹ ہوں تو مَیں مظاہرہ کروں گا کہ آپ اِن معلومات سے کسطرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔“‏ پھر سبق ۸ کا مطالعہ شروع کریں۔‏

۴ بات‌چیت کا آغاز کرنے کا ایک اَور طریقہ کسی مسئلے کی نشاندہی کرنا ہے، شاید آپ کچھ یوں کہہ سکتے ہیں:‏

▪ ”‏اگرچہ ہر کوئی قناعت‌پسندی اور طمانیت کا احساس حاصل کرنا چاہتا ہے توبھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے خاندان اِس سلسلے میں حقیقی طور پر کامیاب نہیں ہوئے۔ آپ کے خیال میں، حقیقی خوشی حاصل کرنے میں کیا چیز اُنکی مدد کرے گی؟ [‏جواب دینے دیں۔]‏ بہت عرصہ پہلے، بائبل نے آشکارا کِیا کہ آجکل ہم خاندانوں میں کس قسم کے مسائل کو دیکھیں گے۔ [‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۳ پڑھیں۔]‏ تاہم، بائبل خاندانوں کو یہ بھی بتاتی ہے کہ مسائل کو حل کرنے اور دائمی خوشی حاصل کرنے کیلئے کیا کِیا جائے۔ اِن اصولوں کو اِس کتاب خاندانی خوشی کا راز میں درج کِیا گیا ہے۔“‏ اِسکے بعد کسی موزوں باب کے اختتام پر نظرثانی کا بکس دکھائیں، اُسے پڑھیں اور کتاب پیش کریں۔‏

۵ جب آپ واپس جاتے ہیں تو مطالعہ شروع کرنے کیلئے ”‏تقاضا“‏ بروشر استعمال کریں، آپ کہہ سکتے ہیں:‏

▪ ”‏خاندانی زندگی پر لاگو ہونے والے بائبل اصولوں کی تحقیق کیلئے، آپکی آمادگی نے مجھے بہت متاثر کِیا تھا۔ تجربے نے ظاہر کِیا ہے کہ بائبل کی عملی مشورت کی پیروی کرنے سے بہترین نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ یہاں ایک سادہ سی وضاحت ہے کہ ایسا کیوں ہے۔“‏ تقاضا بروشر میں سے سبق ۱ کا پہلا پیراگراف بشمول زبور ۱:‏۱-‏۳ یا یسعیاہ ۴۸:‏۱۷، ۱۸ پڑھیں۔ اگر موقع ملے تو باقی سبق پر بھی غور کریں۔ اگلے سبق کو باہم پڑھنے کے لئے واپس آنے کی پیشکش کریں۔‏

۶ ہمارے لٹریچر کی بابت:‏ یہ جانتے ہوئے کہ ہمارا لٹریچر گرانقدر ہے اور اِسے شائع کرنے پر پیسہ خرچ ہوتا ہے تو جن لوگوں سے آپ ملتے ہیں کیا اُنہیں رسالے، بروشر یا کتابیں پیش کرتے ہوئے آپ ہچکچاتے ہیں؟ ہم اِس بات کا یقین کیسے کر سکتے ہیں کہ کہیں ہم ناقدرشناس لوگوں کو تو لٹریچر پیش نہیں کر رہے؟ اِسکا ایک طریقہ تو اُس شخص سے یہ پوچھنا ہے کہ آیا وہ اِسے پڑھنے کا وعدہ کریگا۔‏

۷ مثال کے طور پر، آپ ”‏خاندانی خوشی“‏ کی کتاب پیش کرتے ہوئے کچھ یوں کہہ سکتے ہیں:‏

▪ ”‏اگر آپ اِس کتاب کو پڑھنا پسند کرینگے تو مَیں اِسے ۴۰ روپے کے چھوٹے سے ہدیہ پر آپ کے پاس چھوڑوں گا۔[‏جواب دینے دیں۔]‏ آپ حیران ہو رہے ہونگے کہ ہم کسطرح ایسا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ اِسلئے کہ ہمارے کام کی کفالت رضاکارانہ عطیات کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اگر آپ اِس لٹریچر کے خرچ کیلئے اتنا ہدیہ دینا پسند کریں تو مَیں بخوشی اُسے قبول کرونگا۔“‏ ایک بھائی کو بہت ہی کم جوابی‌عمل حاصل ہو رہا تھا لہٰذا اُس نے دو تبدیلیاں کیں۔ پہلی، اُس نے اپنی بات میں ایک لفظ کا اضافہ کِیا:‏ ”‏اگر آپ آج ہی لٹریچر کے کام کیلئے یہ چھوٹا سا ہدیہ دینا پسند کریں تو مَیں بخوشی قبول کرونگا۔“‏ دوسرا یہ کہ وہ صاحبِ‌خانہ سے جواب حاصل کرنے کیلئے کافی وقت دیتا ہے۔ پھر وہ پُراعتماد محسوس کرتا ہے کہ لٹریچر کی قدر کی گئی ہے اور اِسے پڑھا جائیگا۔‏

۸ آئیے خدا کے کلام میں درج ہدایات پر چلتے ہوئے—‏دوسروں کو یہ راز پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں جو خاندانی خوشی پر منتج ہوتا ہے۔—‏زبور ۱۹:‏۷-‏۱۰‏۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں