کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی بابت ایک متوازن نظریہ قائم رکھنا
۱ پولسؔ رسول نے پہلی صدی میں مسیحیوں کو انتشارِخیال کا شکار نہ ہونے کی تاکید کی، کیونکہ ”وقت تنگ ہے۔“ (۱-کرنتھیوں ۷:۲۹) جب اِس پُرانے نظامالعمل کا خاتمہ نزدیک آتا ہے تو ہمارے لئے ’پہلے بادشاہی اور خدا کی راستبازی کی تلاش کرنا‘ اور ’وقت کو غنیمت جاننا‘ کتنا ضروری ہے! وقت گراںبہا ہے۔—متی ۶:۳۳؛ افسیوں ۵:۱۵، ۱۶۔
۲ ٹیکنالوجی کا کافی وقت بچانے والی کے طور پر خیرمقدم کِیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، کمپیوٹر کا ایک بٹن دبانے سے، استعمالکنندہ معلومات کے وسیع ذخیرے تک فوراً رسائی کر سکتا ہے۔کمپیوٹر وہ کام اکثر سیکنڈوں میں کر سکتے ہیں جنہیں دوسرے ذرائع سے کرنے کیلئے شاید گھنٹوں یا ہفتوں لگے ہوتے۔ جب صحیح طور پر استعمال کئے جاتے ہیں تو یہ مفید ہتھیار ہیں۔
۳ کیا یہ درحقیقت وقت بچائے گا؟: اِس کی دوسری طرف، استعمالکنندہ کو ایسی ٹیکنالوجی کافی لاگت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی—پیسے اور وقت دونوں لحاظ سے۔ کمپیوٹر سے بعض کام لینا سیکھنے کے لئے گھنٹوں لگ سکتے ہیں۔ علاوہازیں، ایک شخص کا ٹیکنالوجی میں حد سے زیادہ مگن ہونا بذاتِخود وقت ضائع کر سکتا ہے جسے بہتر طور پر صرف کِیا جا سکتا تھا۔ ہمیں پولسؔ رسول کی فہمائش میں شامل اصول کو ذہن میں رکھتے ہوئے متوازن نظریہ رکھنا چاہئے کہ ”داناؤں کی مانند“ چلیں ”اور وقت کو غنیمت [جانیں]۔“—دیکھیں ۱-کرنتھیوں ۷:۳۱۔
۴ کئی ایک نیکنیت اشخاص نے کلیسیائی ریکارڈ رکھنے کیلئے کمپیوٹر پروگراموں کو ترتیب دیا ہے۔ بیشک، یہ ایک ذاتی فیصلہ ہے کہ ایک شخص اپنے کمپیوٹر کو کیسے استعمال کرتا ہے۔ تاہم، کلیسیائی ریکارڈ کمپیوٹروں پر نہیں رکھے جانے چاہئیں جن کے لئے فارم مہیا کئے گئے ہیں، اس لئے کہ بچے یا غیرمجاز اشخاص رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تمام کلیسیائی ریکارڈ—اکاؤنٹس ریکارڈ، کلیسیائی پبلشر ریکارڈ کارڈ، وغیرہ—کو سوسائٹی کی طرف سے فراہمکردہ فارموں پر رکھا جانا چاہئے، اور اِن کلیسیائی فارموں پر کی معلومات کو کسی کمپیوٹر میں محفوظ نہیں کِیا جانا چاہئے۔ اس طریقے سے کلیسیا کے مخفی رکھے جانے والے ریکارڈ محفوظ ہونگے۔
۵ ذمہدار نگہبانوں کو تھیوکریٹک منسٹری اسکول اور خدمتی اجلاس کی تفویضات دیتے وقت سمجھداری سے کام لینا چاہئے۔ انہیں کسی خاص حصے میں احاطہ کئے جانے والے مواد کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، اسکول میں کچھ مواد کسی بھی طالبعلم کے لئے پیش کرنا مناسب نہ ہوگا۔ پیشکش کے مقصد کے ساتھ ساتھ اس شخص کی لیاقتیں اور مواد کی نوعیت کو بھی ملحوظِخاطر رکھا جانا چاہئے۔ اِسکا فیصلہ کرنے کا کام کمپیوٹر پر نہیں چھوڑا جانا چاہئے۔
۶ ایک بھائی جسے کلیسیائی اجلاسوں پر پیش کرنے کے لئے ایک حصہ تفویض کِیا گیا ہے کسی دوسرے، بالخصوص کسی نامعلوم شخص کے ذریعے تیارکردہ مواد پر تکیہ نہیں کرنا چاہئے، محض اسلئے کہ اِسے کمپیوٹر نٹورک پر مہیا کِیا گیا ہے اور اس کا استعمال اُسکی محنت بچائیگا۔ ذمہدار مسیحی بائبل تقاریر یا اجلاس کے حصے تیار کرنے اور اُنہیں دوسروں کے استعمال کے لئے کمپیوٹر نٹورکس پر دستیاب کرنے کی جسارت نہیں کرتے۔ تاہم کمپیوٹر اور CD-ROM پر سوسائٹی کی واچٹاور لائبریری منفرد بھائیوں کے ہاتھ میں قابلِقدر اوزار ہو سکتے ہیں جو دستیاب محدود وقت میں مؤثر تحقیق کرنے میں معاون بنتے ہیں۔
۷ جہانتک بھائیوں کے درمیان کمپیوٹر پروگراموں، فہرستوں، اور متعلقہ دستاویزات کو تقسیم کرنے اور ازسرِنو تیار کرنے اور الیکٹرانک یا دوسرے ذرائع سے خدمتی اجلاس اور تھیوکریٹک منسٹری سکول کے حصوں کو تیار کرنے اور تقسیم کرنے کا تعلق ہے تو عام طور پر بھائیوں کے لئے یہ اکثر بہتر ہوتا ہے کہ مقامی فوائد کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اپنا ذاتی مواد تیار کریں۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱۳، ۱۵) مالی فائدہ حاصل کرنے کے لئے کسی بھی قیمت پر کلیسیائی روابط سے ناجائز فائدہ نہیں اُٹھانا چاہئے۔
۸ مینارِنگہبانی کے مطالعے یا کلیسیائی کتابی مطالعے میں مستعمل صحائف کے کمپیوٹر پرنٹآؤٹس کی تقسیم کی بابت کیا ہے؟ پبلشروں کے لئے یہ زیادہ بہتر دکھائی دیتا ہے کہ مطالعہ کی جانے والی مطبوعات کے اندر ہی نشانات لگائیں اور اپنے انفرادی نوٹس بنائیں۔ مطبوعات کے اندر حوالہشُدہ صحیفائی آیات کے پرنٹآؤٹس کو اجلاس پر لانا صحائف تلاش کرنے کے لئے بائبل کے استعمال کی حوصلہشکنی کر سکتا ہے۔ تاہم، ایک بائبل مطالعے کے دوران یا ایک کلیسیائی اجلاس پر صحیفائی آیات کو نکال کر دیکھنا ہمیں میدانی خدمتگزاری میں بائبل کے مؤثر استعمال کے لئے لیس کرنے میں، حاصل ہونے والی تربیت کا حصہ ہے۔ زیادہتر معاملات میں، اور بالخصوص طویل حوالہجات کے سلسلے میں، براہِراست بائبل سے پڑھنا زیادہ مؤثر ہے، اور خاص طور پر جب سامعین کو بائبل میں ساتھ ساتھ دیکھنے کی حوصلہافزائی کی جاتی ہے۔
۹ دیگر سنگین خطرات: جیسے نومبر ۱۹۹۳ کے مینارِنگہبانی کے شمارے کے صفحہ ۱۶ پر بیان کئے گئے، کمپیوٹر کو کسی الیکٹرانک بلیٹن بورڈ کے ساتھ منسلک کر لینا سنگین روحانی خطرات کی راہ کھول سکتا ہے۔ جس طرح کوئی بددیانت شخص ایک بلیٹن بورڈ کے اندر وائرس—کمپیوٹر فائلز کو خراب کرنے یا ختم کرنے کے لئے ترتیب دیا ہوا پروگرام—ڈال سکتا ہے برگشتہ لوگ، پادری لوگ، اور دیگر کو اخلاقی طور پر یا دوسرے طریقوں سے بگاڑنے کی تلاش میں رہنے والے اشخاص آزادی کے ساتھ اپنے زہرآلودہ خیالات بلیٹن بورڈ کے اندر ڈال سکتے ہیں۔ جبتک ایک بلیٹن بورڈ کی خواہ اُس پر ”جےڈبلیو اُونلی“ (صرف یہوؔواہ کے گواہ) ہی لکھا ہو، صحیح طور پر دیکھبھال، اِس کے ساتھ ساتھ اِس کے استعمال کو اُن تک محدود نہ کر دیا گیا ہو، جو یہوؔواہ کے پُختہ، وفادار خادم ہیں، یہ مسیحی استعمالکنندہ کو ”بُری صحبتوں“ کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) سوسائٹی کو رپورٹیں محصول ہوئی ہیں کہ ایسے نامنہاد پرائیویٹ نٹورکس نہ صرف روحانی معاملات کی بابت قیاسآرائی کرنے کے لئے بلکہ خراب مشورت دینے، فضولگوئی اور جھوٹی معلومات پھیلانے، منفی خیالات کو عام کرنے، سوالات اور شکوک پیدا کرنے کے لئے بھی استعمال کئے گئے ہیں جو بعض کے ایمان کو بگاڑتے ہیں، اور صحائف کی ذاتی تشریحات کی نشرواشاعت کرتے ہیں۔ سطحی طور پر، بعض معلومات دلچسپ اور معلوماتی دکھائی دے سکتی ہیں، اور پھربھی یہ زہرآلودہ عناصر کے ساتھ منسلک ہو سکتی ہیں۔ مسیحی بروقت روحانی خوراک اور وضاحتوں کے لئے ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ پر آس لگاتے ہیں۔ (دیکھیں مینارِنگہبانی اکتوبر ۱۹۹۴، صفحات ۸-۱۰۔) ایک مسیحی اپنے ایمان کو بگاڑنے والے تمام اثرات سے محفوظ رکھنے کی سنجیدہ ذمہداری رکھتا ہے اور اِس کا بنیادی عنصر یہ ہے کہ اُسے ہمیشہ معلوم ہونا چاہئے کہ کس کے ساتھ رفاقت رکھ رہا ہے۔—متی ۲۴:۴۵-۴۷؛ ۲-یوحنا ۱۰، ۱۱۔
۱۰ مینارِنگہبانی کے اُسی مضمون نے کاپیرائٹ قوانین کا خیال رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ زیادہتر کمپنیاں جو کمپیوٹر پروگراموں کو ترتیب دیتی اور فروخت کرتی ہیں اِنکے جملہحقوق محفوظ رکھتی ہیں، اور وہ لائسنس فراہم کرتی ہیں کہ اِن پروگراموں کو جائز طور پر کیسے استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ لائسنس عام طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مالک پروگرام کی کاپیاں کسی دوسرے کو نہیں دے سکتا؛ درحقیقت، انٹرنیشنل کاپیرائٹ قانون ایسے کام کو ناجائز قرار دیتا ہے۔ بہتیرے حریص لوگ قانون توڑنے کے سلسلے میں ضمیر کی کوئی خلِش محسوس نہیں کرتے۔ تاہم، مسیحیوں کو جو قیصر کا ہے قیصر کو ادا کرتے ہوئے، قانونی معاملات میں محتاط ہونا چاہئے۔—متی ۲۲:۲۱؛ رومیوں ۱۳:۱۔
۱۱ بعض بڑی بڑی کمپنیاں کمپیوٹر فروخت کرتی ہیں جن میں پہلے سے نصبشُدہ اور لائسنسیافتہ پروگرام ہوتے ہیں۔ تاہم، بعض کمپیوٹر سٹور لائسنس فراہم نہیں کرتے کیونکہ اُن کے پہلے سے نصبشُدہ پروگرام غیرقانونی کاپیاں ہوتی ہیں، مطلب یہ کہ خریدار پروگراموں کو استعمال کرنے سے قانون کی خلافورزی کرتا ہے۔ اِسکے ساتھ یہ بات بھی شامل ہے کہ مسیحیوں کو الیکٹرانک بلیٹن بورڈوں کے مواد کے ساتھ منسلک ہونے، یا اُن سے وہ معلومات حاصل کرنے سے گریز کرنا چاہئے جنکے حقوق محفوظ ہیں (جیسےکہ سوسائٹی کی مطبوعات ہیں) اور جنہیں مالکان کی قانونی اجازت کے بغیر کاپی کِیا جا رہا ہے۔—عبرانیوں ۱۳:۱۸۔
۱۲ ٹیکنالوجی کو کسی بھی کام میں لانے کی قدروقیمت کا اندازہ اُس کے استعمال میں شامل امکانی خطرات کے خلاف لگایا جانا چاہئے۔ جیسے ٹیلیویژن کو اچھے مقصد کے لئے استعمال کِیا جا سکتا ہے، لیکن جو ناخوشگوار اثر یہ آجکل نوعِانسان پر ڈال رہا ہے وہ دنیاوی ذرائع کے لئے بھی سنجیدہ فکرمندی کا اظہار کرنے کا سبب بنا ہے۔ کمپیوٹر نٹورکس پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور گھر یا کام کی جگہ پر قیمتی معلومات لا سکتے ہیں۔ وہ تنظیموں اور کاروباروں کے لئے بہت ضروری خدمات پیش کرتے ہیں نیز اُن اشخاص کو بھی جنہیں تیزی سے آگے بڑھنے والی سوسائٹی میں ذاتی یا کاروباری مفادات کے ساتھ رفتار کو قائم رکھنے کی ضرورت ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ تاہم، کمپیوٹر نٹورکس نے مسائل کے ساتھ ناک میں دم بھی کر دیا ہے جیسے فحاشی، نفرت کا منقسم کرنے والا پروپیگنڈا، تفصیلی معلومات کہ کیسے شرمناک اور بدخصلت کام کئے جائیں۔
۱۳ لہٰذا، بہتیری اہم وجوہات ہیں کہ کیوں ایک مسیحی کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے لئے ایک متوازن نظریہ برقرار رکھنا چاہئے۔ بہت سے افراد نیو ورلڈ ٹرانسلیشن، انسائٹ جلدوں، اور گِٹورس پروگرام سے استفادہ کر رہے ہیں، جسے سوسائٹی نے کمپیوٹر ڈسکوں پر مہیا کِیا ہے۔ دیگر نے سوسائٹی کی طرف سے جاریکردہ CD-ROM پر واچٹاور لائبریری کو استعمال کرنے سے فائدہ اٹھایا ہے، جو دیگر تحقیقی صلاحیتیوں کے ساتھ ملکر کام کرتا ہے۔ کسی ٹیکنالوجی کی قدروقیمت تسلیم کرتے ہوئے، ایک شخص جو ایسی جدید ٹیکنالوجی کو مفید مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے اُسے خود کو اور دوسروں کو کسی بھی طرح کے منفی پہلوؤں سے محفوظ رکھنے کے لئے محتاط بھی رہنا چاہئے۔ ہمیں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکنالوجی کا بےضرر استعمال بھی ہمارے مخصوصشُدہ وقت کی ایک غیرمعمولی مقدار کو ضائع نہ کر دے یا ہمارے اہم کام اور مقاصد سے ہماری توجہ ہٹا دے۔—متی ۶:۲۲؛ ۲۸:۱۹، ۲۰۔