کلام کرنے اور چالچلن میں نمونہ بنیں
۱ پولس رسول نے تیمتھیس کو کلام کرنے اور چالچلن میں نمونہ بننے کی نصیحت کی۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱۲) خاص طور پر خدمتگزاری میں شرکت کرتے وقت، ہمیں بھی مثالی گفتگو اور چالچلن کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے اس بات کا تعیّن کِیا جا سکتا ہے کہ آیا جن لوگوں سے ہم ملتے ہیں اُنکے دل تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔
۲ ہمیں خوشاخلاقی، پاسولحاظ، شفقت، نرممزاجی، اور موقعشناسی سمیت، اچھے آدابواطوار کے تمام پہلوؤں کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خوبیوں کو منعکس کرنے سے، ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اس بات سے واقف ہیں کہ ہمارے افعال دوسروں کے احساسات کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ خدمتگزاری میں اچھے آداباطوار کا موازنہ ایسے مسالاجات سے کِیا جا سکتا ہے جو کھانے کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان کے بغیر، صحتبخش کھانے کا ذائقہ بدمزہ اور بھوک اُڑا دینے والا ہو سکتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ تعلقات میں اچھے آدابواطوار کا مظاہرہ کرنے سے قاصر رہنے کا بھی یہی اثر ہو سکتا ہے۔—کلسیوں ۴:۶۔
۳ کلام کرنے میں نمونہ بنیں: ایک دوستانہ مسکراہٹ اور ایک پُرتپاک پیغامِتہنیت ہماری خوشخبری کی پیشکش کے نہایت اہم عناصر ہیں۔ جب ہم گرمجوشی اور خلوصدلی کیساتھ اپنے تعارف میں چاشنی پیدا کرتے ہیں تو ہم صاحبِخانہ کو یہ جاننے کا موقع دیتے ہیں کہ ہم واقعی اُس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جب وہ بات کرتا ہے تو غور سے سنیں اور اُسکی رائے کیلئے واجب احترام دکھائیں۔ جب آپ بات کرتے ہیں تو موقعشناسی اور مہربانی سے ایسا کریں۔—مقابلہ کریں اعمال ۶:۸۔
۴ کبھیکبھار ہم ایسے شخص سے ملتے ہیں جو شاید مخالف، حتیٰکہ لڑاکا ہو۔ ہمیں کیسا ردِعمل دکھانا چاہیے؟ پطرس نے ہمیں اس طرح کلام کرنے کی تاکید کی جو ”حلم اور خوف [”گہرا احترام،“ اینڈبلیو]“ ظاہر کرتا ہے۔ (۱-پطرس ۳:۱۵؛ رومیوں ۱۲:۱۷، ۱۸) یسوع نے کہا کہ اگر صاحبِخانہ گستاخی سے بادشاہتی پیغام کو رد کرتا ہے تو ہمیں محض ’اپنے پاؤں کی گرد جھاڑ‘ دینی چاہیے۔ (متی ۱۰:۱۴) ایسے حالات کے تحت ہمارا مثالی آدابواطوار کا مظاہرہ کرنا انجامکار مخالف کے دل کو نرم کر سکتا ہے۔
۵ چالچلن میں نمونہ بنیں: پُرہجوم گلیوں اور عوامی جگہوں پر خوشخبری کی منادی کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم بامروّت ہوں، کبھی شوروغل کرنے والے یا ضدی نہ ہوں، اور یہ کہ ہم راہگیروں کی آمدورفت میں رُکاوٹ نہ بنیں۔ جب دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے گھروں میں ہوں تو ہمیں موزوں شائستگی کو برقرار رکھنا چاہیے اور اُن کی مہماننوازی کے لئے قدردانی دکھاتے ہوئے خود کو مہربان مہمان بنانا چاہیے۔ جو بچے ہمارے ساتھ جاتے ہیں اُنہیں صاحبِخانہ اور اُس کی چیزوں کے لئے احترام دکھانا چاہیے اور جب ہم گفتگو کر رہے ہوں تو انہیں باتہذیب اور متوجہ ہونا چاہیے۔ اگر بچے اُدھم مچانے والے ہیں تو یہ ایک ناموافق تاثر چھوڑیگا۔—امثال ۲۹:۱۵۔
۶ ہماری ذاتی وضعقطع کو دوسروں پر ظاہر کرنا چاہیے کہ ہم خدا کے کلام کے خادم ہیں۔ اپنے لباس اور بناؤسنگھار میں ہمیں نہ تو پھوہڑ اور بےسلیقہ ہونا چاہیے نہ ہی بھڑکیلے اور حد سے متجاوز۔ ہماری وضعقطع کو ہمیشہ خوشخبری کے لائق ہونا چاہیے۔ (مقابلہ کریں فلپیوں ۱:۲۷۔) اپنی وضعقطع اور سامان پر سنجیدہ توجہ دینے سے، ہم دوسروں کے ٹھوکر کھانے یا ہماری خدمتگزاری میں سے نقص نکالنے کا باعث نہیں بنیں گے۔ (۲-کرنتھیوں ۶:۳، ۴) ہماری مثالی گفتگو اور چالچلن یہوواہ کیلئے عزتواحترام کا باعث بنتے ہوئے، بادشاہتی پیغام کی دلکشی میں اضافہ کرتے ہیں۔—۱-پطرس ۲:۱۲۔