واپسی ملاقاتیں کرنے کے لئے دلیری حاصل کریں
۱ کیا آپ واپسی ملاقاتیں کرنا پسند کرتے ہیں؟ بہتیرے پبلشر پسند کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے شروع میں آپ پریشان ہوئے ہوں، بالخصوص ایسے اصحابِخانہ سے ملاقات کرتے ہوئے جنہوں نے پہلی ملاقات پر بہت کم دلچسپی ظاہر کی تھی۔ مگر جُوںجُوں آپ واپسی ملاقاتیں کرنے کی غرض سے ’خوشخبری سنانے کیلئے اپنے خدا میں دلیری حاصل کرتے ہیں‘ تو شاید آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں کہ یہ کام کتنا آسان اور بااجر ہو سکتا ہے۔ (۱-تھسلنیکیوں ۲:۲) وہ کیسے؟
۲ درحقیقت، ابتدائی ملاقات اور واپسی ملاقات کے مابین ایک اہم فرق ہے۔ واپسی ملاقات کسی واقفکار سے کی جاتی ہے، کسی اجنبی کیساتھ نہیں اور ایک اجنبی کی نسبت ایک واقفکار سے گفتگو کرنا عموماً آسان ہوتا ہے۔ جہاں تک اس کام میں حصہ لینے سے حاصل ہونے والے تسلیبخش اجر کا تعلق ہے تو واپسی ملاقاتیں پھلدار بائبل مطالعوں پر منتج ہو سکتی ہیں۔
۳ جب ہم گھرباگھر کام کرتے ہیں تو ہم بار بار ایسے لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں جنہوں نے ہماری گزشتہ ملاقات کے وقت دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ توپھر ہم ملاقات کیوں کرتے رہتے ہیں؟ ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور ایک شخص جس نے گزشتہ ملاقات پر دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی یا مخالفت کی تھی ہو سکتا ہے کہ اگلی مرتبہ جب ہم ملاقات کریں تو وہ دلچسپی دکھائے۔ اس چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم خوب تیاری کرتے ہیں اور یہوواہ کی برکت کیلئے دُعا کرتے ہیں تاکہ اس مرتبہ ہم جوکچھ کہیں وہ مثبت جوابی عمل کا باعث ہو۔
۴ اگر، اپنے گھرباگھر کے کام میں ہم خوشی کیساتھ اُن لوگوں میں مُنادی کرتے ہیں جنہوں نے پہلے دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی تو کیا ہمیں کسی ایسے شخص کے پاس واپسی ملاقات کرنے کیلئے اَور زیادہ خوشی کیساتھ نہیں جانا چاہئے جو بادشاہتی پیغام میں کافی حد تک دلچسپی ظاہر کرتا ہے؟—اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵۔
۵ ہم میں سے بہتیرے آج اسلئے سچائی میں ہیں کیونکہ کسی پبلشر نے تحمل کیساتھ ہم سے واپسی ملاقاتیں کی تھیں۔ اگر آپ ان میں سے ایک ہیں تو آپ خود سے پوچھ سکتے ہیں: ’مَیں نے شروع میں اُس پبلشر پر کیا تاثر چھوڑا تھا؟ کیا مَیں نے بادشاہتی پیغام کو پہلی مرتبہ سنتے ہی فوری طور پر قبول کر لیا تھا؟ کیا مَیں ایسا دکھائی دے سکتا تھا کہ گویا کوئی دلچسپی نہیں رکھتا؟‘ ہمیں خوش ہونا چاہئے کہ جس پبلشر نے دوبارہ ملاقات کی تھی اُس نے ہمیں واپسی ملاقات کے لائق سمجھا، ’خدا سے دلیری حاصل کرتے ہوئے،‘ ملاقات کی اور ہمیں سچائی سکھانے کیلئے قدم بڑھایا۔ اُن اشخاص کی بابت کیا ہے جو پہلے تو کچھ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں مگر بعد میں ہم سے کنارہکشی کرتے دکھائی دیتے ہیں؟ مثبت رجحان نہایت ضروری ہے، جیسےکہ مندرجہذیل تجربہ ظاہر کرتا ہے۔
۶ ایک صبح گلیکوچوں میں گواہی دینے کا کام کرتے ہوئے، دو پبلشروں کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جو ایک بچے کو سٹرولر میں بیٹھا کر لے جا رہی تھی۔ اُس خاتون نے رسالہ قبول کر لیا اور بہنوں کو اگلے اتوار اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ وہ مقررہ وقت پر پہنچ گئیں مگر خاتونِخانہ نے اُنہیں بتایا کہ اُس کے پاس باتچیت کرنے کیلئے وقت نہیں ہے۔ تاہم، اُس نے اگلے ہفتے ملنے کا وعدہ کِیا۔ بہنوں کو شک تھا کہ شاید ہی وہ اپنے وعدے پر پورا اُترے، مگر جب وہ واپس گئیں تو وہ خاتون اُنکا انتظار کر رہی تھی۔ مطالعہ شروع ہو گیا اور اُس خاتون کی ترقی حیرانکُن تھی۔ تھوڑے ہی عرصے میں، اُس نے اجلاسوں پر باقاعدہ حاضر ہونا اور میدانی خدمت میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اب وہ بپتسمہیافتہ ہے۔
۷ ابتدائی ملاقات پر ہی بنیاد ڈالیں: ایک کامیاب واپسی ملاقات کیلئے بنیاد اکثر ابتدائی ملاقات پر ہی ڈال دی جاتی ہے۔ صاحبِخانہ کے تبصروں کو غور سے سنیں۔ وہ آپ پر کیا عیاں کرتے ہیں؟ کیا وہ مذہبی میلان رکھتا ہے؟ کیا وہ معاشرتی مسائل میں دلچسپی رکھتا ہے؟ کیا وہ سائنس؟ تاریخ؟ ماحول میں دلچسپی رکھتا ہے؟ ملاقات کے اختتام پر، آپ ایک سوچ کو تحریک دینے والا سوال اُٹھا سکتے ہیں اور وعدہ کر سکتے ہیں کہ جب آپ دوبارہ آئینگے تو بائبل کے جواب پر گفتگو کرینگے۔
۸ مثال کے طور پر، اگر صاحبِخانہ فردوسی زمین کی بابت بائبل کے وعدہ سے اثرپذیر ہوتا ہے تو اس موضوع پر مزید باتچیت موزوں ہوگی۔ گفتگو کا اختتام کرنے سے ذرا پہلے، آپ پوچھ سکتے ہیں: ”ہم کیسے اس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ خدا اپنے وعدہ کو پورا کریگا؟“ اسکے بعد مزید کہیں: ”جب سارا خاندان گھر پر ہو تو مَیں دوبارہ آ سکتا ہوں اور آپکو اس سوال کی بابت بائبل کا جواب دکھا سکتا ہوں۔“
۹ اگر صاحبِخانہ نے کسی خاص مضمون میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تو آپ ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے آخری صفحہ پر پیشکردہ پیشکشوں میں سے کوئی ایک سوال اُٹھا سکتے ہیں اور اُسے اپنی اگلی گفتگو کی بنیاد کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
۱۰ درست تحریری ریکارڈ رکھیں: آپکا گھرباگھر کا ریکارڈ درست اور مکمل ہونا چاہئے۔ جوں ہی آپ گھر سے باہر نکلیں تو صاحبِخانہ کا نام اور پتہ فوراً لکھ لیں۔ مکان نمبر اور گلی کے نام کا اندازہ نہ لگائیں—اس بات کا یقین کرنے کیلئے کہ معلومات درست ہیں اسے دوباہ چیک کریں۔ اُس شخص کی بابت تفصیلی معلومات لکھ لیں۔ جس موضوع پر آپ نے باتچیت کی تھی، صحائف جو آپ نے پڑھے تھے جوبھی لٹریچر آپ نے چھوڑا تھا اور جس سوال کا جواب آپ واپس جا کر دینگے سب لکھ لیں۔ ابتدائی ملاقات کے دن اور وقت کو بھی اس میں شامل کریں اور یہ کہ آپ نے کب دوبارہ آنے کا کہا تھا۔ اب جبکہ آپ کا ریکارڈ مکمل ہو گیا ہے تو اسے گم نہ ہونے دیں! اسے محفوظ جگہ پر رکھ لیں تاکہ آپ بعد میں اسے دیکھ سکیں۔ اُس شخص اور اِس بات کی بابت سوچتے رہیں کہ آپ کیسے اگلی مرتبہ ملاقات کریں گے۔
۱۱ اپنے مقاصد سے باخبر رہیں: سب سے پہلے تو یہ کہ پُرتپاک اور دوستانہ رویہ اپناتے ہوئے صاحبِخانہ کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کریں۔ حد سے زیادہ بےتکلف ہوئے بغیر یہ ظاہر کریں کہ آپ اُس میں انفرادی طور پر دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسکے بعد، اُسے وہ سوال یاد کرائیں جو آپ نے پچھلی ملاقات پر اُٹھایا تھا۔ اُس کی رائے غور سے سنیں اور اُس کے جوابات کیلئے حقیقی قدرافزائی کا اظہار کریں۔ اسکے بعد، ظاہر کریں کہ کیوں بائبل کا نقطۂنظر عملی ہے۔ اگر ممکن ہو تو اُس کی توجہ کتاب علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے میں متعلقہ خیال پر مبذول کرائیں۔ یاد رکھیں کہ واپسی ملاقات کرنے کا آپکا بنیادی مقصد بائبل مطالعہ شروع کرنا ہے۔
۱۲ علم کی کتاب کی براہِراست وضاحتوں نے ہم میں سے بہتیروں کو یہ تحریک دی ہے کہ بائبل مطالعوں پر ’دلیری کیساتھ‘ طالبعلموں کی اجلاسوں پر حاضر ہونے اور یہوواہ کی تنظیم کیساتھ رفاقت رکھنے کیلئے حوصلہافزائی کریں۔ ماضی میں ہم، کسی کو اپنے ساتھ رفاقت رکھنے کی دعوت دینے سے پہلے اُس وقت کا انتظار کرنے کی طرف مائل تھے جبتک لوگ کافی عرصہ تک مطالعہ نہیں کر لیتے تھے۔ اب، بہت سے طالبعلم مطالعہ شروع کرنے کے فوراً بعد ہی اجلاسوں پر آنے لگتے ہیں اور نتیجے کے طور پر وہ زیادہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔
۱۳ ایک جوڑے نے ایک ساتھی کارکُن کو غیررسمی طور پر گواہی دی۔ جب اُس نے سچائی میں دلچسپی کا اظہار کِیا تو اُنہوں نے اُسے علم کی کتاب سے بائبل مطالعہ کرنے کی دعوت دی۔ تاہم، اُنہوں نے اُسے بتایا کہ اُسے اجلاسوں پر حاضر ہونا چاہئے جہاں اُس کے بہت سے سوالات کے جواب دئے جائینگے۔ اُس شخص نے نہ صرف مطالعہ کرنے کی اُنکی دعوت کو ہی خوشی کیساتھ قبول کِیا بلکہ ہفتے میں دو بار مطالعہ کرتا تھا اور باقاعدہ کنگڈم ہال میں اجلاسوں پر آنا شروع کر دیا۔
۱۴ بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ کو استعمال کریں: ”خدائی امن کے پیامبر“ ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر ہم نے بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ حاصل کِیا تھا۔ یہ خداترس لوگوں کیساتھ اُنکی تعلیمی اہلیت سے قطعنظر بائبل مطالعے شروع کرنے کیلئے کارآمد ہے۔ بائبل کی بنیادی تعلیمات کا احاطہ کرتے ہوئے یہ بائبل مطالعے کے جامع کورس پر مشتمل ہے۔ خدا کا علم دینے کیلئے یہ اشاعت ایک مؤثر آلۂکار ثابت ہوگی۔ یہ سچائی کو اسقدر سادگی اور صفائی سے بیان کرتا ہے کہ ہم میں سے تقریباً ہر ایک دوسروں کو خدا کے تقاضوں کی بابت سکھانے کیلئے اسے استعمال کرنے کے قابل ہوگا۔ غالباً بہت سے پبلشر اس بروشر سے بائبل مطالعہ کرانے کا شرف حاصل کریں گے۔
۱۵ بعض لوگ جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کے پاس علم کی کتاب کا مطالعہ کرنے کیلئے وقت نہیں ہے شاید خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر کا مطالعہ کرنے کے مختصر اوقات کیلئے رضامند ہو جائیں۔ جوکچھ وہ سیکھینگے اس سے وہ بہت زیادہ خوش ہونگے! محض دو یا تین صفحات میں وہ ایسے سوالات کے جواب حاصل کر لینگے جن پر لوگ صدیوں سے سوچتے رہے ہیں: خدا کون ہے؟ ابلیس کون ہے؟ زمین کیلئے خدا کا کیا مقصد ہے؟ خدا کی بادشاہت کیا ہے؟ آپ سچے مذہب کی تلاش کیسے کر سکتے ہیں؟ اگرچہ بروشر سچائی کو سادہ الفاظ میں پیش کرتا ہے، اسکا پیغام نہایت مؤثر ہے۔ یہ اُن کلیدی نکات کا احاطہ کرتا ہے جن پر بزرگ بپتسمہ کے اُمیدواروں کیساتھ نظرثانی کرینگے اور علم کی کتاب سے جامع مطالعہ کیلئے ابتدائی آلۂکار کے طور پر کام انجام دے سکتا ہے۔
۱۶ واپسی ملاقات پر مطالعہ کی پیشکش کرنے کیلئے آپ محض یہ کہہ سکتے ہیں: ”کیا آپ جانتے تھے کہ محض چند لمحوں میں آپ بائبل کے ایک اہم سوال کا جواب حاصل کر سکتے ہیں؟“ اسکے بعد، ایک سوال کریں جو بروشر کے اسباق میں سے کسی ایک کے شروع میں دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ ایک عمررسیدہ شخص سے ملاقات کر رہے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں: ”ہم جانتے ہیں کہ ماضی میں یسوع نے لوگوں کو شفا بخشی۔ لیکن مستقبل میں، یسوع بیمار؟ عمررسیدہ؟ مُردہ لوگوں کیلئے کیا کریگا؟“ جوابات سبق ۵ میں موجود ہیں۔ مذہبی میلان رکھنے والے کسی شخص کی دلچسپی کو اس سوال سے اُبھارا جا سکتا ہے: ”کیا خدا تمام دُعائیں سنتا ہے؟“ اس کا جواب سبق ۷ میں دیا گیا ہے۔ خاندانی افراد جاننا پسند کرینگے: ”والدین اور بچوں سے خدا کیا تقاضا کرتا ہے؟“ وہ سبق ۸ کے مطالعہ سے اِسکی بابت سیکھیں گے۔ دیگر سوالات ہیں: ”کیا مُردے زندہ اشخاص کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟“ اِس کی وضاحت سبق ۱۱ میں کی گئی ہے؛ ”اتنے زیادہ مذاہب کیوں ہیں جو مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟“ اِس پر سبق ۱۳ میں گفتگو کی گئی ہے؛ اور ”خدا کا دوست بننے کیلئے آپکو کیا کرنا چاہئے؟“ اِسے سبق ۱۶ میں بیان کِیا گیا ہے۔
۱۷ فرق زبان بولنے والوں کی مدد کریں: اُن اصحابِخانہ کی بابت کیا ہے جو کوئی فرق زبان بولتے ہیں؟ اگر ممکن ہو تو جو زبان وہ اچھی طرح جانتے ہیں اُنہیں اُسی میں سکھایا جانا چاہئے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۴:۹) اگر ایسے مقامی پبلشر نہیں ہیں جو صاحبِخانہ کی زبان بول سکتے ہوں تو دونوں کی زبانوں میں دستیاب بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ کو استعمال کرتے ہوئے پبلشر صاحبِخانہ کیساتھ مطالعہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
۱۸ ایک انگریزی بولنے والے پبلشر نے ویتنامیز زبان بولنے والے ایک شخص اور اُسکی بیوی کیساتھ جو تھائی زبان بولتی ہے مطالعہ شروع کِیا۔ مطالعے کے دوران انگریزی، ویتنامیز اور تھائی زبان میں اشاعات اور بائبل استعمال کی گئی۔ اگرچہ زبان کی رکاوٹ نے شروع میں چیلنج پیش کِیا، پبلشر لکھتا ہے: ”جوڑے کی روحانی ترقی بہت تیز تھی۔ اُنہوں نے اپنے دونوں بچوں کیساتھ اجلاسوں پر حاضر ہونے کی ضرورت کو پہچان لیا ہے اور وہ رات کو بطور خاندان بائبل پڑھائی بھی کر رہے ہیں۔ اُنکی چھ سالہ بیٹی خود ایک بائبل مطالعہ کروا رہی ہے۔“
۱۹ ایسے لوگوں کیساتھ مطالعہ کرتے وقت جو فرق زبان بولتے ہیں، آہستہ بولیں، واضح طور پر صاف تلفظ کیساتھ بولیں اور سادہ الفاظ اور جزوِجملہ استعمال کریں۔ تاہم، یاد رکھیں کہ جو لوگ فرق زبان بولتے ہیں اُنکا احترام کِیا جانا چاہئے۔ اُنہیں بچے خیال نہیں کرنا چاہئے۔
۲۰ خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر میں سے خوبصورت تصاویر کا عمدہ استعمال کریں۔ اگر ”ایک تصویر ہزار الفاظ کے برابر ہے“ تو بروشر کی اَنگنت تصاویر صاحبِخانہ کیلئے بہت زیادہ معلوماتی ہونگی۔ اُسے خود اپنی بائبل سے صحائف پڑھنے کی دعوت دیں۔ اگر مطالعہ ایسے وقت پر کرایا جا سکتا ہے جب خاندان کا فرد جو انگریزی جانتا ہے ترجمہ کرنے کیلئے موجود ہے تو بِلاشُبہ یہ مفید ثابت ہوگا۔—دیکھیں ہماری بادشاہتی خدمتگزاری، اکتوبر ۱۹۹۰، صفحات ۷-۸؛ مارچ ۱۹۸۴، صفحہ ۸۔
۲۱ بِلاتاخیر واپسی ملاقاتیں کریں: واپسی ملاقات کرنے سے پہلے آپکو کتنا انتظار کرنا چاہئے؟ بعض پبلشر ابتدائی ملاقات کے ایک یا دو دن کے اندر اندر ہی دوبارہ ملاقات کر لیتے ہیں۔ دیگر اُسی دن پر بعد میں واپس جاتے ہیں! کیا یہ بہت جلدی ہے؟ عموماً اصحابِخانہ اس پر اعتراض نہیں کرتے۔ اکثر ملاقات کرنے والے پبلشر کو ہی کسی حد تک دلیری کیساتھ زیادہ مثبت میلان پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ذیل کے تجربات پر غور کریں۔
۲۲ ایک دن ایک ۱۳ سالہ پبلشر گھرباگھر کام کر رہا تھا کہ اُس نے دو خواتین کو ساتھ ساتھ چلتے دیکھا۔ اس حوصلہافزائی کو یاد رکھتے ہوئے کہ ہمیں ہر جگہ ملنے والے لوگوں کو مُنادی کرنا ہے وہ سرِراہ چلنے والی خواتین کے پاس گیا۔ اُنہوں نے بادشاہتی پیغام میں دلچسپی دکھائی اور دونوں نے ایک ایک علم کی کتاب لے لی۔ نوجوان بھائی نے اُنکے ایڈریس حاصل کئے، دو دن بعد واپس گیا اور اُن دونوں کیساتھ مطالعہ شروع کر دیا۔
۲۳ ایک بہن اگلے ہفتے ہی واپسی ملاقات کرنے کا بندوبست بناتی ہے۔ لیکن ابتدائی ملاقات کے ایک یا دو دن بعد ہی وہ صاحبِخانہ کو اُس مضمون پر رسالہ دینے کیلئے جاتی ہے جس پر اُنہوں نے پہلے باتچیت کی تھی۔ وہ صاحبِخانہ سے کہتی ہے: ”مَیں نے یہ مضمون دیکھا اور سوچا کہ آپ اسے پڑھنا پسند کرینگے۔ مَیں ابھی گفتگو کرنے کیلئے نہیں ٹھہر سکتی لیکن مَیں وعدے کے مطابق بدھ کی سہپہر واپس آؤنگی۔ کیا یہ وقت آپ کیلئے موزوں ہے؟“
۲۴ جب کوئی شخص سچائی میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے تو ہم اس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ اُسے کسی نہ کسی طرح کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ ابتدائی ملاقات کے بعد جلد ہی ہمارا دوبارہ ملاقات کرنا اُسے رشتےداروں، قریبی دوستوں اور دیگر لوگوں کی طرف سے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیگا۔
۲۵ عام جگہوں پر ملنے والوں کی دلچسپی کو اُبھاریں: ہم میں سے بہتیرے گلیکوچوں، پارکنگ کی جگہوں، پبلک ٹرانسپورٹ، شاپنگ سنٹرز، پارکس اور اسی طرح کے دیگر مقامات میں مُنادی کرنے سے خوش ہوتے ہیں۔ لٹریچر پیش کرنے کے علاوہ، ہمیں دلچسپی کو اُبھارنے کی ضرورت ہے۔ اس غرض سے، ہر اُس شخص کا نام، پتہ اور اگر ممکن ہو تو ٹیلیفون نمبر حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس سے ہم ملتے ہیں۔ یہ معلومات حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا کہ آپ سوچ سکتے ہیں۔ جب گفتگو اختتام کو پہنچ رہی ہو تو اپنی نوٹبُک نکالیں اور پوچھیں: ”کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس سے ہم کسی دوسرے وقت پر اس گفتگو کو جاری رکھ سکیں“؟ یاکہیں: ”مَیں چاہونگا کہ آپ ایک مضمون کو پڑھیں جس کی بابت مجھے یقین ہے کہ آپ ضرور اسے دلچسپ پائینگے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ مَیں اسے آپکے گھر یا دفتر لا سکوں؟“ ایک بھائی محض یہ پوچھتا ہے: ”آپ سے کس نمبر پر باتچیت ہو سکتی ہے؟“ وہ بیان کرتا ہے کہ تین اشخاص کے علاوہ باقی سب نے خوشی سے اُسے اپنے فون نمبر دئے۔
۲۶ دلچسپی حاصل کرنے اور اُسے بڑھانے کے لئے ٹیلیفون استعمال کریں: ایک پائنیر بہن کڑی نگرانی والی عمارتوں میں رہنے والے لوگوں تک رسائی کرنے کیلئے ٹیلیفون کا استعمال کرتی ہے۔ وہ واپسی ملاقاتیں بھی اسی طرح سے کرتی ہے۔ ابتدائی ملاقات پر وہ کہتی ہے: ”مجھے معلوم ہے آپ مجھے نہیں جانتے۔ مَیں آپ کے علاقے میں رہنے والے لوگوں کو بائبل کے پیغام میں شریک کرنے کی خاص کوشش کر رہی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہو تو مَیں . . . میں پایا جانے والا وعدہ پڑھنا پسند کرونگی۔“ صحیفہ پڑھنے کے بعد، وہ کہتی ہے: ”کیا یہ انتہائی شاندار بات نہ ہوگی کہ ہم اُس وقت کو آتے دیکھ سکیں؟ مجھے آپ کے سامنے یہ پڑھ کر خوشی ہوئی ہے۔ اگر آپ کو بھی یہ اچھا لگا ہے تو مَیں دوبارہ باتچیت کرنا اور ایک دوسرے صحیفے پر گفتگو کرنا چاہونگی۔“
۲۷ فون پر واپسی ملاقات میں وہ صاحبِخانہ کو اپنی گزشتہ باتچیت یاد دلاتی ہے اور کہتی ہے کہ مَیں بائبل میں سے پڑھ کر بتانا چاہونگی کہ جب بدکاری کا خاتمہ کر دیا جائیگا تو حالتیں کیسی ہونگی۔ اسکے بعد وہ صاحبِخانہ کیساتھ بائبل میں سے مختصر سی گفتگو کرتی ہے۔ ٹیلیفون پر بہت سے مباحثوں کے نتیجے میں، ۳۵ لوگوں نے اُسے اپنے گھر پر مدعو کِیا ہے اور سات گھریلو بائبل مطالعے شروع ہوئے ہیں! موسمِسرما کے سرد مہینوں کے دوران ناقابلِگزر سڑکوں، برفانی حالتوں یا بیماری کے باعث کیا آپ کیلئے دلچسپی رکھنے والے اشخاص کیساتھ واپسی ملاقاتیں کرنا بعضاوقات مشکل ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں نہ ٹیلیفون کے ذریعے اُن سے رابطہ رکھا جائے؟
۲۸ کاروباری علاقے میں پائی جانے والی دلچسپی کی پیروی کریں: دُکانوں میں کام کرنے میں محض رسالے پیش کرنے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ بہت سے دُکاندار سچائی میں حقیقی دلچسپی رکھتے ہیں اور اس دلچسپی کو بڑھایا جانا چاہئے۔ بعض حالتوں میں اُسی جگہ پر بائبل گفتگو کرنا یا مطالعہ کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ دیگر حالتوں میں، آپ اور دلچسپی رکھنے والا شخص ہو سکتا ہے کہ دوپہر کے وقفے کے دوران یا کسی دوسرے موزوں وقت پر ملنے کے قابل ہوں۔
۲۹ ایک سفری نگہبان ایک چھوٹے کریانہ سٹور کے مالک کے پاس گیا اور بائبل مطالعہ کا مظاہرہ کرنے کی پیشکش کی۔ جب پوچھا گیا کہ مظاہرے میں کتنا وقت لگے گا تو سفری نگہبان نے کہا کہ اس میں صرف ۱۵ منٹ لگیں گے۔ یہ سنتے ہی دُکاندار نے دروازے پر ایک تختی لٹکا دی: ”۲۰ منٹ بعد،“ دو کرسیاں کھینچ لیں اور اُن دونوں نے علم کی کتاب کے پانچ پیراگراف پر گفتگو کی۔ اس خلوصدل شخص نے اُس سے جوکچھ سیکھا اس سے اسقدر متاثر ہوا کہ وہ اُسی اتوار پبلک میٹنگ اور مینارِنگہبانی کے مطالعے پر حاضر ہوا اور اگلے ہفتے مطالعے کو جاری رکھنے پر رضامند ہو گیا۔
۳۰ کاروباری علاقے میں مطالعے کی پیشکش کرنے کیلئے آپ یہ کہہ سکتے ہیں: ”ہمارے بائبل مطالعہ پروگرام کا مظاہرہ کرنے میں صرف ۱۵ منٹ لگتے ہیں۔ اگر یہ ممکن ہے تو مجھے آپکو یہ دکھا کر خوشی ہوگی کہ یہ کیسے کِیا جاتا ہے۔“ پھر، وقت کی پابندی ضرور کریں۔ اگر کاروباری جگہ پر طویل گفتگو کرنا ممکن نہیں تو شاید دُکاندار سے اُس کے گھر پر ملاقات کرنا زیادہ مناسب رہیگا۔
۳۱ جب لٹریچر نہ بھی پیش کِیا جائے توبھی واپسی ملاقات کریں: خواہ لٹریچر پیش کِیا گیا ہے یا نہیں، ذرا سی دلچسپی بھی واپسی ملاقات کی مستحق ہے۔ بِلاشُبہ، اگر واضح ہو جاتا ہے کہ صاحبِخانہ واقعی بادشاہتی پیغام میں دلچسپی نہیں رکھتا تو اپنی کاوشوں کا رُخ کسی دوسری طرف موڑ دینا زیادہ اچھا ہے۔
۳۲ گھرباگھر کے کام میں، ایک بہن کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جو انتہائی دوستانہ طبیعت کی مالک تھی مگر اُس نے رسالوں کی پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا۔ پبلشر لکھتی ہے: ”کئی دنوں تک مَیں اُسکی بابت سوچتی رہی اور فیصلہ کِیا کہ مَیں دوبارہ اُس سے بات کرونگی۔“ بالآخر، بہن نے دُعا کی، ہمت باندھی اور اُس خاتون کے دروازے پر دستک دے ڈالی۔ جب خاتونِخانہ نے اُسے اندر آنے کی دعوت دی تو اُسکی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ایک بائبل مطالعہ شروع ہو گیا اور اگلے دن یہ دوبارہ کرایا گیا۔ جلد ہی، خاتونِخانہ سچائی میں آ گئی۔
۳۳ اَور زیادہ سرانجام دینے کیلئے قبلازوقت منصوبہسازی کریں: اس بات کی سفارش کی جاتی ہے کہ ہر ہفتے کچھ وقت واپسی ملاقاتیں کرنے میں صرف کِیا جائے۔ اچھی منصوبہسازی کیساتھ بہت کچھ سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ اُسی علاقے میں ملاقاتیں کرنے کا بندوبست بنائیں جہاں آپ گھرباگھر کا کام کر رہے ہونگے۔ کام کرنے کیلئے جب گاڑی ہمراہ لے کر جائیں تو، گروپ کو چھوٹا رکھنا چاہئے تاکہ ہر شخص کو واپسی ملاقاتیں کرنے کا بھرپور موقع حاصل ہو سکے۔ ڈرائیور کو پہلے سے معلوم ہونا چاہئے کہ واپسی ملاقاتیں کہاں کی جائینگی تاکہ غیرضروری سفر سے بچا جا سکے۔
۳۴ واپسی ملاقاتیں کرنے اور گھریلو بائبل مطالعے شروع کرنے میں کامیابی حاصل کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ لوگوں میں حقیقی دلچسپی ظاہر کرنا اور ملاقات کرنے کے بعد بھی اُنکی بابت سوچتے رہنا اشد ضروری ہے۔ گفتگو کرنے کیلئے دلچسپ بائبل موضوع کا ہونا اور ابتدائی ملاقات کے اختتام سے پہلے ہی واپسی ملاقات کی بنیاد ڈالنا بھی ضروری ہے۔ اسکے علاوہ دلچسپی کی پیروی کرنے کیلئے بِلاتاخیر واپس جانا نہایت اہم ہے۔ بائبل مطالعہ شروع کرنے کے نصبالعین کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔
۳۵ واپسی ملاقات کرنے کے کام میں کامیابی کیلئے دلیری ایک اہم خوبی ہے۔ یہ کیسے حاصل کی جاتی ہے؟ پولس رسول یہ کہتے ہوئے جواب دیتا ہے کہ ہم ”اپنے خدا میں“ دوسروں کو خوشخبری سنانے کی ’دلیری حاصل کرتے ہیں۔‘ اگر آپ کو اس حلقے میں ترقی کرنے کی ضرورت ہے تو مدد کیلئے یہوواہ سے دُعا کریں۔ اسکے بعد، اپنی دُعاؤں کی مطابقت میں، تمام دلچسپی کی پیروی کریں۔ یقیناً یہوواہ آپکی کاوشوں کو برکت دیگا!
[Box on page 3]
واپسی ملاقاتیں کرنے میں کیسے کامیاب ثابت ہوں
◼ لوگوں میں حقیقی ذاتی دلچسپی دکھائیں۔
▪ گفتگو کرنے کیلئے دلکش بائبل موضوع کا انتخاب کریں۔
▪ ہر سلسلہوار ملاقات کیلئے بنیاد ڈالیں۔
▪ اپنے واپس آنے کے بعد بھی اُس شخص کی بابت سوچتے رہیں۔
▪ دلچسپی کی پیروی کرنے کیلئے ایک یا دو دن میں واپس جائیں۔
▪ یاد رکھیں کہ آپکا مقصد ایک بائبل مطالعہ شروع کرنا ہے۔
▪ اس کام کیلئے دلیری حاصل کرنے کے سلسلے میں مدد کیلئے دُعا کریں۔