تھیوکریٹک منسٹری سکول کا اعادہ
مئی ۵ تااگست ۱۸، ۱۹۹۷ کے ہفتوں کیلئے تھیوکریٹک منسٹری سکول کی تفویضات میں احاطہشُدہ مواد پر کتاب بند اعادہ۔ مُعیّنہ وقت میں زیادہ سے زیادہ سوالات کے جواب لکھنے کیلئے الگ کاغذ استعمال کریں۔
[نوٹ: تحریری اعادے کے دوران، کسی بھی سوال کا جواب دینے کیلئے صرف بائبل استعمال کی جا سکتی ہے۔ سوالات کے آخر میں جو حوالے درج ہیں وہ آپ کی ذاتی تحقیق کیلئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ مینارِنگہبانی کے تمام حوالوں پر صفحہ اور پیراگراف کے نمبر درج نہ ہوں۔]
مندرجہذیل بیانات میں سے ہر ایک کا درست یا غلط جواب دیں:
۱. مرقس ۱:۴۱ میں یسوع کے رحم کی خاکہکشی لوگوں کے لئے یہوواہ کی فکرمندی کی دل کو موہ لینے والی تصویر پیش کرتی ہے۔ [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں ڈبلیو۹۶ ۱/۳ ص. ۵۔]
۲. مکاشفہ ۷:۱۶ نشاندہی کرتی ہے کہ بڑی بِھیڑ کے ارکان دُنیا کے ہاتھوں اذیت نہیں اُٹھائینگے۔ [یوڈبلیو ص. ۶۲ پ. ۱۱]
۳. لوقا ۷:۱۹ میں یوحنا اصطباغی کا سوال ظاہر کرتا ہے کہ اُس میں ایمان کی کمی تھی۔ [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں ڈبلیو۸۷ ۱/۱ ص. ۱۶۔]
۴. اپنے شاگردوں کیساتھ یسوع کی آخری فسح پر، صرف پطرس نے اُس سے کہا: ”تیرا انکار ہرگز نہ کرونگا۔“ [ہفتہوار بائبل پڑھائی]
۵. اس بات کی بائبل سے کوئی شہادت نہیں ملتی کہ پطرس رسول شادیشُدہ مرد تھا۔ [ہفتہوار بائبل پڑھائی]
۶. اگر ہماری پرستش کو خدا کی نظر میں قابلِقبول ہونا ہے تو اِسے نہ صرف دُنیاوی رسومات ہی سے پاک ہونا چاہئے بلکہ اس میں وہ تمام باتیں بھی شامل ہونی چاہئیں جنہیں خدا اہم خیال کرتا ہے۔ [کےایل ص. ۵۱ پ. ۲۰]
۷. غالباً مرقس نے اپنی انجیل بنیادی طور پر یہودیوں کے لئے لکھی تھی۔ [ایسآئی ص. ۱۸۲ پ. ۸]
۸. نوعِانسان کو دِق کرنے والی بےشمار مشکلات کا ذمہدار خدا نہیں ہے۔ [کےایل ص. ۷۱ پ. ۳]
۹. اس بات کی کوئی معقول وضاحت نہیں ملتی کہ لوقا کی کتاب کا ذخیرۂالفاظ اتنا وسیع کیوں ہے کہ دیگر تینوں اناجیل کو یکجا بھی کر لیں تو اتنا وسیع نہیں ہوتا۔ [ایسآئی ص. ۱۸۷ پ. ۲]
۱۰. بائبل میں ایسی خوبیوں کے متعلق کوئی حوالہ نہیں ملتا جو بڑی بِھیڑ کو ہرمجِدّون سے بچ نکلنے کیلئے ظاہر کرنا ضروری ہیں۔ [یوڈبلیو ص. ۶۰ پ. ۵]
مندرجہذیل سوالوں کے جواب دیں:
۱۱. آجکل انسان کن طریقوں سے یسوع کی قربانی سے مستفید ہوتے ہیں؟ [کےایل ص. ۶۸-۶۹ پ. ۱۷-۱۹]
۱۲. کونسی چیز بعض لوگوں کو مشورت قبول کرنے سے روکتی ہے؟ [یوڈبلیو ص. ۷۲ پ. ۴]
۱۳. تمام انسانوں میں گناہ کیسے پھیل گیا؟ [کےایل ص. ۵۸ پ. ۱۳]
۱۴. یسوع کا کیا مطلب تھا جب اُس نے کہا: ”اپنے میں نمک رکھو اور ایک دوسرے کے ساتھ میلملاپ سے رہو“؟ (مرقس ۹:۵۰) [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں ڈبلیو۸۵ ۱۵/۵ ص. ۲۴ پ. ۱۲۔]
۱۵. غریب بیوہ کے عطیے کی بابت یسوع کے ردِعمل سے ہم کونسا قابلِقدر سبق سیکھ سکتے ہیں؟ (مرقس ۱۲:۴۲-۴۴) [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں ڈبلیو۸۷ ۱/۱۲ ص. ۲۹ پ. ۷–ص. ۳۰ پ. ۱۔]
۱۶. پطرس کی بعض خصوصیات مرقس کے طرزِتحریر میں کیسے نظر آتی ہیں اور کونسی چیز اس کا باعث بن سکتی ہے؟ [ایسآئی ص. ۱۸۲ پ. ۵-۶]
۱۷. جب ہم متی ۶:۹، ۱۰ اور لوقا ۱۱:۲-۴ کا موازنہ کرتے ہیں تو ہم یہ نتیجہ کیوں اخذ کر سکتے ہیں کہ نمونے کی دُعا کو لفظبہلفظ دہرایا نہیں جانا تھا؟ [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں ڈبلیو۹۰ ۱۵/۵ ص. ۱۶ پ. ۶۔]
۱۸. جب ہم لوقا ۳:۱، ۲ جیسی آیات پڑھتے ہیں تو بائبل کے قابلِاعتماد ہونے پر ہمارا اعتقاد کس طرح مضبوط ہوتا ہے؟ [ایسآئی ص. ۱۸۸ پ. ۷]
۱۹. مکاشفہ ۷:۱۴ کے مطابق کسی شخص کا برّے کے خون سے اپنا جامہ دھونے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ [یوڈبلیو ص. ۶۰-۶۱ پ. ۶-۷]
۲۰. جیساکہ ہم جانتے ہیں یسوع نے کبھی خدا پر ایمان کی کمی ظاہر نہیں کی تھی توپھر وہ کیوں پکارا: ”اَے میرے خدا! اَے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟“ (مرقس ۱۵:۳۴) [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں ڈبلیو۸۷ ۱۵/۶ ص. ۳۱۔]
مندرجہذیل بیانات میں سے ہر ایک کو مکمل کر نے کیلئے ضروری لفظ یا جزوِجملہ مہیا کریں:
۲۱. میموریل کی تقریب میں استعمال ہونے والی روٹی اور مے محض _________________________ ہیں، روٹی _________________________ کی نمائندگی کرتی ہے اور مے اُس کے _________________________ کی نمائندگی کرتی ہے۔ [یوڈبلیو ص. ۶۶ پ. ۱۳]
۲۲. جب ہم حقیقی واقعات پر غور کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ _________________________ کے سال کے قریب جب _________________________ کی زمینی اُمید کو واضح طور پر سمجھ لیا گیا تھا تو عام آسمانی بلاہٹ مکمل ہو گئی تھی۔ [یوڈبلیو ص. ۶۴ پ. ۶]
۲۳. جب یوحنا اصطباغی نے منادی کرنا شروع کی تو یہودیہ کا حاکم _________________________ اور گلیل کا ضلعی حاکم _________________________ تھا۔ [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں لوقا ۳:۱۔]
۲۴. جو واقعی خدا کے فرزند ہیں اُنکے ذہن اور دل کی قوتِمتحرکہ کے ساتھ مِل کر گواہی دینے والی روح _________________________ ہے۔ [یوڈبلیو ص. ۶۵ پ. ۹]
۲۵. جیساکہ لوقا ۱۰:۱۶ سے ظاہر ہے جب ہم _________________________ اور اُسکی گورننگ باڈی کی طرف سے آنے والی روحانی فراہمیوں کو قدردانی سے قبول کرتے ہیں تو ہم _________________________ کے لئے عزت دکھا رہے ہوتے ہیں۔ [یوڈبلیو ص. ۷۰ پ. ۱۳]
مندرجہذیل ہر ایک بیان میں سے درست جواب کا انتخاب کریں:
۲۶. متی ۲۷:۵۲ میں حوالہشُدہ مُقدسوں سے مُراد تھی (جسم میں عارضی قیامت پانے والے؛ درحقیقت زلزلے کے باعث اپنی قبروں سے باہر نکل آنے والی مُردہ لاشیں؛ یسوع سے پہلے آسمانی زندگی کیلئے جلائے گئے لوگ)۔ [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں ڈبلیو۹۰ ۱/۹ ص. ۷۔]
۲۷. یسوع (پیدائش؛ بپتسمے؛ قیامت) کے وقت مسیحا بنا اور یہ واقعہ (۲ ق.س.ع.؛ ۲۹ س.ع.؛ ۳۳ س.ع.) میں پیش آیا۔ [کےایل ص. ۶۵ پ. ۱۲]
۲۸. ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کی تقرری کی تصدیق روحالقدس کے ذریعے (۳۳ س.ع.؛ ۱۹۱۸؛ ۱۹۱۹) کے سال میں ہوئی۔ (متی ۲۴:۴۵) [یوڈبلیو ص. ۶۸ پ. ۶]
۲۹. جس اصول کی تمام مسیحیوں کو اور بالخصوص خدا کی تنظیم میں پیشوائی کے مرتبوں پر فائز لوگوں کو پیروی کرنی چاہئے وہ یہ ہے کہ ”جو تم میں سب سے (متکبر؛ اہم؛ چھوٹا) ہے وہی بڑا ہے۔“ (لوقا ۹:۴۸) [یوڈبلیو ص. ۶۹ پ. ۱۲]
۳۰. جیساکہ (متی ۱۰؛ متی ۲۴؛ لوقا ۲۱) میں درج ہے، یسوع نے جن لوگوں کو منادی کیلئے بھیجا اُنہیں واضح خدمتی ہدایات دیں۔ [ایسآئی ص. ۱۸۰ پ. ۳۱]
نیچے فہرستکردہ بیانات کا مندرجہذیل صحائف کے ساتھ میل کرائیں:
امثال ۴:۱۳؛ دانیایل ۷:۹، ۱۰، ۱۳، ۱۴؛ مرقس ۷:۲۰-۲۳؛ ۱۳:۱۰؛ لوقا ۸:۳۱
۳۱. ہمیں اپنے دلودماغ میں پیدا ہونے والے کسی بھی ناپاک یا گنہگارانہ خیال کو پہچان لینے کے لئے چوکنا رہنا چاہئے اور پھر اُسے جڑ پکڑنے سے پہلے نکال دینا چاہئے۔ [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں ڈبلیو۸۹ ۱/۱۱ ص. ۱۴ پ. ۱۶۔]
۳۲. ”ہزار سال“ کے دوران شیاطین بھی شیطان کیساتھ موتنما بےعملی کی حالت میں پڑینگے۔ (مکاشفہ ۲۰:۳) [ہفتہوار بائبل پڑھائی]
۳۳. محدود وقت میں عالمگیر گواہی کے کام کو مکمل کرنے کیلئے فوری تعمیل کے احساس کی ضرورت ہے۔ [ہفتہوار بائبل پڑھائی؛ دیکھیں ڈبلیو۹۵ ۱/۱۰ ص. ۲۷۔]
۳۴. مشورت کو قبول کرنا ایسی بات کہنے یا کام کرنے سے بچاتا ہے جو باعثِندامت بن سکتا ہے۔ [یوڈبلیو ص. ۷۲ پ. ۶]
۳۵. اگرچہ ہم روحانی مخلوقات کو دیکھ نہیں سکتے، یہوواہ کا کلام ہمیں اُسکی آسمانی تنظیم اور اسکی بعض ایسی کارگزاریوں کی جھلک دکھاتا ہے جو زمین پر اُسکے پرستاروں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ [یوڈبلیو ص. ۶۷ پ. ۱]