آپ کو کس قسم کے اشخاص ہونا چاہئے؟
۱ تمام نوعِانسان کے لئے حساب کا وقت قریب آتا ہے۔ بائبل اِسے ”یہوواہ کا دن“ کہتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب الہٰی عدالت کو شریروں کے خلاف عمل میں لایا جائے گا؛ یہ راستبازوں کے لئے مخلصی کا وقت بھی ہے۔ تب جس طرح تمام زندہ اشخاص نے اپنی زندگیاں گزاری ہیں اُن سے اُس کا حساب لیا جائے گا۔ اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے، پطرؔس ایک غورطلب سوال اُٹھاتا ہے: ”تمہیں . . . کیسا کچھ ہونا چاہئے“؟ وہ ’پاک چالچلن، خدائی عقیدت کے کاموں اور یہوؔواہ کے دن کا مشتاق ہونے‘ کی اہمیت، اور ’بیداغ، بےعیب، اور مطمئن ہونے‘ کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔—۲-پطرس ۳:۱۱-۱۴۔
۲ پاک چالچلن اور خدائی عقیدت کے کام: پاک چالچلن میں وہ قابلِتقلید کام شامل ہیں جو بائبل اصولوں کیلئے احترام ظاہر کرتے ہیں۔ (ططس ۲:۷، ۸) ایک مسیحی کو ایسے دُنیاوی چالچلن سے گریز کرنا چاہئے جو خودغرضانہ، جسمانی خواہشات سے تحریک پاتا ہے۔—رومیوں ۱۳:۱۱، ۱۴۔
۳ ”خدائی عقیدت“ کو ”خدا کے ساتھ ایسی ذاتی وابستگی“ کے طور پر بیان کِیا جاتا ہے ”جو اُسکی پسندیدہ خوبیوں کیلئے گہری قدردانی سے تحریک پا کر دل سے نکلتی ہے۔“ خدمتگزاری میں ہمارا جوش ایک نمایاں طریقہ ہے جس سے ہم اِس خوبی کو ظاہر کرتے ہیں۔ منادی میں ہمارا محرک محض احساسِذمہداری سے کہیں آگے بڑھ جاتا ہے؛ یہ یہوؔواہ کے لئے گہری محبت سے نکلتا ہے۔ (مرقس ۱۲:۲۹، ۳۰) ایسی محبت سے تحریک پاکر، ہم اپنی خدمتگزاری کو خدائی عقیدت کے معنیخیز اظہار کے طور پر خیال کرتے ہیں۔ چونکہ ہماری عقیدت کا دائمی ہونا ضرور ہے، منادی کے کام میں ہماری شرکت کو بااصول ہونا چاہئے۔ اِسے ہماری کارگزاری کے ہفتہوار جدوَل کا لازمی جُزو ہونا چاہئے۔—عبرانیوں ۱۳:۱۵۔
۴ یہوؔواہ کے دن کا ”مشتاق“ ہونے کا مطلب، اِسے پسِمنظر میں کسی غیراہم جگہ پر کبھی نہ رکھتے ہوئے، اِسے اپنے روزانہ کے خیالات میں مُقدم رکھنا ہے۔ اسکا مطلب اپنی زندگیوں میں بادشاہتی مفادات کو مُقدم رکھنا ہے۔—متی ۶:۳۳۔
۵ بیداغ، بےعیب اور مطمئن: بڑی بھیڑ کے حصے کے طور پر، ہم نے ’اپنے جامے برّہ کے خون سے دھو کر سفید‘ کئے ہیں۔ (مکاشفہ ۷:۱۴) تو پھر، ”بیداغ“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ثابتقدمی سے دُنیا کی ناپاکیوں سے داغدار ہونے کے خلاف اپنی پاکیزہ، مخصوصشُدہ زندگیوں کی حفاظت کرنی چاہئے۔ ہم بیدین، مادہپرستانہ حاصلات کو اپنی مسیحی شخصیت کو بگاڑنے کی اجازت نہ دینے سے خود کو ”بیداغ“ رکھتے ہیں۔ (یعقوب ۱:۲۷؛ ۱-یوحنا ۲:۱۵-۱۷) ہم دوسروں کے ساتھ اپنے تمامتر تعلقات میں ”خدا کا اطمینان“ منعکس کرنے سے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ”اطمینان کی حالت میں“ زندگی بسر کر رہے ہیں۔—فلپیوں ۴:۷؛ رومیوں ۱۲:۱۸؛ ۱۴:۱۹۔
۶ اگر ہم دُنیاوی آلودگی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم ”اِس جہان کے ہمشکل“ ہرگز نہیں بنیں گے، جسکی یہوؔواہ نے مذمت کی ہے۔ اسکی بجائے، ہمارے عمدہ کام ”خدا کی عبادت کرنے والے اور نہ کرنے والے میں“ امتیاز کرنے کے لئے دوسروں کی مدد کریں گے۔—رومیوں ۱۲:۲؛ ملاکی ۳:۱۸۔
۷ ہم سب ”شادمان مدّاحین“ ڈسٹرکٹ کنونشن پر حاضر ہو رہے ہوں گے، اور فرحتبخش روحانی کھانا یقیناً خدائی عقیدت کیلئے ہماری خواہش کو تیز کریگا۔ بہت سے نئے اشخاص کی یہی خواہش ہوگی۔ ہم میدانی خدمت میں شرکت کرنے کیلئے اُن کی مدد کرنے کے باعث ایک برکت ہو سکتے ہیں۔
۸ جب ہم فرضشناسی کے ساتھ ”نیک کاموں“ کو کرتے رہتے ہیں تو یہوؔواہ کے نام کی بڑائی ہوتی ہے، کلیسیا کو مضبوط کیا جاتا اور دوسروں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ (۱-پطرس ۲:۱۲) دُعا ہے کہ ہم ہمیشہ اِسی قِسم کے شخص ہوں۔