کیا آپ ”منتظر اور مشتاق“ رہ سکتے ہیں؟
”جب یہ چیزیں اس طرح پگھلنے والی ہیں تو تمہیں پاک چالچلن اور دینداری میں کیسا کچھ ہونا چاہئے!“ —۲-پطرس ۳:۱۱، ۱۲۔
۱، ۲. ہم یہوواہ کے دن کے ”منتظر اور مشتاق“ کیسے رہ سکتے ہیں؟
ایک ایسے خاندان کا تصور کریں جو کھانے کے لئے مدعو مہمانوں کا منتظر ہے۔ اُن کی آمد کا وقت نزدیک آ رہا ہے۔ بیوی جلدیجلدی کھانا تیار کرنے میں مصروف ہے۔ اُس کا شوہر اور بچے مدد کر رہے ہیں تاکہ سب کام قرینے سے انجام پائے۔ سب لوگ بہت خوش ہیں۔ پورا خاندان مہمانوں کا منتظر ہےاور لذیذ کھانے اور عمدہ رفاقت کا مشتاق ہے۔
۲ مسیحیوں کے طور پر ہم اس سے بھی اہم چیز کے منتظر ہیں۔ ہم کس چیز کے منتظر ہیں؟ ہم سب ’یہوواہ کے دن‘ کے منتظر ہیں! جب تک یہ دن نہیں آ جاتا ہمیں میکاہ نبی کی طرح ہونا چاہئے جس نے کہا تھا: ”مَیں [یہوواہ] کی راہ دیکھونگا اور اپنے نجات دینے والے خدا کا انتظار کرونگا۔“ (میکاہ ۷:۷) کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنا چاہئے؟ ہرگز نہیں۔ ابھی بہت کام باقی ہے۔
۳. دوسرا پطرس ۳:۱۱، ۱۲ کے مطابق، مسیحیوں کو کیسا میلان رکھنا چاہئے؟
۳ پطرس رسول انتظار کے دوران مناسب میلان رکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: ”تمہیں پاک چالچلن اور دینداری میں کیسا کچھ ہونا چاہئے۔ اور خدا کے اُس دن کے آنے کا کیسا کچھ منتظر اور مشتاق رہنا چاہئے!“ (۲-پطرس ۳:۱۱، ۱۲) پطرس نے یہ بات سوالیہ انداز میں نہیں کہی تھی۔ اپنے دونوں الہامی خطوط میں اُس نے بیان کِیا کہ مسیحیوں کو کس قِسم کے لوگ ہونا چاہئے۔ اُس نے اُنہیں ”پاک چالچلن اور دینداری“ کو قائم رکھنے کی بھی نصیحت کی تھی۔ اگرچہ یسوع کو ’دُنیا کے خاتمے کا نشان‘ دئے ہوئے تقریباً ۳۰ سال بیت چکے تھے توبھی مسیحیوں کو مسلسل چوکس رہنے کی ضرورت تھی۔ (متی ۲۴:۳) اُنہیں یہوواہ کے دن کے آنے کے ”منتظر اور مشتاق“ رہنا تھا۔
۴. ’یہوواہ کے دن کے مشتاق‘ رہنے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۴ یونانی لفظ جس کا ترجمہ یہاں ”منتظر رہنا“ کِیا گیا ہے اُس کا لفظی مطلب ”تیزی پیدا کرنا“ ہے۔ بیشک ہم یہوواہ کے دن کے آنے میں تو کوئی ’تیزی پیدا‘ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہم ”اُس دن اور اُس گھڑی کی بابت“ کچھ نہیں جانتے جب یسوع مسیح اپنے باپ کے دُشمنوں کو سزا دینے کے لئے آئے گا۔ (متی ۲۴:۳۶؛ ۲۵:۱۳) ایک حوالہجاتی کتاب بیان کرتی ہے کہ اصطلاح ”تیزی پیدا کرنا“ کے اصل فعل کا یہاں مطلب ’جلدی کرنا‘ ہے جس کا ’سرگرم، فعال اور کسی چیز کی بابت فکرمند ہونے‘ سے گہرا تعلق ہے۔ پس پطرس ساتھی ایمانداروں کو تاکید کر رہا تھا کہ وہ یہوواہ کے دن کے ”مشتاق“ رہیں۔ وہ اسے متواتر ذہن میں رکھنے سے ایسا کر سکتے تھے۔ (۲-پطرس ۳:۱۲) ’یہوواہ کا خوفناک روزِعظیم‘ چونکہ اب بہت قریب ہے اس لئے ہمیں بھی ایسا ہی ذہنی میلان رکھنا چاہئے۔—یوایل ۲:۳۱۔
”پاک چالچلن“ کے ساتھ منتظر رہیں
۵. ہم یہ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ ہم ’یہوواہ کے دن‘ کے ”مشتاق“ ہیں؟
۵ اگر ہم یہوواہ کے دن سے بچنے کے ”مشتاق“ ہیں تو ہم اسے اپنے ”پاک چالچلن اور دینداری“ سے ظاہر کرینگے۔ اصطلاح ”پاک چالچلن“ ہمیں پطرس کی اس نصیحت کی بھی یاد دلاتی ہے: ”فرمانبردار فرزند ہو کر اپنی جہالت کے زمانہ کی پُرانی خواہشوں کے تابع نہ بنو۔ بلکہ جس طرح تمہارا بلانے والا پاک ہے اُسی طرح تم بھی اپنے سارے چالچلن میں پاک بنو۔ کیونکہ لکھا ہے کہ پاک ہو اسلئےکہ مَیں پاک ہوں۔“—۱-پطرس ۱:۱۴-۱۶۔
۶. پاک بننے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۶ پاک بننے کے لئے ہمیں جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی پاکیزگی برقرار رکھنی ہوگی۔ کیا ہم یہوواہ کے نام سے کہلانے والے لوگوں کے طور پر خود کو پاکصاف رکھنے سے ’یہوواہ کے دن‘ کے لئے تیاری کر رہے ہیں؟ آج کے دَور میں ایسی پاکیزگی برقرار رکھنا آسان نہیں کیونکہ دُنیا کے اخلاقی معیاروں میں بڑی تیزی سے تنزلی واقع ہو رہی ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۳۱؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۳) کیا ہم اپنے اخلاقی معیاروں اور دُنیا کے معیاروں میں زیادہ فرق پاتے ہیں؟ اگر نہیں تو یہ ہمارے لئے فکر کی بات ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے اپنے معیار دُنیا کے معیاروں سے اعلیٰ ہونے کے باوجود تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں معاملات کو درست کرنے اور خدا کو خوش کرنے کے لئے مثبت قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔
۷، ۸. (ا) ہم ”پاک چالچلن“ رکھنے کی اہمیت کو کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں؟ (ب) کیسی اصلاح کی ضرورت ہو سکتی ہے؟
۷ اب بڑی آزادی کے ساتھ انٹرنیٹ پر فحاشی دستیاب ہے جس کی وجہ سے پہلے جن لوگوں کو ایسے اخلاقسوز مواد تک رسائی حاصل نہیں تھی اب وہ بھی ایک ڈاکٹر کے مطابق، ”جنسی مواقعوں کی لامحدود دستیابی“ سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔“ اگر ہم انٹرنیٹ پر ایسی فحش سائٹس کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں تو ہم یقیناً ”ناپاک چیزوں کو ہاتھ نہ لگاؤ“ سے متعلق بائبل کے حکم کو نظرانداز کر رہے ہوں گے۔ (یسعیاہ ۵۲:۱۱) ایسا کرنے سے کیا ہم واقعی ’یہوواہ کے دن کے منتظر‘ رہ رہے ہونگے؟ یا کیا ہم یہ سوچ کر اُس دن کو التوا میں ڈال رہے ہونگے کہ اگر ہم اپنے ذہن کو غلط مواد سے آلودہ کر بھی لیتے ہیں تو کوئی بات نہیں کیونکہ ابھی ہمارے پاس اسے صاف کرنے کا وقت ہے؟ اگر ہمیں اس قِسم کے مسائل کا سامنا ہے تو یہوواہ سے یہ دُعا کرنا کتنا موزوں ہوگا کہ وہ ’ہماری آنکھوں کو بطلان پر نظر کرنے سے باز رکھے اور ہمیں اپنی راہوں میں زندہ کرے‘!—زبور ۱۱۹:۳۷۔
۸ نوجوان اور عمررسیدہ یہوواہ کے گواہ خدا کے اعلیٰ اخلاقی معیاروں کی پابندی کرتے اور اس دُنیا کی بداخلاقی سے کنارہ کرتے ہیں۔ اپنے زمانے کی نزاکت اور پطرس کی اس آگاہی کی اہمیت سے باخبر رہتے ہوئے کہ ”[یہوواہ] کا دن چور کی طرح آ جائیگا“ وہ ”پاک چالچلن“ قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (۲-پطرس ۳:۱۰) اُن کے کام ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ’خدا کے اُس دن کے منتظر اور مشتاق‘ ہیں۔a
”دینداری“ کے ساتھ منتظر رہیں
۹. دینداری کو ہمیں کیا کرنے کی تحریک دینی چاہئے؟
۹ اگر ہم نے یہوواہ کے دن کو ذہن میں رکھنا ہے تو ہمیں ”دینداری“ کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ”دینداری“ میں خدا کی تعظیم شامل ہے جو ہمیں خدا کی نظر میں راست کام کرنے کی تحریک دیتی ہے۔ یہوواہ کے ساتھ وفادارانہ وابستگی دراصل دینداری کا محرک ہے۔ یہوواہ چاہتا ہے کہ ”سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں۔“ (۱-تیمتھیس ۲:۴) خدا ”کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔“ (۲-پطرس ۳:۹) پس، کیا ہماری دینداری کو ہمیں یہوواہ کی بابت جاننے اور اُس کی نقل کرنے میں لوگوں کو مدد دینے کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کرنے کی تحریک نہیں دینی چاہئے؟—افسیوں ۵:۱۔
۱۰. ہمیں ”دولت کے فریب“ سے کیوں خبردار رہنا چاہئے؟
۱۰ اگر ہم پہلے خدا کی بادشاہت کی تلاش کرتے ہیں تو ہماری زندگی دینداری کے کاموں سے معمور ہوگی۔ (متی ۶:۳۳) اس میں مادی چیزوں کی بابت متوازن نظریہ رکھنا بھی شامل ہے۔ یسوع نے آگاہ کِیا: ”خبردار! اپنےآپ کو ہر طرح کے لالچ سے بچائے رکھو کیونکہ کسی کی زندگی اُس کے مال کی کثرت پر موقوف نہیں۔“ (لوقا ۱۲:۱۵) اگرچہ ہمارے لئے خود کو دولت کی محبت میں اندھے ہوتے دیکھنا بڑا مشکل ہے توبھی ہمارا اس بات پر دھیان دینا اچھا ہے کہ ”دُنیا کی فکر اور دولت کا فریب“ خدا کے ”کلام کو دبا“ سکتا ہے۔ (متی ۱۳:۲۲) شاید گزارا کرنا اتنا آسان نہ ہو۔ دُنیا کے بعض خطوں میں، بہتیرے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اچھی زندگی بسر کرنے کے لئے اُنہیں کئی سال کے لئے اپنا گھربار چھوڑ کر کسی متموّل ملک میں جانے کی ضرورت ہے۔ خدا کے بعض لوگوں نے بھی ایسا ہی سوچا ہے۔ کسی دوسرے ملک جاکر شاید وہ اپنے خاندان کو جدید سہولتیں فراہم کر سکیں۔ تاہم، پیچھے اُن کے عزیزوں کی روحانی حالت کے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے؟ گھر میں مناسب سرداری نہ ہونے کی وجہ سے، کیا وہ یہوواہ کے دن سے بچنے کے لئے مناسب روحانیت برقرار رکھ سکیں گے؟
۱۱. ایک نقلمکانی کرنے والے شخص نے کیسے ظاہر کِیا کہ دینداری دولت سے زیادہ اہم ہے؟
۱۱ فلپائن سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے جاپان میں یہوواہ کے گواہوں سے سچائی سیکھی جو یہاں کام کے لئے آیا ہوا تھا۔ سرداری کی صحیفائی ذمہداریوں سے آگاہ ہونے کے بعد اُسے اس بات کا احساس ہو گیا کہ یہوواہ کے پرستار بننے کے لئے اُس کے خاندان کو اُس کی مدد درکار ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۳) تاہم، اُس کی بیوی نے اُس کے نئے ایمان کی سخت مخالفت کی اور اُسے واپس فلپائن آ کر اپنے خاندان کو بائبل پر مبنی اعتقادات سکھانے کی بجائے پیسے بھیجتے رہنے کے لئے کہا۔ تاہم، وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اور اپنے عزیزوں کے لئے فکرمندی کے جذبے سے تحریک پاکر وہ وطن واپس لوٹ گیا۔ اُس کا صبر کے ساتھ اپنے خاندان کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ بااَجر ثابت ہوا۔ وقت آنے پر اُس کا خاندان پرستش میں متحد ہو گیا اور اُس کی بیوی نے کُلوقتی خدمت شروع کر دی۔
۱۲. ہمیں روحانی مفادات کو زندگی میں پہلا درجہ کیوں دینا چاہئے؟
۱۲ ہماری صورتحال کو ایک جلتی ہوئی عمارت میں موجود اشخاص سے تشبِیہ دی جا سکتی ہے۔ کیا جلد ہی جل کر راکھ ہونے والی اِس عمارت میں مادی اشیا اکٹھی کرنے کے لئے دیوانہوار بھاگنا دانشمندی ہوگی؟ اس کی بجائے، کیا زیادہ اہم اپنی، اپنے خاندان اور اُس عمارت میں رہنے والے دیگر لوگوں کی زندگیاں بچانا نہیں ہوگا؟ اسی طرح، یہ بدکار دستوراُلعمل بڑی تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے اور زندگیاں خطرے میں ہیں۔ یہ بات سمجھتے ہوئے ہمیں یقیناً روحانی مفادات کو پہلا درجہ دینے کے علاوہ گرمجوشی سے زندگی بچانے والے بادشاہتی منادی کے کام پر توجہ دینی چاہئے۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۶۔
ہمیں ”بیداغ“ ہونا چاہئے
۱۳. جب یہوواہ کا دن آتا ہے تو ہمیں کس حالت میں پایا جانا چاہئے؟
۱۳ منتظر رہنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، پطرس بیان کرتا ہے: ”پس اَے عزیزو! چونکہ تم اِن باتوں کے منتظر ہو اس لئے اُس کے سامنے اطمینان کی حالت میں بیداغ اور بےعیب نکلنے کی کوشش کرو۔“ (۲-پطرس ۳:۱۴) اپنی نصیحت کو پاک چالچلن اور دینداری سے آگے بڑھاتے ہوئے، پطرس اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہمیں یہوواہ کی نظر میں یسوع کے بہائے ہوئے خون کی بنیاد پر پاک اشخاص بننا چاہئے۔ (مکاشفہ ۷:۹، ۱۴) اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک شخص یسوع کی قربانی پر ایمان لائے اور یہوواہ کا مخصوصشُدہ اور بپتسمہیافتہ خادم بنے۔
۱۴. ”بیداغ“ ہونے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۱۴ پطرس تاکید کرتا ہے کہ ہمیں ”بیداغ“ نکلنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ کیا ہم اپنے مسیحی چالچلن اور شخصیت کو دُنیا کی آلودگی سے بیداغ رکھ رہے ہیں؟ جب ہمیں اپنے کپڑوں پر کوئی داغ نظر آتا ہے تو ہم اُسے فوراً ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر معاملہ کسی پسندیدہ لباس کا ہو تو ہم اُسے بالخصوص صاف کرنے کی ازحد کوشش کرتے ہیں۔ کیا جب ہماری شخصیت یا چالچلن میں کسی نقص کی وجہ سے ہمارا مسیحی لباس داغدار ہو جاتا ہے تو ہم ایسا ہی محسوس کرتے ہیں؟
۱۵. (ا) اسرائیلیوں کے لئے اپنے لباس کے دامن پر جھالر لگانا کیوں ضروری تھا؟ (ب) زمانۂجدید کے یہوواہ کے گواہ دوسروں سے فرق کیوں نظر آتے ہیں؟
۱۵ اسرائیلیوں کو ”اپنے پیراہنوں کے کناروں پر جھالر“ لگانی اور ”ہر کنارے کی جھالر کے اُوپر آسمانی رنگ کا ڈورا“ ٹانکنا تھا۔ کیوں؟ اسلئےکہ وہ یہوواہ کے احکام کو یاد رکھیں، اُن کی فرمانبرداری کریں اور ”اپنے خدا کے لئے مُقدس“ بنیں۔ (گنتی ۱۵:۳۸-۴۰) زمانۂجدید کے یہوواہ کے خادموں کے طور پر، ہم دُنیا سے فرق نظر آتے ہیں کیونکہ ہم الہٰی قوانین اور اُصولوں کی پیروی کرتے ہیں۔ مثلاً، ہم اخلاقی طور پر پاکصاف رہتے، خون کے تقدس کا لحاظ رکھتے اور ہر قِسم کی بُتپرستی سے گریز کرتے ہیں۔ (اعمال ۱۵:۲۸، ۲۹) خود کو آلودگی سے پاک رکھنے کے ہمارے مضبوط مؤقف کی وجہ سے بہتیرے ہماری عزت کرتے ہیں۔—یعقوب ۱:۲۷۔
ہمیں ”بےعیب“ ہونا چاہئے
۱۶. خود کو ”بےعیب“ رکھنے میں کیا کچھ شامل ہے؟
۱۶ پطرس نے کہا کہ ہمیں ”بےعیب“ بھی ہونا چاہئے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ایک داغ کو عموماً صاف کِیا جا سکتا ہے مگر کسی عیب کو دُور کرنا آسان نہیں ہوتا۔ عیب باطن میں پیدا ہونے والی خرابی کو ظاہر کرتا ہے۔ پولس رسول نے فلپی کے ساتھی مسیحیوں کو یہ نصیحت کی: ”سب کام شکایت اور تکرار بغیر کِیا کرو۔ تاکہ تم بےعیب اور بھولے ہو کر ٹیڑھے اور کجرو لوگوں میں خدا کے بےنقص فرزند بنے رہو جن کے درمیان تم دُنیا میں چراغوں کی طرح دکھائی دیتے ہو۔“ (فلپیوں ۲:۱۴، ۱۵) اگر ہم اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں تو ہم شکایت اور تکرار کرنے سے گریز کرینگے اور نیکنیتی سے خدا کی خدمت کرینگے۔ جب ہم ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی“ کرتے ہیں تو ہم یہوواہ اور اپنے پڑوسی کے لئے محبت سے تحریک پا کر ایسا کرتے ہیں۔ (متی ۲۴:۱۴؛ ۲۲:۳۵-۴۰) مزیدبرآں، اگر لوگ یہ نہ بھی سمجھ پائیں کہ ہم کیوں دوسروں کی خدا اور اُس کے کلام بائبل کی بابت سیکھنے میں مدد کرنے کے لئے اپنا وقت خرچ کرتے ہیں توبھی ہم خوشخبری کی منادی کرتے رہینگے۔
۱۷. جب ہم مسیحی کلیسیا میں استحقاقات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارا محرک کیا ہونا چاہئے؟
۱۷ ”بےعیب“ پائے جانے کی خواہش کے ساتھ تمام حلقوں میں اپنے محرکات کا جائزہ لینا ہمارے لئے اچھا ہوگا۔ ہم دُنیا کی طرح دولت یا اقتدار کے لالچ میں خودغرضی سے کام نہیں کرتے۔ اگر ہم مسیحی کلیسیا میں استحقاقات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دُعا ہے کہ ہمارے محرکات ہمیشہ یہوواہ اور دیگر لوگوں کے لئے محبت سے ترغیب پاتے ہوئے خالص رہیں۔ یہوواہ اور ساتھی ایمانداروں کی خدمت کرنے کے جذبے اور فروتنی کے ساتھ روحانی اشخاص کو ’نگہبان کا عہدہ حاصل کرنے کی جستجو کرتے دیکھنا‘ کتنا تازگیبخش ہے۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱؛ ۲-کرنتھیوں ۱:۲۴) بِلاشُبہ، بزرگوں کے طور پر خدمت انجام دینے والے لائق اشخاص ’خدا کی مرضی کے موافق خوشی سے اور ناجائز نفع کے لئے نہیں بلکہ دلی شوق سے نگہبانی کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اُن کے سپرد ہیں اُن پر حکومت نہیں جتاتے بلکہ گلّہ کے لئے نمونہ بنتے ہیں۔‘—۱-پطرس ۵:۱-۴۔
ہمیں ”اطمینان“ کی حالت میں رہنا چاہئے
۱۸. یہوواہ کے گواہ کونسی صفات کے لئے مشہور ہیں؟
۱۸ آخر میں، پطرس ہمیں ”اطمینان“ کی حالت میں رہنے کا حکم دیتا ہے۔ اس تقاضے پر پورا اُترنے کے لئے یہوواہ اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اطمینان کی حالت میں رہنا ضروری ہے۔ پطرس ”آپس میں بڑی محبت“ رکھنے اور ساتھی مسیحیوں کے ساتھ اطمینان کی حالت میں رہنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ (۱-پطرس ۲:۱۷؛ ۳:۱۰، ۱۱؛ ۴:۸؛ ۲-پطرس ۱:۵-۷) اپنا اطمینان قائم رکھنے کے لئے ہمیں اپنے اندر محبت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ (یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵؛ افسیوں ۴:۱، ۲) جب ہمارے بینالاقوامی کنونشن منعقد ہوتے ہیں تو یہ محبت اور اطمینان بالخصوص نمایاں ہوتے ہیں۔ سن ۱۹۹۹ میں، کوسٹاریکا میں ایک کنونشن کے لئے آنے والے مندوبین کے استقبال کے لئے مقامی گواہوں کا بہت بڑا ہجوم ائیرپورٹ آیا۔ یہاں چیزیں بیچنے والا ایک شخص اُن پر بہت ناراض ہوا کیونکہ اتنے بڑے ہجوم کی وجہ سے اُس کی دُکان کسی کو نظر نہیں آ رہی تھی۔ تاہم، دوسرے دن، اُس نے دیکھا کہ اگرچہ مقامی گواہ اِن لوگوں کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے توبھی مندوبین کا خیرمقدم نہایت جوشوخروش کے ساتھ کِیا جا رہا تھا جس سے محبت اور اطمینان عیاں تھا۔ آخری دن پر یہ شخص بھی خیرمقدم کرنے والوں کی صفوں میں شامل ہو گیا اور ایک بائبل مطالعے کے لئے درخواست بھی کی۔
۱۹. ساتھی ایمانداروں کے ساتھ صلح کے طالب ہونا کیوں ضروری ہے؟
۱۹ اپنے روحانی بہن بھائیوں کے ساتھ اطمینان کی حالت میں رہنے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم کتنے اشتیاق کے ساتھ یہوواہ کے دن اور اُس کی وعدہ کی ہوئی نئی دُنیا کے منتظر ہیں۔ (زبور ۳۷:۱۱؛ ۲-پطرس ۳:۱۳) فرض کریں کہ ہم کسی ساتھی ایماندار کے ساتھ صلح سے رہنا مشکل پاتے ہیں۔ کیا ہم خود کو فردوس میں اُس کے ساتھ امن اور اطمینان سے رہتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں؟ اگر کسی بھائی کو ہم سے کوئی شکایت ہے تو ہمیں فوراً ’اُس کے ساتھ صلح کرنی چاہئے۔‘ (متی ۵:۲۳، ۲۴) اگر ہم نے یہوواہ کے ساتھ اطمینان کی حالت میں رہنا ہے تو ایسا کرنا نہایت اہم ہے۔—زبور ۳۵:۲۷؛ ۱-یوحنا ۴:۲۰۔
۲۰. ہم کن طریقوں سے ”منتظر اور مشتاق“ رہنے کا اظہار کر سکتے ہیں؟
۲۰ کیا ہم انفرادی طور پر ’خدا کے اُس دن کے آنے کے منتظر اور مشتاق ہیں‘؟ اس بداخلاق دُنیا میں پاک رہنے سے ہی ہم اس شریر نظام کا خاتمہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کر سکتے ہیں۔ علاوہازیں، یہوواہ کے دن کے آنے اور اُس کے بادشاہتی اختیار کے تحت زندگی بسر کرنے کا ہمارا اشتیاق ہماری دینداری سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہماری پُرامن نئی دُنیا میں زندہ رہنے کی توقعات کا اظہار اس وقت ساتھی پرستاروں کے ساتھ صلح کے طالب ہونے کی جستجو سے ہوتا ہے۔ اس طرح ہم ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ’یہوواہ کے دن کے آنے کے منتظر اور مشتاق ہیں۔‘
[فٹنوٹ]
a مثالوں کے لئے، جنوری ۱، ۲۰۰۰ کے مینارِنگہبانی کے صفحہ ۱۶ اور ۱۹۹۷ ائیر بُک آف جیہوواز وِٹنسز کا صفحہ ۵۱ پڑھیں۔
کیا آپکو یاد ہے؟
• ’یہوواہ کے دن کا منتظر اور مشتاق رہنے‘ سے کیا مُراد ہے؟
• ہمارا چالچلن ”مشتاق“ رہنے کو کیسے ظاہر کرتا ہے؟
• ”دینداری“ کیوں اہم ہے؟
• یہوواہ کی نظر میں ’بیداغ، بےعیب اور اطمینان کی حالت‘ میں پائے جانے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
[صفحہ ۱۱ پر تصویر]
پاک چالچلن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ”منتظر اور مشتاق“ ہیں
[صفحہ ۱۲ پر تصویریں]
بادشاہتی منادی کا کام زندگی بچانے والا ہے
[صفحہ ۱۴ پر تصویر]
ہمیں یہوواہ کے دن کے انتظار میں دوسروں کیساتھ صلح کے طالب ہونا چاہئے