لاکھوں لوگوں کا اضافہ ہو رہا ہے
۱ پہلی صدی کی طرح، آجکل مسیحی کلیسیا کے تجربے میں آنے والی ترقی بھی غیرمعمولی ہے۔ (اعمال ۲:۴۱؛ ۴:۴) گزشتہ سال، تقریباً روزانہ ۱۰۰۰ کی اوسط سے ۳،۶۶،۵۷۹ نئے شاگردوں نے بپتسمہ لیا تھا! گزشتہ تین سال کے دوران ایک ملین سے زائد لوگوں نے بپتسمہ لیا۔ بیشک، یہوواہ ایمانداروں میں کثرت سے اضافہ کر رہا ہے۔—اعمال ۵:۱۴۔
۲ بہتیرے نئے اشخاص جنہیں مسیحی طرزِزندگی کا اتنا زیادہ تجربہ نہیں ہے اُنہیں پُختہ ایمان رکھنے والے لوگوں کی طرف سے مدد اور تربیت درکار ہے۔ (رومیوں ۱۵:۱) ابتدائی مسیحیوں میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے بپتسمے کے کئی سال بعد بھی ”کمال کی طرف قدم“ بڑھانے میں ناکام رہے تھے۔ (عبرانیوں ۵:۱۲؛ ۶:۱) اسی وجہ سے، عبرانیوں کے نام اپنے خط میں پولس نے ایسے حلقوں کی نشاندہی کی جن میں مسیحیوں کو روحانی طور پر ترقی کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ کونسے حلقے ہیں اور درکار مدد کیسے پیش کی جا سکتی ہے؟
۳ مطالعے کی اچھی عادات اپنانا: پولس کی ہدایت کے مطابق، اچھا طالبعلم ہونے میں مستعدی سے سیکھنا، نظرثانی کرنا اور یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے فراہمکردہ ”سخت غذا“ کو استعمال کرنا شامل ہے۔ (عبرانیوں ۵:۱۳، ۱۴؛ دیکھیں واچٹاور، اگست ۱۵، ۱۹۹۳، صفحات ۱۲-۱۷۔) نئے ایمانداروں کو روحانی مباحثوں میں شریک کرنے اور اپنی ذاتی تحقیق سے آپ نے سچائی کے جو انمول موتی ڈھونڈیں ہیں اُنہیں وہ پیش کرنے سے آپ اُنہیں مطالعے کی اچھی عادات اپنانے کی تحریک دے سکتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو آپ کبھیکبھار کسی نئے شخص کو اپنے ذاتی یا خاندانی مطالعے میں شرکت کرنے کی دعوت دے سکتے ہیں۔
۴ اجلاسوں پر باقاعدگی سے حاضر ہونا: آپ کا وفادارانہ نمونہ اور حوصلہافزائی کے محبتآمیز الفاظ کلیسیا کے نئے ارکان کی ایک اَور باعثِتشویش حلقے سے بچنے میں مدد دینگے جسکا پولس نے ذکر کِیا یعنی مسیحی اجلاسوں سے غیرحاضر ہونا جو بعض لوگوں کا ”دستور“ ہے۔ (عبرانیوں ۱۰:۲۴، ۲۵) یہ سمجھنے کیلئے اُنکی مدد کریں کہ اجلاس اُنکا کلیسیا کیساتھ روحانی طور پر زندگیبخش رابطہ ہیں۔ اُنہیں یہ احساس دلانے کے لئے پہل کریں کہ ہماری برادری کے ایک رُکن کے طور پر اُن کا خیرمقدم کِیا جاتا ہے۔
۵ اعتماد کیساتھ یہوواہ کے حضور جانا: جسمانی کمزوریوں اور شخصیتی خامیوں پر غالب آنے کیلئے ہمیں یہوواہ کے حضور اپنے باطنی خیالات اور ذاتی تفکرات کا اظہار کرتے ہوئے دُعا میں اُسکے طالب ہونا چاہئے۔ پولس کی فہمایش کے مطابق، نئے اشخاص کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہوواہ سے مدد کیلئے درخواست کرتے ہوئے اُنہیں شک نہیں کرنا چاہئے۔ (عبرانیوں ۴:۱۵، ۱۶؛ ۱۰:۲۲) اس سلسلے میں اپنے ذاتی تجربات بیان کرنا نئے شخص کے اعتماد کو تقویت بخشے گا کہ یہوواہ دلی دُعائیں سنتا ہے۔
۶ خدمتگزاری کیلئے وقت مختص کرنا: پولس نے یہ بھی ظاہر کِیا کہ جب ہم ”حمد کی قربانی . . . خدا کیلئے ہر وقت“ چڑھاتے ہیں تو یہ روحانی طور پر تقویتبخش ہوتا ہے۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۵) کیا آپ ایک نئے پبلشر کو اپنی میدانی خدمت کے ہفتہوار انتظامات میں شریک ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ آپ دونوں اپنی پیشکشوں کی تیاری کر سکتے ہیں یا خدمتگزاری کے کسی ایسے پہلو پر غور کر سکتے ہیں جسے نئے شخص نے پہلے کبھی نہ آزمایا ہو۔
۷ لاکھوں لوگوں کا اضافہ ہونا بڑی خوشی کا باعث ہے۔ کلیسیا کے نئے ارکان کی تربیت اور نصیحت کیلئے ہمارا جانفشانی کرنا ’اپنی جانیں بچانے‘ کیلئے درکار مضبوط ایمان پیدا کرنے میں اُنکی مدد کریگا۔—عبرانیوں ۳:۱۲، ۱۳؛ ۱۰:۳۹۔