مَیں کیسے ایک سننے والے کان تک پہنچ سکتا ہوں؟
۱ فلپیؔ کے شہر میں، ”ایک . . . عورت لدؔیہ نام قرمز بیچنے والی بھی سُنتی تھی۔ اُسکا دِل خداوند نے کھولا تاکہ پولسؔ کی باتوں پر توجہ کرے۔“ (اعمال ۱۶:۱۴) یہ بیان ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ یہ سننا ہی ہے جو ایک شخص کیلئے سچائی سیکھنے کا دروازہ کھولتا ہے۔ بادشاہتی پیغام سنانے میں ہماری کامیابی کا انحصار بنیادی طور پر سننے کے لئے صاحبِخانہ کی رضامندی پر ہے۔ ایک بار جب ہمیں سننے والا کان مل جاتا ہے تو اپنا پیغام پیش کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو سننے پر آمادہ کرنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟
۲ خدمت میں شرکت کرنے سے پہلے، ہمیں اپنی وضعقطع اور جو چیزیں ہم استعمال کرینگے اُس پر توجہ دینی چاہئے۔ کیوں؟ لوگ کسی ایسے شخص کی بات سننے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو خود کو باوقار طور پر پیش کرتا ہے۔ کیا ہم نے باذوق مگر حیادار لباس پہنا ہے؟ اگرچہ لباس میں لاپروائی دُنیا میں عام ہو سکتی ہے، ہم ایسی لاپروائی سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ہم خدا کی بادشاہت کی نمائندگی کرنے والے خادم ہیں۔ ہماری صافستھری وضعقطع اُس بادشاہتی پیغام میں موافق شہادت کا اضافہ کرتی ہے جس کی ہم منادی کرتے ہیں۔
۳ بامروّت اور باعزت بنیں: آجکل کے بدلتے ہوئے رجحانات کے باوجود، بہتیرے لوگ اب بھی بائبل کے لئے احترام رکھتے ہیں اور جوکچھ بائبل میں موجود ہے اس کی بابت ایک باعزت اور بامروّت گفتگو کے لئے موافق ردِعمل دکھائینگے۔ ایک پُرتپاک، حقیقی مسکراہٹ صاحبِخانہ کو مطمئن کر سکتی اور ایک خوشگوار باتچیت کیلئے راہ کھول سکتی ہے۔ ہمارا خلوص اور اچھے آدابواطوار ہماری گفتگو اور چالچلن سے بھی ظاہر ہونے چاہئیں، جس میں ہمارا صاحبِخانہ کے مشاہدات کو احترام کیساتھ سننا بھی شامل ہے۔
۴ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بائبل کی اُمید میں دوسروں کو شریک کریں۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ہمیں اس بات کا یقین کر لینا چاہئے کہ ہماری گفتگو دلکش ہو نہ کہ مخالفانہ یا مبارزتطلب۔ کسی ایسے شخص کیساتھ بحث میں وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جو صریحاً مخالف ہے۔ (۲-تیمتھیس ۲:۲۳-۲۵) ہم ہماری بادشاہتی خدمتگزاری اور ریزننگ بُک میں ہمارے لئے فراہمکردہ بروقت اور حوصلہافزا پیشکشوں کی متعدد اقسام میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔ یقینی طور پر، ہمیں انہیں خوب اچھی طرح تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم پُرجوش اور قائل کرنے والے انداز میں گفتگو کر سکیں۔—۱-پطرس ۳:۱۵۔
۵ ہماری ملاقات کے بعد، بعض اصحابِخانہ وہ سب کچھ صحیح طور پر یاد رکھنے کے قابل ہوتے ہیں جوکچھ ہم نے کہا تھا۔ تاہم، عملاً وہ سب اُس انداز کو یاد رکھ سکتے ہیں جس میں یہ کہا گیا تھا۔ ہمیں کبھی بھی نیکی اور مہربانی کی اہمیت کے متعلق غلط اندازہ نہیں لگانا چاہئے۔ یقینی طور پر ہمارے علاقے میں بہت سے بھیڑخصلت لوگ موجود ہیں جو سچائی کو سنیں گے بالکل ویسے ہی جیسے پہلی صدی میں لدؔیہ نے کِیا تھا۔ اپنی وضعقطع اور اندازِگفتگو پر احتیاط کے ساتھ توجہ دینا خلوصدل لوگوں کی خدا کے کلام کو سننے اور اسے موافق طور پر قبول کرنے کے لئے حوصلہافزائی کر سکتا ہے۔—مرقس ۴:۲۰۔