یہوؔواہ طاقت بخشتا ہے
۱ یہوؔواہ کے لوگوں کے طور پر، ہمیں ”غیرقوموں میں“ اپنا چالچلن نیک رکھتے ہوئے خوشخبری کی منادی کرنے کی تفویض دی گئی ہے۔ (۱-پطرس ۲:۱۲؛ متی ۲۴:۱۴) تشویشناک اوقات اور اپنی ذاتی کمزوریوں اور خطاؤں کے پیشِنظر، ہم اِس کام کو خود سے کبھی انجام نہیں دے سکتے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) ہم کتنے خوش ہیں کہ ہم مدد کے لئے یہوؔواہ پر آس رکھ سکتے ہیں!
۲ پولسؔ رسول نے بہت سی آزمائشوں کی برداشت کی۔ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۲۳-۲۷) وہ کیونکر اِن کا مقابلہ کرنے اور اپنے تفویضشُدہ کام کو ختم کرنے کے قابل ہوا تھا؟ یہوؔواہ نے اُسے ”حد سے زیادہ قدرت“ عطا کی۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۷) پولسؔ نے ایسی الہٰی مدد کا اعتراف کِیا جب اُس نے لکھا: ”جو مجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کچھ کر سکتا ہوں۔“ (فلپیوں ۴:۱۳) اِسی طریقے سے یہوؔواہ ہماری بھی مدد کرے گا۔ ہم یہ مدد کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
۳ بِلاناغہ دُعا کرنے سے: یسوؔع نے ہمیں ’مانگتے، ڈھونڈتے اور دروازہ کھٹکھٹاتے رہنے‘ اور ہمت نہ ہارنے کی تاکید کی۔ (لوقا ۱۱:۵-۱۰) ہمارا دُعا میں مشغول رہنا یہوؔواہ پر ہماری گہری فکر، ہماری خواہش کی شدت، اور ہمارے محرک کی صداقت کو ظاہر کرتا ہے۔ (زبور ۵۵:۱۷؛ ۸۸:۱، ۱۳؛ رومیوں ۱:۹-۱۱) پولسؔ نے جب ہمیں ”بِلاناغہ دُعا کرنے“ کی تاکید کی تو اُس نے دُعا میں مشغول رہنے کی اہمیت کو پہچان لیا۔ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۷) دُعا اُن بنیادی طریقوں میں سے ایک ہے جن سے ہم یہوؔواہ کی مدد حاصل کرتے ہیں۔
۴ تھیوکریٹک راہنمائی کی پیروی کرنے سے: ”تھیوکریسی“ کا مطلب ”خدا کے ذریعے حکمرانی“ ہے جو کہ محبت ہے۔ ہم چھوٹے بڑے فیصلوں میں اُسکی ہدایات پر چلنے اور اُسکے اختیار کو تسلیم کرنے سے اُسکی حکمرانی سے مستفید ہوتے ہیں۔ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ اِس زمین پر تھیوکریٹک حکمرانی کی نمائندگی کرتا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) اگر ہمیں یہوؔواہ کی برکت حاصل کرنی ہے تو اُس تنظیم کے ساتھ تعاون لازمی ہے جسے ”نوکر“ استعمال کرتا ہے۔ (مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۳:۱۷۔) یہوؔواہ ہمیں عین وقت پر درکار طاقت فراہم کرنے سے اُس کے لئے ہماری وفاداری اور اُسکی شریعت کی فرمانبرداری کے لئے ہماری رضامندی کا اجر دیگا۔—عبرانیوں ۴:۱۶۔
۵ اپنے بھائیوں کی قربت میں رہنے سے: محبت یسوؔع کے شاگردوں کا شناختی نشان ہے۔ (یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵) مختلف اقسام کی شخصیات کی بدولت ذاتی اختلافات کی وجہ سے ہمارے درمیان پھوٹ پڑ سکتی ہے۔ ہمیں نہایت دردمند ہونے، آزادانہ طور پر ایک دوسرے کو معاف کرنے کی ضرورت ہے۔ (افسیوں ۴:۳۲) یہ اپنے ہمایمان بھائیوں کی قربت میں رہنے اور آزمائش کے تحت اُن کی ثابتقدم برداشت سے حوصلہ پانے کو ممکن بناتا ہے۔ ”یہ جانکر . . . کہ [ہمارے] بھائی جو دُنیا میں ہیں ایسے ہی دُکھ اُٹھا رہے ہیں،“ ہم اِسی طرح کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے خداداد قوت حاصل کرتے ہیں۔—۱-پطرس ۵:۹۔
۶ ذاتی مطالعے کا ایک اچھا معمول قائم رکھنے سے: اپنے دِلوں اور ذہنوں کو روحانی طور پر مضبوط بنانا ہمیں شیطان کے حملے سے بچنے کے قابل بناتا ہے۔ (۱-پطرس ۵:۸) ذاتی مطالعے کا ایک اچھا معمول ہمارے خدائی علم کے خزانے کو بڑھائیگا۔ ہم روزمرّہ کے چیلنجوں کا مقابلہ کرتے وقت اِس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ پولسؔ نے اِس بات پر زور دیا کہ ”صحیح علم“ نجات حاصل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ (۱-تیمتھیس ۲:۳، ۴، اینڈبلیو) باقاعدگی سے روحانی خوراک حاصل کرنا اشد ضروری ہے۔
۷ مضبوط رہنے میں ہماری مدد کرنے کے لئے تمام ضروری فراہمیاں مسیحی کلیسیا کے ذریعے بآسانی دستیاب ہیں۔ اِسکی کارگزاریوں کی مخلصانہ حمایت اِس بات کی ضمانت ہوگی کہ ہم ”چلینگے اور ماندہ نہ ہونگے۔“—یسعیاہ ۴۰:۲۹-۳۱۔