زمانہ بدل گیا ہے
۱ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ”دنیا کی شکل بدلتی جاتی ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۷:۳۱) آجکل یہ کس قدر سچ ہے! یہانتک کہ اپنی زندگی میں، ہم نے انسانی معاشرے کی ہر سطح پر لوگوں کی سوچ اور چالچلن میں شدید تبدیلیوں کو دیکھا ہے۔ اگر ہمیں بادشاہتی پیغام کے ساتھ ان تک پہنچنے میں کامیاب ہونا ہے تو ہماری رسائی کو بدلتے زمانے کے مطابق ہونا چاہئے۔ ہم خوشخبری کو اس انداز میں پیش کرنا چاہتے ہیں کہ یہ لوگوں کو دلچسپ لگے اور ان کے دلوں تک پہنچے۔
۲ سالوں پہلے، بہتیرے ممالک میں گواہی کا کام مختلف تھا کیونکہ، زیادہتر، لوگ کافی پُرسکون زندگیاں بسر کرتے تھے اور وہ محفوظ محسوس کرتے تھے۔ مذہب کو ان کی زندگیوں میں پاک مقام حاصل تھا۔ بائبل کی بڑی قدرومنزلت تھی۔ اُن دنوں گواہی دینے میں اکثر عقائد سے متعلق مسائل پر تردیدی دلائل شامل ہوا کرتے تھے۔ آجکل، لوگوں کی زندگیاں افراتفری کا شکار ہیں۔ مذہب کا تمسخر اُڑایاجاتا ہے۔ چند ایک بائبل پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور بہتیروں کے معاملے میں، ارتقا کے نظریے نے خدا پر ایمان کو تباہ کر دیا ہے۔
۳ ایک سفری نگہبان نے مشاہدہ کیا: ”اب، یوں دکھائی دیتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں اتنے زیادہ مسائل اور مشکلات ہیں کہ ہمیں انہیں سکھانا پڑتا ہے کہ کسطرح زندگی بسر کریں۔“ لوگوں کی حالیہ فکریں قدرتی طور پر ان کی ذات، ان کے خاندان، اور ان کی پریشانیوں کے گرد گھومتی ہیں۔ جب وہ اکھٹے ہوتے ہیں تو یہی چیزیں ہیں جن پر وہ زیادہتر باتچیت کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے گواہی دینے کے کام میں اس بات کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔
۴ مستقبل کے لئے واحد یقینی اُمید خدا کی بادشاہت ہے: زیادہ لوگ انسانی حکومت پر بہت کم بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کی اپنی زندگی میں ایک بہتر دنیا دیکھنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جھوٹا مذہب انہیں اُمید کے لئے کوئی بنیاد فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوعِانسان کی سب سے بڑی ضرورت خدا کی بادشاہت کی بابت خوشخبری سننا ہے۔ یہ ظاہرکریں کہ انجامکار یہ کس طرح نوعِانسان کو درپیش تمام مسائل کا حل فراہم کرے گی۔
۵ راہنمائی کا واحد قابلِاعتماد ذریعہ بائبل ہے: آجکل انسانی حکمت اور دنیاوی فیلسوفیوں پر بھروسہ کرنے والے راہنماؤں نے عوام کو گمراہ کر دیا ہے۔ لہٰذا لوگوں کو پوری طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ”انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (یرمیاہ ۱۰:۲۳) نہایت بیشقیمت سبق جو وہ سیکھ سکتے ہیں یہ ہے کہ انہیں ’اپنے سارے دل سے یہوؔواہ پر توکل کرنا اور اپنے فہم پر تکیہ نہیں کرنا چاہئے۔‘ (امثال ۳:۵) اگرچہ زمانہ بدل گیا ہے تو بھی بائبل نہیں بدلی۔ لہٰذا، ہمیں اپنی خدمتگزاری میں دوسروں کو اس کی الہامی، الہٰی راہنمائی کی قدردانی کرنا سیکھاتے ہوئے، ہمیشہ خدا کے کلام کو اُجاگر کرنا چاہئے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے، ہمیں اپنی پیشکشوں میں اس پر توجہ دلانے سے، انکے سوالوں کا جواب دینے میں اسے استعمال کرنے سے، اور اسکا مطالعہ کرنے کی ضرورت اور اسکی عملی حکمت کا اطلاق کرنے کی تائید کرنے سے لوگوں کے سامنے بائبل کی اہمیت کو قائم رکھنا چاہئے۔
۶ آجکل کی بدلتی ہوئی حالتوں کے ساتھ بھی، خدمتگزاری میں ہمارے مقاصد وہی رہتے ہیں۔ ہمیں بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنا، خدا کے کلام پر اعتماد کو استوار کرنا، اور اپنے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے کی ضرورت کو محسوس کرنے کیلئے دوسروں کی مدد کرنا ہے۔ جو کچھ ہم کہتے ہیں اُسے ان لوگوں کی حالیہ ضروریات کا حصہ ہونا چاہئے جنہیں ہم گواہی دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے، ہم دوسروں کو خوشخبری میں شریک کرنے والے بن سکتے ہیں اور یوں کافی لوگوں کو اپنے ساتھ ملا سکتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۹:۱۹، ۲۳۔