سکول میں مسیحی چالچلن
۱ اگر آپ ابھی تک سکول جانے والے مسیحی نوجوان ہیں تو آپ کو اپنی راستی برقرار رکھنے کے لئے ایمان کی ضرورت ہے۔ آپ بُرے ساتھیوں اور ایسی حالتوں کے خطرے میں رہتے ہیں جو آپ کے ایمان کو آزما سکتی ہیں۔ آپ کے لئے پطرؔس کی اس مشورت کا اطلاق کرنا اہم بات ہے کہ ”غیرقوموں میں اپنا چالچلن نیک رکھو تاکہ . . . وہ تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر انہی کے سبب سے ملاحظہ کے دن خداوند کی تمجید کریں۔“ (۱-پطرس ۲:۱۲) اِس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے آپ کو ہمت اور پُختہ عزم کی ضرورت ہے۔
۲ سکول میں یا سکول سے باہر، آپ پر آلودہ کرنے والے شادی سے قبل جنسی تعلقات کے اثرات، گندی زبان، تمباکو اور منشیات کے ناجائز استعمال کی بھرمار کی جاتی ہے۔ ہر روز، آپ آزمائشوں کا سامنا کرتے ہیں جو آپ کے عمدہ چالچلن کے ریکارڈ کو خراب کرنے کا خطرہ پیش کرتی ہیں۔ اگر آپ کو ایسی آزمائشوں کو برداشت کرنا ہے تو آپ کو بالغوں کی مانند ”ایمان کے واسطے جانفشانی” کرنی چاہئے۔—یہوداہ ۳؛ دیکھیں مینارِنگہبانی، جنوری، ۱۹۹۲ صفحات ۲۶-۲۸۔
۳ سکول میں، حبالوطنی کی تقریبات اور دُنیاوی تعطیلات ہوتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کن قومی اور مذہبی تعطیلات کو آپ کے سکول میں فروغ دیا جاتا ہے؟ اگر ایک چیلنجخیز صورتحال اُٹھ کھڑی ہوتی ہے تو کیا آپ ”نیت نیک“ رکھ سکتے ہیں ”تاکہ . . . وہ لوگ شرمندہ ہوں جو [آپ کے] نیک چالچلن پر لعنطعن کرتے ہیں“؟—۱-پطرس ۳:۱۶۔
۴ شاید آپ کو سکول کی کھیلوں کی سرگرمیوں یا سماجی اجتماعات کی کشش سے بہکایا جائے۔ آپ کو یہ پہچاننے میں ہوشیار ہونا چاہئے کہ بظاہر پُرلطف نظر آنے والی یہ سرگرمیاں آپکے ایمان کو بگاڑ سکتی ہیں۔ ایسے ساتھیوں کا انتخاب کرنے کی ضرروت ہے جن کیساتھ آپ ”باہمی حوصلہافزائی“ سے لطف اُٹھا سکتے ہیں، ہر کوئی دوسرے کے ایمان کے باعث تقویت پاتا ہے۔—رومیوں ۱:۱۲، اینڈبلیو۔
۵ آپ یہوؔواہ کی مدد سے برداشت کر سکتے ہیں: شیطان ہمیشہ آپ کے ایمان کو آزما رہا ہے۔ آزمائشیں جن کا آپ کو سامنا ہے شدید ہو سکتی ہیں، لیکن اجر اس سب کو کارآمد بنا دیتا ہے۔ (۱-پطرس ۱:۶، ۷) آپ اپنی طاقت کے بل بوتے پر کامیابی کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے، آپ کو مدد کے لئے یہوؔواہ پر آس لگانی چاہئے۔ یسوؔع نے اپنے شاگردوں کو تاکید کی: ”جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو۔“ (متی ۲۶:۴۱) تربیت اور ضبطِنفس نہایت اہم ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۹:۲۷۔
۶ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ اپنے چالچلن کے لئے یہوؔواہ کے حضور جوابدہ ہیں۔ (واعظ ۱۱:۹) اگرچہ آپ جو کچھ کرتے ہیں شاید اُسے دوسرے تو نہ دیکھتے ہوں تو بھی جو کچھ آپ کرتے ہیں یہوؔواہ کو اُس کی خبر ہے اور عدالت کرے گا۔ (عبرانیوں ۴:۱۳) اُسے خوش کرنے کی ایک مخلصانہ خواہش آپ کو ’ڈرتے اور کانپتے ہوئے اپنی نجات کا کام‘ کرنے کی تحریک دے گی۔ (فلپیوں ۲:۱۲) خدا کے کلام کو روزانہ پڑھنا ایک بڑی مدد ہے۔ یہ تقلید کیلئے شاندار مشورت اور عمدہ مثالوں سے معمور ہے۔—عبرانیوں ۱۲:۱-۳۔
۷ والدین، آپ کا کردار نہایت اہم ہے۔ آپ کو اپنے بچوں کی نگرانی کرنے کی ضرورت ہے، جن مسائل کا وہ سامنا کرتے ہیں اُن سے واقف ہوں، اور ضرورت کے وقت مدد مہیا کریں۔ کیا آپ اپنے بچوں کے ساتھ عمدہ رشتہ رکھتے ہیں؟ کیا آپ نے خدا کے قوانین اور اصولوں کی قدرشناس سمجھ اُن کے ذہننشین کی ہے؟ جب دباؤ یا آزمائشوں کا سامنا ہو تو کیا آپ کے بچے مضبوط ہیں، یا بآسانی ہمت ہار جاتے ہیں؟ کیا وہ بےحوصلہ ہو جاتے ہیں اس لئے کہ اُنہیں اپنے ساتھیوں سے فرق ہونا پڑتا ہے؟ والدین کے طور پر، اُن کی مدد کرنا آپ کی ذمہداری ہے۔ (استثنا ۶:۶، ۷) اگر آپ اپنا کام اچھی طرح سے کرتے ہیں تو آپ ایمان کی جنگ میں فاتح بننے میں اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔—امثال ۲۲:۶۔